Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

9 روزگزرجانے کے باوجود ابھی تک آگ لگنے کے سانحات کی روک تھام کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے کسی قسم کے سنجیدہ عملی اقدامات اور منصوبوں کا اعلان نہیں کیا گیا


 9 روزگزرجانے کے باوجود ابھی تک آگ لگنے کے سانحات کی روک تھام کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے کسی قسم کے سنجیدہ عملی اقدامات اور منصوبوں کا اعلان نہیں کیا گیا
 Posted on: 1/26/2026
سانحہ گل پلازہ 17جنوری کو رونما ہوا، 9 روزگزرجانے کے باوجود ابھی تک آگ لگنے کے سانحات کی روک تھام کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے کسی قسم کے سنجیدہ عملی اقدامات اور منصوبوں کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کو عوام کے سامنے لایا گیا۔ سانحہ گل پلازہ کے معاملے پرحکومت سندھ مکمل غیرسنجیدگی کامظاہرہ کررہی ہے۔ حکومت سندھ کراچی کے شہریوں پر نت نئے ٹیکس لگا کر اور نئے نئے قوانین بنا کر شہریوں سے پیسہ تو وصول کر لیتی ہے لیکن شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے پر جوابدہی کے بجائے دوسروں پرالزام عائد کرکے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔
 اگر حکومت سندھ ٹیکس کی مد میں شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرے لیکن ان کی جان و مال کا تحفظ نہ کرے تو یہ حکومت کی سفاکیت بے حسی اور نہ اہلی کی بات ہے۔ماضی میں ہونے والے حادثات جس میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوتا تھا اس میں کم از کم فوری طور پر حکمرانوں اور انتظامیہ کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا اور ان حادثات سے بچنے کے لیے بات چیت کی جاتی تھی لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ پیپلزپارٹی کے وزرااوررہنماؤں کی جانب سے سانحات کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور سانحہ گل پلازہ کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنا اس کی واضح مثال ہے۔
سانحہ گل پلازہ رونما ہونے کے باوجود تاحال فائر سیفٹی نظام کے سلسلے میں کسی قسم کا کوئی پلان عوام کے سامنے نہیں لایا گیا اور نہ ہی نہ ہی کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام اور فائر ایگزٹ گیٹس کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
میں اپنے اس مطالبے کودہراتاہوں کہ سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اورتحقیقات میں وزیراعلی سندھ، صوبائی وزیر بلدیات، میئر کراچی سے پوچھ گچھ کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ تحقیقات میں حکومت سندھ کے ساتھ ساتھ گل پلازہ کی انتظامیہ اورمارکیٹ یونین کے عہدے داران کو بھی شامل تحقیق کیا جائے۔

الطاف حسین
 ٹک ٹاک پر 383 ویں فکری نشست خطاب


1/26/2026 11:43:48 AM