Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سیاسی جماعتیں اور تحریکیں:


 سیاسی جماعتیں اور تحریکیں:
 Posted on: 11/1/2026

سیاسی جماعتیں اور تحریکیں:
سیاسی جماعتوں کا مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے جبکہ تحریکیں ایک نظریئے کے تحت وجود میں آتی ہیں، ایک مقصد اورکاز کے لئے کام کرتی ہیں اورعوام کے اجتماعی مفادات کیلئے جدوجہد کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے ملک کی ترقی، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، خارجہ پالیسی اور عوام کا معیارزندگی بہتر بنانے ایک منشور بناکر عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں جبکہ تحریک کیلئے کسی کاز یا مقصد کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چلانے اور تحریک کو چلانے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
کسی بھی ملک میں جہاں ظلم وجبر کا نظام ہو، ناانصافیوں کا عمل ہو، متعصبانہ اورنسلی بنیادوں پر عوام میں تفریق کی جاتی ہو اور یہ تفریق پیدا کرنے والا حکومتی گروہ شکلیں بدل بدل کر اقتدار میں آتا رہتا ہے مگر نہ ظلم وجبر کا نظام ختم ہوتا ہے،نہ ناانصافیوں کاعمل ختم ہوتا ہے اورنہ ہی نسلی امتیاز ختم ہوتا ہے۔ 

تحریک کیلئے مقصد کی اہمیت
تحریک کیلئے مقصد اورکاز کاہونا ضروری ہوتا ہے اوراس مقصد کے حصول کیلئے جو نظریہ پیش کیاجاتا ہے اس کے تحت جدوجہد کرنا بچوں کا کھیل نہیں ہوتا۔ کسی بھی تحریک سے وابستہ لوگ اگریہ سوچتے ہیں کہ وہ آج جدوجہد کررہے ہیں تو ایک ہفتے بعد انہیں اپنی جدوجہد کا پھل مل جائے گا تو ایسا نہیں ہوتا۔ ایسی سوچ کا جنم لینا فطری ہے کیونکہ انسان چاہتا ہے کہ جلد سے جلد اس کے نظریئے کو کامیابی مل جائے اور وہ اپنامقصد حاصل کرلے۔

پاکستان کا سیاسی کلچراورعوام 
پاکستان کے قیام کو 79 سال گزرچکے ہیں، 1947ء سے آج کے دن تک ہم ایک بات دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ صرف ایک طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ یا جماعتیں شکلیں بدل بدل کر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں، اگر ہم ان جماعتوں کا تنظیمی ڈھانچہ دیکھیں تو ان جماعتوں کی صفوں میں صرف ایلیٹ کلاس یعنی مراعات یافتہ طبقے کے لوگ ہی نظرآئیں گے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی موجودگی میں مسلم لیگ کا تنظیمی ڈھانچہ بھی نوابین اور دولت مند افراد پر مشتمل تھا۔ 
بدقسمتی سے پاکستان میں ایم کیوایم کے علاوہ ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جو جلسے جلوس کے علاوہ اپنے کارکنان کی فکری بنیادوں پر تربیت کیلئے رات رات بھرفکری نشستوں کاانعقاد کرتی ہواوراپنے کارکنان کو ملک اور بین الاقوامی حالات سے آگاہ کرتی ہو، پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں Electables پر مشتمل ہوتی ہیں، جو الیکشن لڑنے کے قابل ہوتے ہیں انہی کو تنظیمی ڈھانچے میں شامل کیاجاتا ہے اور یہی لوگ الیکشن میں انتخابی ٹکٹ حاصل کرکے سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کے رکن بنتے ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت میں غریب، لوئر مڈل کلاس کے کارکنان جوکہ جانثار ہوتے ہیں، لاٹھیاں ڈنڈے کھاتے ہیں، جلسوں میں کرسیاں اور دریاں بچھاتے ہیں، وال چاکنگ کرتے ہیں اورپوسٹرز لگاتے ہیں انہیں کبھی الیکشن میں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ 
ایم کیوایم کے علاوہ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے جس نے غریب، لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ ایسے کارکنان کو سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کا رکن بنایاہو جن کے پاس انتخابات لڑنے کیلئے مالی استطاعت صفر ہو۔ ایم کیوایم ملک کی واحد جماعت ہے جس نے پڑھے لکھے ڈاکٹروں، انجینئروں، وکلاء، اساتذہ اور زندگی کے دیگر شعبوں میں مہارت رکھنے والے غریب کارکنوں کو منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ 1947ء سے ایم کیوایم کے قیام تک پاکستان میں جو نظام چلتا چلاآرہا ہے اس پر صرف Electables ہی منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ الطاف حسین نے پاکستان میں جاری رولنگ ایلیٹ اور Electables کی سیاست کو صرف چیلنج ہی نہیں کیا بلکہ غریب طبقہ سے لوگوں کو منتخب کرکے سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی میں بھیجا، غریب طبقے کے لوگوں کو میئرز،ڈپٹی میئرز اورکونسلرز بنایا۔ پاکستان میں جاری رولنگ ایلیٹ کلاس، جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار اوردولتمندخواہ وہ جائز طریقے سے دولتمند بنے ہوں یا ناجائز طریقے سے دونوں صورتوں میں تمام سیاسی جماعتیں ان مراعات یافتہ طبقے کے افراد کو اپنی جماعتوں میں شامل کرتی ہیں اورانتخابات میں انہی کو انتخابی ٹکٹ دیتی ہیں۔ 
ایم کیوایم نے پاکستان کے فرسودہ نظام میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقے کی حکمرانی کی جدوجہد کی تو پھر ایم کیوایم پر دہشت گردی، ملک دشمنی، بھتہ خوری اوربوری بند لاشوں کے الزامات کیوں لگائے جاتے ہیں اورہرقسم کی برائی ایم کیوایم میں ہی کیوں نکالی جاتی ہے؟

پاکستان کا طبقاتی نظام 
پاکستان کاسیاسی نظام دوطبقات پر مشتمل ہوتاہے، ایک طبقہ دوفیصدحکمراں اشرافیہ کا ہے جو اقتدار میں آنے والے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ دوسرا 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں صرف تالیاں بجانے، نعرے لگانے، پوسٹرز لگانے، دریاں اورکرسیاں بچھانے والے ہوتے ہیں اورسیاسی جماعتوں میں ان کارکنوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ پاکستان میں کوئی واحد بادشاہ نہیں ہے بلکہ ایک حکمراں اشرافیہ کا طبقہ ہے جس نے بادشاہت کی شکل اس طرح اختیار کررکھی ہے کہ اسی طبقے کے لوگ اقتدارمیں آتے ہیں اوراسی طبقے کے لوگ اپوزیشن میں آتے ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ پاکستان میں ایک خاندان نے بادشاہت کی شکل اختیارکرلی ہے اوروہ اپنے علاوہ کسی اور کو حکومت میں آتا نہیں دیکھ سکتااسی لئے اقتدار میں آنے والے اس طبقے کو اقتدار مافیا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے،ایم کیوایم کی طرح جوبھی اس اقتدار مافیا کے خلاف آواز بلند کرتاہے اسے غدار، دہشت گرداور ملک دشمن قراردیدیا جاتاہے، اس پر جھوٹے اوربے بنیاد الزامات لگاکر ٹیلی ویژن، اخبارات، جرائد ورسائل میں اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے، تواترکے ساتھ اس کی شکل انتہائی بھیانک اندازمیں اس طرح پیش کی جاتی ہے کہ عام آدمی اس منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں ہوگا کہ ایم کیوایم کو اگر دہشت گرد، ملک دشمن اورغدار قراردیاجارہاہے تو کیوں قراردیاجارہاہے۔ ایم کیوایم اقتدار مافیا کے منفی پروپیگنڈوں پر اپنا مؤقف پیش کرنے کی کوشش کرے تو اس کی آواز کوٹیلی ویژن میں نشر نہیں کیاجاتا، اخبارات میں مناسب جگہ نہیں دی جاتی بلکہ اس کے خلاف ٹیلی ویژن پر سیاسی تجزیوں اوراخبارات میں کالم لکھے جاتے ہیں اور اس رولنگ ایلیٹ کو سہارا دینے والی چھتری کانام اسٹیبلشمنٹ ہے، جاگیرداروں، وڈیروں اور سرمایہ داروں پر مشتمل اقتدار مافیا کو فوج، آئی ایس آئی کی مکمل آشیرباد حاصل ہوتی ہے، اس اقتدارمافیا کے لوگوں پر لاکھ نیب اورایف آئی اے مقدمات بنائے، عدالتیں انہیں تاحیات نااہل قرار دے دیں لیکن چند ہی دنوں میں عدالت عظمیٰ سے نااہل قراردیئے گئے لوگوں کو سرخ قالین بچھاکر بیرون ملک سے بلایاجاتا ہے۔ 

یہ پاکستان کی تاریخ ہے اور اس کرپٹ سیاسی کلچر کو پہلے الطاف حسین نے توڑا اور پھر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اس نظام کو للکارا۔ عمران خان صاحب نے جب رولنگ ایلیٹ اور اس کی بیساکھیاں بننے اور حفاظت کرنے والی چھتری کو نشانہ بنایا تو عمران خان بھی ملک دشمن، دہشت گرد اوراسرائیلی ایجنٹ قراردیاگیا۔الطاف حسین نے اقتدار مافیا اورانکے کرپٹ سیاسی نظام کے بارے میں عوام کوحقائق بتانے کی کوشش کی تو میری باتیں صوبہ پنجاب، سرحد، بلوچستان، کشمیر اور گلگت  بلتستان تک نہیں پہنچیں لیکن جب فوج نے عمران خان کو غیرآئینی طریقے سے 
عدالت کے کمرے سے گریبان پکڑ کر گرفتارکیا تو عمران خان صاحب نے پاکستان کے عوام تک وہ حقائق پہنچا دیئے جو الطاف حسین نہیں پہنچاسکاتھا۔ 
آج عمران خان، انکی اہلیہ اور ان کے وفاپرست ساتھی تین سال سے جیلوں میں قید ہیں، عمران خان کی بہنوں کو بھی جیل میں قیدکردیاگیا ہے۔ آخرعمران خان کاکیاقصور ہے؟ جو قوتیں جاگیرداروں، وڈیروں اورسرمایہ داروں کو اقتدارمیں لاتی اورانہیں تحفظ فراہم کرتی ہیں عمران خان صاحب نے بھی انہی قوتوں کو چیلنج کیاتھا اور یہی ان کا گناہ بن گیا ہے۔ 
 عمران خان جب اقتدارمیں آئے اوران کافوج کے جرنیلوں کے ساتھ صبح شام ملناجلناہوا توانہیں معلوم ہواکہ فوج کے جرنیل توامریکہ کے مفادات کوددیکھتے ہیں۔عمران خان نے اقوام متحدہ میں جاکراسلاموفوبیا کے خلاف اورفلسطین کے حق میں بات کی اورجب عمران خان سے ایک امریکی ٹی وی کے انٹرویو میں یہ سوال کیاگیاکہ کیاوہ امریکہ کوڈرون حملوں کے لئے پاکستان میں ایئربیس بنانے کی اجازت دیں گے،توانہوں نے اس کے جواب میں Absolutely not کہہ کرصاف انکارکردیا۔ اس پر امریکہ نے عمران خان کواقتدارسے ہٹانے کافیصلہ کرلیا۔اس کے لئے امریکہ سے سائفر آگیااور فوج کوکہہ دیاگیاکہ عمران خان کواقتدارسے ہٹاؤ۔ عمران خان نے عوامی جلسہ میں وہ سائفردکھایا۔ سائفرآنے کے بعد عمران کی حکومت کوگرانے کی سازشیں شروع کردی گئیں۔
تحریک عدم اعتمادلائی گئی لیکن اس سے قبل ہی عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دیدیا تاکہ دوبارہ الیکشن ہوسکیں۔حکومت ختم ہونے کے بعد عمران خان کے خلاف درجنوں مقدمات بنائے گئے، ان پرقاتلانہ حملہ کیاگیا، پھر8مئی 2023ء کوعمران خان کوایک مقدمہ میں پیشی کے موقع پر عدالت کے کمرے سے دروازے شیشے توڑکر گرفتارکرلیاگیااورگریبان سے پکڑکرگھسیٹتے ہوئے لے گئے۔اس  پر 9مئی کوپی ٹی آئی نے احتجاج کیاتوسرکاری ایجنسیوں نے سادہ لباس میں اپنے لوگ شامل کرکے اس احتجاج کوپرتشدد بنادیا۔لاہور میں کورکمانڈرہاؤس کوآگ لگائی گئی، فوج کے ہیڈکوارٹرزپر حملے کئے گئے، فوج کے شہیدوں کے مسجموں کو گرایا گیا اوردیگرجلاؤ گھیراؤکے مختلف واقعات ہوئے۔ عمران خان تو9مئی کوفوج کی قید میں تھے لیکن 9مئی کے واقعات کامقدمہ بھی عمران خان کے خلاف قائم کردیاگیااسلئے کہ عمران خان نے سسٹم کوچیلنج کیاتھا۔  اسی طرح جب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے سسٹم کے خلاف  لانگ مارچ نکالاتوخیبرپختوامیں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کرکے سہیل آفریدی اوران کے قریبی ساتھیوں کوگرفتارکرلیاگیا۔
یہی قصورالطاف حسین کاتھاکہ اس نے سسٹم کوچیلنج کیاتھااورپاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب اورمڈل کلاس کے نوجوانوں کواسمبلیوں میں بھیجاتھااورفوج کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آوازبلند کی تھی۔ 

سسٹم کوچیلنج کرنااوراپنے نظریے کوپھیلاناآسان نہیں:
میں ایم کیوایم اورپی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ ایک بات گرہ میں باندھ لیں کہ ظلم وجبرکے نظام کے خلاف جدوجہد کرنا،فرسودہ سسٹم کوچیلنج کرنا، نسلی امتیازکے خاتمے اور نظام کی تبدیلی کے نظریے کوپھیلانا اورا سے کامیابی تک لے جانا بچوں کاکھیل نہیں بلکہ بہت مشکل کام ہوتاہے۔اس میں قیدوبند کی صعوبتیں، اذیتیں، روپوشی، جلاوطنی جیسی مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے، آگ اورخون کے دریاعبورکرنے پڑتے ہیں۔
میں ایم کیوایم کے کارکنوں سے کہتاہوں کہ تحریکی مقصد کی جدوجہد سے وابستہ ہونے پر آپ شہیدہورہے ہیں، لاپتہ ہورہے ہیں، گرفتارہورہے ہیں، جھوٹے مقدمات میں اسیرہورہے ہیں،مجھے آپ کی تکالیف کاپورااحساس ہے لیکن یہ تکالیف سچی نظریاتی تحریکوں کالازمی حصہ ہوتی ہیں۔

تحریکی کارکنوں کو ایک بات اورسمجھ لینا چاہیے کہ تحریک کی کامیابی کا وقت نہ دیاجاسکتاہے اورنہ کوئی دے سکتاہے۔ لہٰذاکارکنوں کویہ نہیں پوچھناچاہیے کہ تحریک کب کامیاب ہوگی،منزل کب ملے گی۔ مقصد کی کامیابی اورمنزل کے حصول کے لئے کئی کئی سال اورکئی نسلوں تک جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔میں نے تحریک 11جون 1978ء کو قائم کی تھی، جب میری عمر 25سال تھی، آج میری عمر 73سال ہوچکی ہے، میں 34 سال سے جلاوطن ہوں،
جنہوں نے میرے ساتھ ابتداء میں کام کیاوہ بھی آج 60سال کے زائد کے ہوچکے ہیں، ہم آج بھی اپنے مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ میں نے جلاوطنی میں رہتے ہوئے اپنے مقصد سے غافل نہیں ہوا اور ایک دن کے لئے بھی اپنی تحریک کا کام نہیں چھوڑا۔
تحریک میں مقصد کے حصول کی جدوجہد میں جہاں طاقتورقوتوں کی جانب سے تحریک کوختم کرنے یاکمزورکرنے کے لئے اس پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں وہیں تحریک کوتوڑنے کے لئے باربارغداریاں بھی کرائی جاتی ہیں۔ جیسے ایم کیوایم ختم کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے باربارغداریاں کرائی گئیں، اس کے سینئرلوگوں کوخریداگیا،کبھی حقیقی، کبھی پی ایس پی اورپھرعسکری ایم کیوایم بنائی گئی۔دنیابھرکی تحریکوں کوکمزور کرنے کے ان کے ساتھ بھی یہی کچھ کیاگیا۔
نظریاتی تحریکوں کے کارکنوں کو چاہیے کہ انہیں حالات سے ہرگزمایوس نہیں ہونا چاہیے، اپنے مقصد کے حصول کے لئے ثابت قدمی ومستقل مزاجی سے جدوجہد کرتے رہناچاہیے کیونکہ ثابت قدمی اورمستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد کامسلسل عمل ہی تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنارکرتاہے۔ 

 الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 492  ویں فکری نشست سے خطاب
31، اکتوبر2026ء


11/3/2026 3:28:53 PM