Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تحریک کیلئے محترمہ سائرہ بیگم کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔طارق جاوید


  تحریک کیلئے محترمہ سائرہ بیگم کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔طارق جاوید
 Posted on: 8/25/2021

 تحریک کیلئے محترمہ سائرہ بیگم کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔طارق جاوید
 محترمہ سائرہ بیگم کے شوہراسلم ابراہانی کو کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں قید رکھا گیا ،
 انہیں حراست میں تشددکانشانہ بنایاگیاجس کے نتیجے میں ان کاانتقال ہوا
 محترمہ سائرہ بیگم نے تحریک اورقوم کی خاطر تکالیف اوراذیتوں کوبرداشت کیااورکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا
 قائدتحریک الطاف حسین پاکستان کے ہر سیاسی یامذہبی رہنما کے دکھ درد میں شریک ہوئے لیکن انکی ہمشیرہ کے انتقال پر کسی سیاسی رہنماکو تعزیت کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، یہ طرزعمل انتہائی شرمناک ہے ۔ طارق جاوید
 آپابی نے ہر آزمائش میں قائد تحریک الطاف حسین کی نمائندگی کی اور زندگی
 تحریک کیلئے وقف کردی ۔قاسم علی رضا
آپابی ہرکسی کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہیں لیکن کبھی اپنے کیلئے پارٹی
 سے کبھی کچھ نہیں مانگا۔مصطفےٰ عزیزآبادی
 آپابی ایک سچی وفاپرست تھیں اور آخری سانس تک وفاپرست رہیں۔ارشدحسین
انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں وڈیو بریفنگ سے خطاب۔ محترمہ سائرہ بیگم کو رابطہ کمیٹی کازبردست خراج عقیدت
 
لندن  … 25  اگست  2021ئ
 ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر طارق جاوید نے کہاہے کہ قائدتحریک الطاف حسین کی ہمشیرہ محترمہ سائرہ بیگم نے تحریک کیلئے جو قربانیاں دیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں وڈیو بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان قاسم علی رضا، مصطفےٰ عزیزآبادی اورارشدحسین نے بھی اظہارخیال کیا اورمحترمہ سائرہ بیگم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔کنوینرطارق جاوید نے محترمہ سائرہ بیگم کی زندگی کے مختلف پہلوؤںپرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ تحریک کے ابتدائی ایام میں قائد تحریک الطاف حسین کی گرفتاری کے موقع پر وہ کھانالیکرجیل جاتیں، ساتھیوں کی خبرگیری کرتیں، 1992ء میں جہاں تحریکی ساتھیوں اوران کے اہل خانہ کوروپوش ہونا پڑا اور اپنا گھر چھوڑناپڑا وہیںمحترمہ سائرہ بیگم کوبھی اپناگھرچھوڑناپڑا ، ایک وقت ایسابھی آیاکہ جب انہیں اپناشہربھی چھوڑناپڑا۔ 1995ء میںان کے بھائی ناصرحسین اوربھتیجے عارف حسین کو گرفتارکرنے کے بعد تین روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعد شہید کردیاگیا، انہوں نے اپنے بھائی اوربھتیجے کی لاشیں خود وصول کیں اوریہ صدمہ برداشت کیا۔ 1995ء میں ہی محترمہ سائرہ بیگم کے شوہراسلم ابراہانی کو گرفتار کرکے کئی ماہ تک لاپتہ رکھا گیاپھرانہیں اڈیالہ جیل میں کئی ماہ تک قید رکھاگیا۔ حراست میں انہیں تشددکانشانہ بنایاگیاجس کے باعث ان کی حالت خراب ہوئی اوررہائی کے بعداسی کے نتیجے میں ان کاانتقال ہوگیا ۔ محترمہ سائرہ بیگم نے تحریک اور قوم کی خاطر ان تمام تکالیف اوراذیتوں کوبرداشت کیااورکسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ طارق جاوید نے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین نے پاکستان کی ہر سیاسی یامذہبی جماعت کے رہنماؤں اوران کے رشتہ داروں کے انتقال پر ہمیشہ تعزیتی بیانات جاری کئے ، وہ ہرکسی کے دکھ اوردرد میں شریک ہوئے لیکن یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ آج جب قائدتحریک الطاف حسین کی ہمشیرہ کاانتقال ہوا ہے توکسی بھی سیاسی یامذہبی جماعت کے کسی رہنماکواس پر تعزیت کے دولفظ تک ادا کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ یہ طرزعمل نہایت افسوسناک ہی نہیں بلکہ انتہائی شرمناک ہے ۔ طارق جاویدنے کہاکہ پاکستان کے سیاسی ومذہبی رہنماؤں نے دکھ اورصدمات کے لمحات میں ہم سے جس طرح لاتعلقی اختیارکی ہے اس سے اس بات پر مہرثبت ہوگئی ہے کہ ہمیں پاکستان کاحصہ نہ سمجھتے ہوئے ہمیں پاکستان کے جغرافیہ سے نکال دیاگیا ہے لہٰذا اس رویے کودیکھتے ہوئے اب ہمارا بھی پاکستان سے کوئی تعلق نہیں رہا ۔ 
رابطہ کمیٹی کے رکن قاسم علی رضانے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ محترمہ سائرہ بیگم المعروف آپابی نے تحریک کے اچھے دنوں میں ہرآزمائش کے مراحل میں بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین کی نمائندگی کی اور اپنی زندگی تحریک کیلئے وقف کردی تھی ، ان کے پاس کوئی تحریکی عہدہ نہیں تھا لیکن وہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کے نظریے اور تعلیمات کے مطابق تحریکی ساتھیوں کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش رہا کرتی تھیں،آپا بی اپنی علالت کے باوجود جنا ح گراؤنڈ اور نائن زیرو پر ہونے والے تحریک کے ہر پروگرام میں شرکت کیاکرتی تھیں اور الطاف بھائی کی نمائندگی کیاکرتی تھیں۔ محترمہ سائرہ بیگم خلوص، محبت، ملنساری اورمہمان نوازی انہیں اپنی والدہ محترمہ حضرت خورشید بیگم  سے ورثے میں ملی تھی ، وہ ہرمصیبت زدہ کی مدد کرکے خوشی محسوس کیاکرتی تھیں اور جو بھی تحریکی ساتھی ان کے گھرآتا وہ ہمیشہ ایک بڑی بہن اورماں کی طرح برتاؤ کرتیں اور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر باقی نہ رکھتی تھیں۔ان کے گھر کوئی اپنا مسئلہ لیکرآتا تو وہ رابطہ کمیٹی کے ذریعے انکا مسئلہ حل کرایا کرتی تھیں اور سینکڑوں ضرورتمندوں کو انہوںنے تحریک کے ذریعے روزگار فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔انہوں نے کہاکہ 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران جہاں تحریکی ساتھی روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے وہاں آپا بی کا گھران مجبور ساتھیوں کیلئے کھلا رہتا تھا اور بہت سے مجبور ساتھی ان کے گھر روپوشی کاٹا کرتے تھے ۔ جب نائن زیروپرچھاپوں کے سلسلے میں اضافہ ہوا تو آپا بی کا گھربھی چھاپوں سے محفوظ نہ رہ سکااور آپا بی کو اپنا گھر چھوڑ کر روپوشی کی زندگی گزارنی پڑی لیکن وہ ہمت وحوصلے کے ساتھ حالات کامقابلہ کرتی رہیں ۔جب کراچی میں رشتہ داروں نے انہیں اپنے پاس رکھنے سے معذرت کرلی تو انہوںنے راولپنڈی میں کئی ماہ تک روپوشی اختیار کی لیکن کبھی کسی سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔1995ء میں آپا بی کے گھرپر چھاپہ مار کر ان کے شوہر اسلم ابراہانی کو گرفتارکرلیاگیا، انہیں کئی ماہ تک نامعلوم مقام پر تشددکانشانہ بنایاجاتارہا اور کئی ماہ بعد معلوم ہوا کہ اسلم ابراہانی اڈیالہ جیل میں قید ہیں ۔ آپا بی نے ایک خاتون ہونے کے باوجود ان مشکل ترین حالات کا سامنا کیااوروہ حقوق کی جدوجہدمیں ڈٹی رہیں۔جب اسلم ابراہانی اڈیالہ جیل سے رہاہوئے توحراست کے دوران وحشیانہ تشدد کے باعث ان کی حالت بہت خراب تھی اورپھر اسلم ابراہانی انتقال کرگئے ۔ آپابی نے اپنے شوہر کی جدائی کا صدمہ بھی برداشت کیا لیکن پاکستان نہیں چھوڑا ۔1995ء میں آپا بی کے بھائی ناصر حسین اورعارف حسین کو گرفتارکرکے تین روز تک وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکرشہید کردیا گیا۔ آپابی نے اپنے بھائی اوربھتیجے کی شہادت کاصدمہ بھی برداشت کرلیا لیکن ثابت قدم رہیں۔ 11مارچ2015ء کو ایم کیوایم کے مرکز نائن زیروپررینجرز نے چھاپہ مارا تو اس دن آپا بی کے گھر بھی چھاپہ ماراگیا اور انہیں ہراساں کیاگیا۔ 22  اگست 2016ء کے بعد بھی جب ریاستی آپریشن کانیادور شروع ہوا توبھی ان کے گھرپر چھاپے  مارے گئے، آپا بی کے گھر محفل میلاد کا انعقاد کیاجاتا تھا لیکن رینجرز نے ٹینٹ اکھاڑ دیے اورمحفل میلاد نہیں کرنے دی۔ ان تمام مظالم اور جبروستم کو آپا بی نے ہمت وحوصلے سے برداشت کیا ۔ آپا بی نے تحریک کیلئے جو خدمات انجام دی ہیں اور جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ۔قاسم علی رضا نے کہاکہ آپا بی کی پوری زندگی تحریکی جدوجہد سے عبارت ہے اور تحریک کیلئے ان کی خدمات کھلی کتاب ہے ۔ وہ انتقال کرگئیں لیکن ان کی موت شہادت سے کم نہیں ہے ۔آپا بی شہید ہیں اور شہیدہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔آپابی اپنی تحریکی خدمات، انسان دوستی ، عزم وہمت اور ملنساری کے باعث ہمارے دلوںمیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے محترمہ سائرہ بیگم کوزبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ آپا بی ایک عظیم لیڈرکی ہمشیرہ ہی نہیں بلکہ خود بھی ایک عظیم ہستی سے تھیں، وہ اس عظیم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جس کادرس یہی تھاکہ '' یہ نہ دیکھو کہ کس نے تمہارے لئے کیا کیا ، یہ دیکھوکہ تم کسی کے لئے کیاکرسکتے ہو''۔ قائدتحریک الطاف حسین کے خاندان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھالیکن صرف الطاف بھائی سے رشتہ اور حق اورسچ سے وابستگی کی پاداش میں پورے خاندان کوروپوشی ، دربدری، گرفتاری ، جیلوں کی اذیتوںاورطرح طرح کے مصائب ومشکلات کاسامنا کرناپڑا۔خاندان کے دیگر افراد کی طرح آپا بی نے بھی نہایت کٹھن حالات اورآپریشن کی سختیوں کاسامناکیا۔ آپابی نے ہرکسی کے مسائل کے حل کیلئے کوشش کی لیکن کبھی اپنی ذات کے لئے پارٹی سے کچھ نہیں مانگا۔ انہوں نے کسی بھی سیاسی یامذہبی جماعت کے رہنماکی جانب سے محترمہ سائرہ بیگم کے انتقال پر تعزیتی بیان نہ دیے جانے پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ خاندان ، خاندان کی بات ہوتی ہے ،قائدتحریک الطاف حسین کاخاندان اعلیٰ تہذیبی روایات کاامین ہے جبکہ دیگرسیاسی مذہبی رہنماؤں کا انسانیت، اخلاقیات اوررواداری سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
 رابطہ کمیٹی کے رکن ارشدحسین نے محترمہ سائرہ بیگم کوزبردست خراج عقید ت پیش کیااوران سے اپنے گہرے اورقریبی تعلق کوبیان کرتے ہوئے وہ شدیدغم اور صدمہ سے نڈھال بھی ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ آپا بی صرف قائدتحریک الطاف حسین کی ہمشیرہ ہی نہیں تھیں بلکہ وہ قوم کی بہن اور ماںکادرجہ رکھتی تھیں۔ وہ نہایت خداترس اورخوش اخلاق شخصیت کی مالک تھیں، الطاف بھائی کی طرح ان میں بھی دکھی انسانیت کی خدمت کاجذبہ کوٹ کوٹ کربھراہواتھا۔وہ ہر ضرورت مند کی مدد کرتیں، جب وہ بیمار ہوئیںتوانہیں اس بات کی زیادہ فکرتھی کہ اگرانہیں کچھ ہوگیا تو لوگوںکی مددکاسلسلہ کیسے جاری رہے گا۔ ارشدحسین نے کہاکہ آپابی ایک سچی وفاپرست تھیں اوروہ آخری سانس تک اپنی وفاپرقائم رہیں۔ آپابی کے انتقال سے پاکستان سمیت دنیا بھرمیں مقیم ہر تحریکی ساتھی دکھی اور غم زدہ ہے، انکے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کررہے ہیں اور جب تک وفاپرست ساتھی زندہ ہیں ، آپابی کو خراج عقیدت پیش کیاجاتارہے گا۔انہوں نے قائدتحریک الطاف حسین کے دیگربھائیوںاوربہنوںسے بھی تعزیت کی اوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ آپابی کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے ، انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، ان کے درجات بلند کرے ، انہیں نبی کریم ۖ کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے اورالطاف بھائی کو یہ صدمہ برداشت کرنے کاحوصلہ دے ۔ آمین



9/25/2021 10:23:37 PM