Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چاہے جتنی بھی جعلی ایم کیوایم بنالی جائیں،دنیاجانتی ہے کہ ایم کیوایم کابانی الطاف حسین ہے۔ 22 اگست 2016ء کی رات فوج نے ایم کیوایم کے خلاف جواقدامات اٹھائے، اس پرآج بھی اسی طرح عمل درآمد جاری ہے۔


چاہے جتنی بھی جعلی ایم کیوایم بنالی جائیں،دنیاجانتی ہے کہ ایم کیوایم کابانی الطاف حسین ہے۔  22  اگست 2016ء کی رات فوج نے ایم کیوایم کے خلاف جواقدامات اٹھائے، اس پرآج بھی اسی طرح عمل درآمد جاری ہے۔
 Posted on: 8/23/2025

22  اگست 2016ء کومیرے اورایم کیوایم کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کی جا نب سے سازش کی گئی، یہ سازش پہلی بارنہیں ہوئی تھی ،اس سے پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ نے ایم کیوایم کوکمزور کرنے کے لئے ایم کیوایم کے نام سے کئی جعلی تنظیمیں بنائیں۔ چاہے جتنی بھی جعلی ایم کیوایم بنالی جائیں،دنیاجانتی ہے کہ ایم کیوایم کابانی الطاف حسین ہے۔ 
22  اگست 2016ء کی رات فوج نے ایم کیوایم کے خلاف جواقدامات اٹھائے، اس پرآج بھی اسی طرح عمل درآمد جاری ہے۔ فوج نے 22  اگست 2016ء کوایم کیوایم کے خلاف جوآپریشن کیااس کی تیاریاں پہلے سے کی جارہی تھیں، ایم کیوایم کے کئی رہنماؤں، اراکین رابطہ کمیٹی اورارکان اسمبلی کومختلف مفادات کا لالچ دیکرپہلے ہی خریداجاچکا تھا۔23اگست 2016ء کی صبح انہوں نے پریس کانفرنس کرکے تحریک کے بانی و قائد سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ انہوں نے اپنے ظرف وضمیر کاسودا کرلیامگر کارکنان ثابت قدم رہے ۔جوکارکنان اپنی وفاداری کا سودا کرنے کیلئے تیار نہ ہوئے انہیں غداروں نے مخبریاں کرکے جبری لاپتہ کروایا جن میں سے بیشتر کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینک دی گئیں ۔ میں وفاپرست کارکنان کووصیت کرتا ہوں کہ قوم کے غداروں سے ان شہید کارکنان کے لہو کا حساب ضرور لینا ۔ 22، اگست2016ء کو میری رہائش گاہ ''نائن زیرو''، خورشید بیگم میموریل سیکریٹریٹ سمیت کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ بھرکے تمام زونل ، سیکٹراور یونٹ آفسز seal کردیئے گئے جوآج تک وفاپرست کارکنان کو واپس نہیں ملے ۔ تحریک کے خلاف یہ سب کچھ اس شخص کی موجودگی میں ہواجسے میں نے اعتماد کرتے ہوئے سندھ کا گورنر بنایا تھا اورجس نے میری پیٹھ میں چھراگھونپنے کاعمل کیا اور تحریک اورقوم کے مفادات کے لئے کام کرنے کے بجائے ان کے خلاف کام کیا۔ 
تمام تر پابندیوں کے باوجود پاکستان اوراوورسیز میں تحریک کا ایک ایک کارکن یوم ِ عزم ِ وفامنا رہا ہے ۔گھٹن زدہ ماحول میں بھی تحریک کی مائیں، بہنیں اوربیٹیاںشہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کے اجتماعات منعقد کرتی رہیں اور اپنے الطاف بھائی سے عہدِ وفا نبھاتی رہیں۔میں رابطہ کمیٹی کے کنوینروڈپٹی کنوینر ، سابقہ اراکین ، انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے معاونین ، میرے گھرپرڈیوٹیاں دینے والے ساتھیوں ،میں پاکستان اور اوورسیز یونٹوں   میں موجود ایک ایک کارکن اورذمہ دار کو دل کی گہرائی سے شاباش اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ 
22  اگست کوجوسازش الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کے خلاف کی گئی وہی سازشی عمل آج 9برس بعد عمران خان کے خلاف دہرایاجارہاہے۔ الطاف حسین ، اس کی تحریک اوراس کی فیملی کے خلاف یہ سازشی اورظالمانہ عمل برسوں سے کیاجارہاہے، 1979ء میں الطاف حسین کوگرفتارکرکے جنرل ضیاء الحق کی سمری ملٹری کورٹ نے 9ماہ قید اورپانچ کوڑوں کی سزا دی، پھرمزید 2مرتبہ پھر جنرل ضیا کے دورمیں ہی الطاف حسین کوگرفتارکرکے ذہنی وجسمانی اذیتیں دی گئیں، مجھ پر قاتلانہ حملے کئے گئے،میری پارٹی کے خلاف فوجی آپریشن کئے گئے، میرے ہزاروں کارکنوں کوماورائے عدالت قتل کیاگیا، لیکن کسی نے اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، جب ان مظالم سے مجھے نہیں جھکایا جاسکا تومجھے توڑنے کے لئے 1995ء میں میر ے بڑے بھائی ناصرحسین اور بھتیجے عارف حسین کوگرفتارکرکے تین روز تک تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد کراچی میں گڈاپ کے علاقے میں لیجا کر گولیاں مار کر شہید کردیا ، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگھرسے گرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں اذیتیں دی گئیں اورادھ مرا کرکے پھینک دیا گیا، بعد میں وہ بھی شہید ہوگئے ۔ میرے باقی بہن بھائیوں کوبھی مسلسل چھاپوں کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑکربیرون ملک جاناپڑا۔ یہ ظلم میرے خاندان کے ساتھ ہوتارہا لیکن سب خاموش رہے، کاش اس وقت عمران خان اوردیگرسیاسی ومذہبی رہنماان مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے۔
ستمبر 2015ء میں اسٹیبلشمنٹ نے لاہورہائیکورٹ کے ذریعے میری تقریراوربیانات کی نشرواشاعت پر پابندی لگادی، اس غیرآئینی وغیرقانونی پابندی کے خلاف بھی سب خاموش رہے،2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے ، انہوں نے بھی یہ پابندی ختم نہیں کرائی۔ عمران خان کو اقتدارسے باہر کرنے کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، وہ بچ گئے توگرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا، پھربھی عمران خان نہ ٹوٹاتوان کے اعصاب توڑنے کے لئے ان کی فیملی کونشانہ بنایاجارہاہے۔کل جب عمران خان کی سپریم کورٹ سے ضمانت منظورہوئی اورتحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان اس پر خوشیاں منارہے تھے کہ دوسری طرف عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھرپرچھاپہ مارکران کے بھانجے شاہ ریز کوگرفتارکیا گیااوردوسرے دن عدالت سے واپسی پر عمران خان کے دوسرے بھانجے شیرشاہ کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔ 
کاش کہ جب الطاف حسین کی فیملی کوریاستی مظالم کانشانہ بنایاجارہاتھا، اس وقت اگر عمران خان اورملک کے دیگرسیاسی ومذہبی رہنما اس ظلم کے خلاف آوازاٹھاتے توآج عمران خان کی فیملی کونشانہ نہ بنایاجارہا ہوتا۔ دوسری طرف الطاف حسین کاعمل یہ ہے کہ جب عمران خان، پر قاتلانہ حملہ ہوا، انہیں گرفتارکیا گیا اوران کی پارٹی کوریاستی مظالم کانشانہ بنایا گیا توپورے ملک میں واحد الطاف حسین تھا جس نے اس ظلم کے خلاف کھل کرآواز بلند کی اور آج تک آوازاٹھارہا ہے۔ اسی طرح جب نواز شریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز پرظلم ہواتو میں نے ان کیلئے بھی آواز اٹھائی۔ جہاں جہاں جس جس پر ظلم ہوا الطاف حسین نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی ۔ جب تک میرے جسم میں سانس ہے میں ہر ظلم کے خلاف آواز احتجاج بلند کرتا رہوں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میرا دل ایسا بنایا ہے کہ مجھ سے کسی پرظلم دیکھا نہیں جاتا ۔ میں عمران خان کی ہمشیرہ محترمہ علیمہ خان کے صاحبزادوں کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اوران کی رہائی کامطالبہ کرتاہوں۔
پی ٹی آئی کے کارکنان اپنے رہنماؤں کے بجائے محترمہ علیمہ خان پر اعتماد کرتے ہیں ،وہ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ ان کے لیڈران دوسال سے وزارت اعلیٰ اور اسمبلیوں کی رکنیت کے مزے لے رہے ہیں، مراعات وصول کررہے ہیں جبکہ کارکنان کو 10، 10 سال قید کی سزائیں دی جارہی ہیں مگر پی ٹی آئی کی لیڈرشپ خاموش ہے ، علیمہ خان صاحبہ کے گھرپر چھاپے اوران کے بیٹوں کی گرفتاری پرپی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو احتجاجی مظاہرے یا احتجاجی دھرنے کا اعلان کرنا چاہیے تھا مگر یہ لیڈرشپ خاموش ہے ۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ وہ مصلحت پسندی کا شکارلیڈروں کی طرف نہ دیکھیں بلکہ تحریک کو اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ 
بلوچوں کو غدار کہاجارہا ہے جبکہ بلوچ غدار نہیں بلکہ اپنے جائز حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں ، انہیں غدار کہنے والے اوربلوچوں کوظلم کانشانہ بناکرانہیں دیوارسے لگانے والے فوجی جرنیل خود ملک کے غدار ہیں۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 304 ویں فکری نشست سے خطاب
22، اگست2025ئ



8/31/2025 3:26:55 AM