Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نائن زیرو آپریشن کیس میں کارکنوں کے عدالت سے بری ہونے کے بعد نائن زیرو کی بندش کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ۔طارق جاوید


  نائن زیرو آپریشن کیس میں کارکنوں کے عدالت سے بری ہونے کے بعد نائن زیرو کی بندش کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ۔طارق جاوید
 Posted on: 4/28/2021

 نائن زیرو آپریشن کیس میں کارکنوں کے عدالت سے بری ہونے کے بعد نائن زیرو کی بندش کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ۔طارق جاوید
نائن زیرو کوفی الفورکھولاجائے، قائدتحریک الطاف حسین کی تقریرپرعائد پابندی ختم کی جائے   ایم کیوایم کو جمہوری اور سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔طارق جاوید
 نائن زیروکیس میں ایم کیوایم کے کارکنوںکی باعزت بریت قائدتحریک الطاف حسین کی سچائی کی فتح ہے۔قاسم علی رضا
 بے گناہوں کو جھوٹے مقدمے میں مجرم بناکرپیش کرناانصاف کاقتل ہے۔مصطفےٰ عزیزآبادی
 وقت آگیاہے کہ بے گناہوںکوسزادینے کے بجائے انصاف کے قاتلوںکوسزادی جائے 
رابطہ کمیٹی کے ارکان کاایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں وڈیوبریفنگ سے خطاب

لندن… 28  اپریل 2021ئ
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینرطارق جاوید نے مطالبہ کیاہے کہ نائن زیرو آپریشن کیس میں ایم کیوایم کے کارکنوں کے عدالت سے بری ہونے کے بعد نائن زیرو کی بندش کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے لہٰذا نائن زیرو کی بندش کا جلد از جلد خاتمہ کیاجائے، نائن زیروکوکھولاجائے،قائدتحریک الطاف حسین کی تقریرپرعائد پابندی ختم کی جائے اور ایم کیوایم کو جمہوری اور سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔انہوںنے یہ مطالبات آج ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میںایک وڈیو بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کئے۔ اس موقع پررابطہ کمیٹی کے ارکان قاسم علی رضااورمصطفےٰ عزیزآبادی نے بھی اظہارخیال کیا۔ طارق جاوید نے کہاکہ11، مارچ2015ء کو رینجرز نے ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو پر چڑھائی کرکے وہاںدرجنوں کارکنوں کو گرفتارکیاتھا،نہ صرف کارکنان بلکہ محلے کے بے گناہ ہمدردوں تک کو نہیں بخشا گیا،ان کی آنکھوں پرپٹیاں باندھ کرسڑکوں پر جنگی قیدیوں کی طرح بٹھایاگیا، ارکان اسمبلی کے لائسنس یافتہ قانونی اسلحہ کو سجاکر دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکی گئی کہ نائن زیرو سے غیرقانونی اسلحہ کی بھاری مقدار برآمد کی گئی ہے۔ رینجرز کے حکام کی جانب سے دعویٰ کیاگیاکہ نائن زیرو سے بھاری مقدار میںدھماکہ خیز مواد برآمد کیاگیاہے۔ اس کے ساتھ ہی ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل کیاگیا، جھوٹ اورمن گھڑت قصے کہانیاں سنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی شرمناک کوشش کی گئی اور یہ بھی کہاگیا کہ نائن زیرو سے نیٹو کا اسلحہ برآمد کیاگیا ہے جو نیٹو کے کنٹینرز سے چوری کیاگیا تھا ،بعدازاں امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے رینجرز کے اس دعوے کو یکسر رد کرتے ہوئے اس الزام کی سختی سے تردید کردی تھی ،یہ تردید آج بھی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
طارق جاوید نے کہاکہ نائن زیروپر لشکرکشی کے دوران رینجرز کے اہلکاروںنے ایم کیوایم کے جواں سال کارکن سید وقاص شاہ کوایم پی اے ہاسٹل کے مرکزی دروازے کے سامنے گولی مارکرشہید کردیا۔وقاص شاہ کا قصور یہ تھا کہ وہ نائن زیرو پر خواتین کارکنان سے رینجرز کے ظالم وسفاک اہلکاروںکی بدسلوکی پر احتجاج کررہے تھے ۔رینجرز نے وقاص شاہ کے سفاکانہ قتل کا الزام بھی ایم کیوایم پرعائد کردیااور یہ جھوٹ بولا کہ رینجرز کے اہلکار چھوٹاہتھیار استعمال نہیں کرتے جبکہ اس بات کے وڈیو ثبوت موجود ہیں کہ وقاص شاہ کو گولی مارنے والے رینجرز اہلکار کے ہاتھ میں پسٹل تھی۔اس کی تصویراخبارات میں بھی شائع ہوئی۔ طارق جاوید نے کہاکہ ایم کیوایم کو ملک اور دنیا بھرمیں بدنام کرنے کیلئے فوج کے کرپٹ جرنیلوں کی ایماء پر میڈیا پر کئی روز تک سنسنی خیز بریکنگ نیوز چلائیںگئیں۔ دوسری جانب ایم کیوایم کے کارکنوںکوسرکاری ٹارچرسیلوںمیں تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔چھ سال تک عدالت میں نائن زیروکے اس کیس کی سماعت ہوئی ۔  23 اپریل 2021ء کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ایم کیوایم کے 26بے گناہ کارکنان کو دھماکہ خیزمواد اور 52 دیگرجھوٹے مقدمات میںبری کردیا۔ اس طرح ثابت ہوگیاکہ ایم کیوایم کے مرکز اور گرفتارکارکنان کے حوالے سے رینجرز کادعویٰ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا۔ اوراس کی پیش کردہ من گھڑت قصے اورکہانی اور الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔طار ق جاوید نے کہاکہ عدالت نے کچھ کارکنان کو غیر قانونی اسلحہ کے الزام میں 6سال، 8سال اور10سال کی سزائیں بھی سراسر غلط ہیںکیونکہ وہ اسلحہ بھی غیرقانونی نہیں بلکہ قانونی اور ارکان اسمبلی کالائسنس یافتہ تھا جن کے بارے میںارکان اسمبلی نے عدالت میں پیش ہوکرگواہی بھی دی تھی لہٰذا ان کارکنان کو فی الفوررہاکیاجائے ۔طارق جاوید نے کہاکہ ایم کیوایم کا میڈیا ٹرائل آج بھی جاری ہے اور عدالت سے بریت کے باوجود بعض میڈیا میں انہیں ٹارگٹ کلرز لکھ کر بے گناہ کارکنان کی کردار کشی کی جارہی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔کسی نے یہ نہیں کہا اس جھوٹے مقدمے میں اس عدالت نے 12کارکنان کو باعزت بری بھی کیا ۔اتنے ہائی پروفائل کیس میں ایم کیوایم اورجناب الطاف حسین کی فتح ہوئی ہے لیکن اس حوالے سے میڈیا نے نہ توبریکنگ نیوز چلائیں اورنہ ہی ٹاک شوز کیے۔ طارق جاویدنے کہاکہ عدالت کے اس فیصلے کے بعدہم سمجھتے ہیں کہ اب ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو کی بندش کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے ،لہٰذا نائن زیرو کی بندش کا جلد از جلد خاتمہ کیاجائے اور ایم کیوایم کو جمہوری اور سیاسی سرگرمیوں کی مکمل آزادی فراہم کی جائے۔وقاص شاہ شہید کے قاتل رینجرز اہلکاروںکوگرفتارکیاجائے۔ 
رابطہ کمیٹی کے رکن قاسم علی رضانے کہاکہ نائن زیروکیس میں ایم کیوایم کے کارکنوںکی باعزت بریت قائدتحریک الطاف حسین کی سچائی کی فتح ہے ، قدرت نے ایک بارپھرقائدتحریک اوران کے کارکنوںکوسرخرو کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ جب قائدتحریک الطاف حسین اورایم کیوایم کے کارکنوںپر کوئی جھوٹاالزام لگتا ہے تو میڈیاپراس کاڈھنڈورا پیٹاجاتاہے لیکن جب وہ الزام عدالت میں غلط ثابت ہوتے ہیںتومیڈیاکوسانپ سونگھ جاتاہے۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوںکو چھ سال تک جھوٹے الزامات میں جیل میں قیدرکھاگیااورانہیں ان کے بیوی بچوںاوراہل خانہ سے دور رکھا گیا ۔ یہ سراسرظلم ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ نائن زیروکوفی الفورکھولاجائے، قائدتحریک الطاف حسین کی تقریرپرعائدپابندی ختم کی جائے، ایم کیوایم کوسیاسی سرگرمیوںکی اجازت دی جائے، اسیرکارکنوںکورہاکیاجائے اورلاپتہ کارکنوںکوبازیاب کیا جائے ۔رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ ایم کیوایم کے خلاف میجرکلیم کیس،حکیم سعید قتل کیس، ولی بابر قتل کیس اوردیگر مقدمات کی طرح نائن زیرو کایہ کیس بھی جھوٹاثابت ہوااورایم کیوایم کے کارکنان اس کیس میں بھی باعزت بری ہوئے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ایم کیوایم کے کارکنوںکوجھوٹے مقدمے میں جیل میںقیدرکھاگیااورعدالتی ٹرائل سے قبل ہی انہیں مجرم بناکرپیش کیاگیا، اب جب عدالت سے وہ باعز ت بری ہوئے ہیں توپولیس اور رینجرزکے وہ افسران جنہوں نے جھوٹامقدمہ بنایاان کو سزاکیوں نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان کے جسٹس سسٹم کی خرابی ہے کہ معصوم وبے گناہ لوگوں کو جھوٹے مقدمے میں مجرم بناکرپیش کیاجاتاہے اوراس طرح انصاف کاقتل کیاجاتاہے، اسی جسٹس سسٹم کوقائدتحریک الطاف حسین اپنے لیکچرز میں بے نقاب کررہے ہیں ،وہ سمجھتے ہیں کہ مجرموں کی سرپرستی کرنااورمعصوموںکوسزادیناانصاف کاقتل ہے ، اب وقت آگیاہے کہ بے گناہوںکوسزادینے کے بجائے انصاف کے قاتلوںکوسزادی جائے ۔ 

٭٭٭٭٭


10/16/2021 12:19:15 PM