Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا،


دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا،
 Posted on: 10/3/2026

دنیامیں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب پرامن طریقے سے نہیں آیا، ہرجگہ ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم، قابض قوتوں اورمقبوضہ عوام کے درمیان لڑائی کے بعد ہی انقلاب آیاہے اورمقبوضہ قوموں کو آزادی حاصل ہوئی ہے۔
18ویں صدی تک امریکہ برطانوی سلطنت کی کالونی تھا،امریکہ کے عوام سرجھکا کر برطانوی سلطنت کے ظلم کوبرداشت کرتے رہے، لیکن پھر1775ء میں امریکہ کے عوام نے سلطنت برطانیہ سے آزادی کے لئے جدوجہد شروع کردی، اس دوران باقاعدہ گھمسا ن کی جنگ ہوئی، یہ جنگ تقریروں اوروعظوں سے نہیں بلکہ بندوقوں سے ہوئی۔امریکہ کی اس جدوجہد آزادی کو Revolutionary War of Independence  کہا جاتا ہے۔
اسی طرح برطانوی سلطنت سے آزادی کے لئے برصغیر کی جنگ آزادی برسوں تک جاری رہی۔ اسی طرح بلوچ عوام بھی 1948ء سے بلوچستان کی آزادی کے لئے لڑرہے ہیں جسے 1948ء میں فوجی طاقت کے ذریعے پاکستان میں شامل کیاگیاتھا اوراس کے خلاف مزاحمت کرنے پر بلوچوں کوقتل کیا گیا، انہیں پھانسیاں دی گئیں۔ اگرامریکہ کی آزادی کی جنگ کوRevolutionary War of Independence  کہہ سکتے ہیں تو پھر بلوچوں کی اس جنگ کو  Revolutionary War of Independence  کوکیوں نہیں کہا جاسکتا؟  بلوچ عوام کہتے ہیں کہ ان کی سر زمین پر زبردستی قبضہ کیا گیا ہے لہٰذا تمام ایجنسیاں بلوچستان سے نکل جائیں، بلوچستان سے قبضہ ختم کیاجائے اوربلوچستان کو آزاد کردیا جائے۔جوبلوچ مزاحمت کاراپنی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھائے ہوئے، ان بلوچوں کو”فریڈم فائٹر“کے بجائے غداراورملک دشمن کیوں قرارد یاجاتا ہے؟ انہیں فتنہ الہندوستان کیوں کہا جاتاہے؟ 
دنیامیں جہاں بھی کوئی ریاست ماورائے آئین وقانون کام کرے، ریاست کے ادارے کسی بھی قوم کے لوگوں پرظلم ڈھائیں، ان کے نوجوانوں کوقتل کریں،ان کے گھروں میں داخل ہوکران کے بزرگوں اور بچوں پر تشددکریں، ان کی ماؤں بہنوں کے سروں سے چادریں کھینچیں، ان کی بے حرمتی کریں، ان کی حرمت اورتقدس پامال کریں اورکسی قوم کو دبانے کے لئے ماورائے قانون عمل کریں تواس عمل کے خلاف لوگوں کی جانب سے بھی ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho  Reactionary Action  یعنی نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے اوراس نفسیاتی ردعمل میں لوگ قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ردعمل نیوٹن کے تیسرے قانون حرکت Third Law of Motion کے تحت ہوتاہے، یعنی ہرعمل کا ردعمل ہوتاہے اورمخالف سمت میں ہوتا ہے۔ہرایکشن کاری ایکشن ہوتاہے، یعنی اگرآپ قانون کے خلاف کسی کے ساتھ زیادتی کریں گے تو زیادتی کانشانہ بننے والے بھی خلاف قانون ردعمل کا اظہار کرتے ہیں، پتھرمارتے ہیں، یاردعمل میں کچھ بھی کرتاہے، دنیامیں ہرجگہ اسی طرح نفسیاتی ردعمل ہوتا ہے۔ اگردنیامیں کہیں بھی کوئی انقلاب آتاہے تواس کے پیچھے عوام کا ”سائیکو ری ایکشنری ایکشن“ Psycho Reactionary Action یعنی نفسیاتی ردعمل کارفرما ہوتا ہے۔

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر478 سے خطاب
2، اکتوبر2026ء



10/4/2026 8:47:25 AM