Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

یہ کیسی آزادی ہے؟


یہ کیسی آزادی ہے؟
 Posted on: 8/15/2026

یہ کیسی آزادی ہے؟ #JusticeForAmirRazaAli اگرکوئی ملک اپنےآپ کوآزاداورخودمختار کہتا ہولیکن اس ملک کے جغرافیہ میں رہنےوالےشہری غلام ہوں،خواہ وہ اکثریت میں ہوں یااقلیت میں ہوں، اس ملک میں غلامی کا ہونا آزادی کی نفی کہلاتا ہے۔  پاکستان 14اگست 1947ء کوقائم ہوا لیکن حقیقت یہ ہےکہ 14 اگست 1947ء کوگورے انگریزوں سے آزادی کے بعد پاکستان کے عوام کالے انگریزوں کے غلام بن گئے تو پاکستانیوں کوآزادی کہاں ملی؟  جس ملک میں انصاف کے ایوانوں پر خاموشی کا تالہ لگا ہو، وہاں عدالتیں تو موجودہوں لیکن وہ حق اورسچ کی بنیاد پر فیصلہ دینے سے قاصر ہوں، آپ اپنے اوپرہونے والی ناانصافیوں اورزیادتیوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کریں تو وہ آپ کوانصاف نہ دیں بلکہ آپ کی فریاد کو اٹھا کرباہرپھینک دیں، توآپ انصاف کے لئے کہاں جائیں؟ پھرایسی عدالتوں کی کیاضرورت باقی رہتی ہے؟  1992ء میں MQM کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوا، ہم نے ریاستی مظالم اور مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی انصافیوں اورحق تلفیوں کے خلاف 1994ء میں ممتازماہرقانون بیرسٹر ڈاکٹر فاروق حسن کےذریعے سپریم کورٹ میں ایک تفصیلی پٹیشن دائر کی، آج 34سال ہوگئے لیکن آج تک اس پٹیشن کی سماعت نہیں ہوئی۔ پی ٹی آئی کے سربراہ اورسابق وزیراعظم عمران خان صاحب اوران کے رہنماء تین سالوں سے جیلوں میں قید ہیں، ان کے پاس وکلاء کی پوری بارات ہے جنہوں نے ہائیکورٹ اورسپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے کہ عمران خان کی بہنوں اور وکلاء کوان سے ملاقات کی اجازت دی جائے لیکن وہ آج  تک انصاف حاصل کرنے سے قاصرہیں۔  جب انصاف کے ایوانوں میں قفل لگے ہوں، جہاں عدالتوں کے ججز بھی طاقتوروں کے ہاتھوں قید اور دباؤ میں ہوں، عوام کے سوچنے، بولنے اور ضمیر پر بھی پابندیاں ہوں، کیاایسے ملک کوآزاد اور خودمختار کہا جاسکتاہے؟ کیا آزاد وطن کی یہ علامات ہوتی ہیں؟ یہ کیسی آزاد ی ہے؟ آخرایسی صورت میں کس آزادی کاجشن منائیں؟ کہا جاتا ہے کہ14 اگست کوپاکستان آزاد ہوا،یہ کلینڈر میں موجود صرف ایک تاریخ ہے،اس کے بعد سب مٹاہواہے۔ جو حقیقی اورسچی آزادی ہوتی ہے اس میں عوام آزادہوتے ہیں، آزادی صرف کسی ملک یا جغرافیہ کی آزادی نہیں ہواکرتی بلکہ حقیقی آزادی وہ ہے جس میں ملک میں آئین اورقانون کی حکمرانی اور بالادستی ہو، جہاں عدلیہ اورتمام ادارے اپنے اپنے دائرے میں رہ کرآزادی کے ساتھ اپنا اپنا کام کریں، جہاں عدلیہ آزاد ہو اور وہ کسی بھی قسم کے خوف وخطر اور دباؤ کے بغیر آزادی کےساتھ فیصلے کرسکے، جہاں ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق میسرہوں، سب کوبرابر کا شہری سمجھاجاتا ہو۔ مگر پاکستان میں عدلیہ،طاقتوروں کے زیراثرہے، بدقسمتی سے پاکستان میں ہرقسم کی آزادی، تمام تر حقوق اور خوشیاں صرف دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے ان گھرانوں کے لئے ہیں جونسل درنسل اقتدارکی مسندوں پر براجمان ہیں۔پاکستان کے نام پر آئی ایم ایف اورعالمی مالیاتی اداروں اورمختلف ممالک سےکھرب ہا کھرب ڈالر کی امداد، قرضے اورگرانٹ حاصل کی گئیں مگرملک میں کوئی ترقی اورخوشحالی نہیں آئی، ملک کے 98 فیصد غریب و متوسط طبقہ کے عوام آج بھی بنیادی سہولتوں اوراپنے حقوق سے محروم ہیں، کیاملک صرف اس دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے لئے ہی قائم ہواہے؟ کیاایسی صورت میں غلامی کی زندگی گزارنے والے 98فیصد عوام کوجشن منانازیب دیتا ہے؟ کیا ملک میں رہ کرکوئی یہ بلاخوف وخطریہ کہہ سکتاہے کہ ملک میں ظلم وجبراورانصافیاں کی جارہی ہیں؟ جب ہمیں اپنے دکھ کااظہاراورظلم کوظلم کہنے کی بھی اجازت نہیں توپھر کس بات کی آزادی ہے؟  جوجشن منارہے ہیں وہ ان مظلوم ماؤں سے جاکرپوچھیں جن کے جگر کے ٹکڑے تشددکرکے ماورائے عدالت قتل کردیے گئے، جن کے بچے برسوں پہلے گھروں سے اٹھائے گئے، وہ حکمرانوں اور عدالتوں سے مایوس ہوکربرسوں سے اپنے بچوں کی واپسی کی راہ تک رہی ہیں، آخر وہ آج کس بات کاجشن منائیں؟ جن کے گھروں میں ماتم ہو، ان کے سامنے جشن منانا،ڈھول تاشے بجانا،کیا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے متراف نہیں؟ کیاوہ اپنے بچوں کے قتل اورجبری گمشدگی کا جشن منائیں؟ الطاف حسین 34 برسوں سے جلاوطن ہے، آخرمیری آزادی کوکس نے چھیناہے؟2016ء میں کراچی میں میرے گھر نائن زیرو (494/8 عزیزآباد) کو سیل کیاگیا اورپھر بارود کے دھماکے کرکے اسے آگ لگادی گئی اورپھربلڈوز کردیاگیا،اس کے باوجود آج بھی اس تباہ حال گھر پر فوج بیٹھی ہے۔
میرے ہزاروں پیارے پیارے معصوم وبے گناہ ساتھی پولیس مقابلوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل کردیے گئے، کیاان میں سے کسی ایک کی ماں، باپ، بھائی بہنوں، بیوی بچوں کو انصاف ملا؟ آج بھی میرے ساتھیوں کوگرفتار کرکے لاپتہ کیا جارہا ہے،نثارپنہور اوران کے بیٹے محسن پہنور گزشتہ دس ماہ سے لاپتہ ہیں، فیصل مجیب کئی ماہ سے لاپتہ ہیں، کراچی اورحیدرآباد کے کئی ساتھی لاپتہ ہیں، ان کی ماؤں، بہنوں،بزرگوں، بیوی بچوں پر کیاگزررہی ہے، ان کے گھروں میں رونا پیٹنا ہے، کیا وہ کوئی جشن مناسکتے ہیں؟ آپریشن کے دوران میرے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین کوگرفتار کرکے سفاکی سے قتل کردیا گیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگرفتارکرکے اڈیالہ جیل میں قید کرکے کئی ماہ تک تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ بھی شہید ہوگئے،میں اپنے بھائی،بھتیجے اوربہنوئی کے قتل کاحساب کس سے مانگوں؟ میں اپنے ہزاروں ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل کاحساب کہاں مانگوں؟ کراچی کے ہونہار نوجوان میررضاعلی کوانتہائی بیدردی اورسفاکی سے قتل کردیاگیا،اس کے قاتل نہیں پکڑے گئے، اس کے گھروالوں کو انصاف نہیں دیاگیا، وہ آج کس طرح جشن منائیں؟  آج کشمیرکا چپہ چپہ لہو لہوہے، کشمیرکا کونساعلاقہ ہے جہاں سے اپنے حقوق کے لئے آوازاٹھانے والےکشمیریوں کے جنازے نہ اٹھائے گئے ہوں، آج بھی وہاں کشمیریوں کے ساتھ زیادتیاں کی جارہی ہیں، یہ کیسی آزاد ی ہے؟  ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا، ہم نے 1991ء میں پاکستان کے جشن آزادی کے موقع پر تین روزہ قومی میلہ منعقد کیا اورایساتاریخی جشن چراغاں کیا تھا کہ شہرکا کوئی علاقہ ایسا نہ تھاجوروشن نہ ہو،جہاں چراغاں نہ ہو لیکن ہمیں اس کاانعام اس طرح دیا گیا کہ ایک سال کے بعد ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا گیا اورہم پر ملک دشمنی کا بہتان لگایا گیا، ہمیں غدارقراردیا گیا۔ ہم غدار نہیں اس ظالمانہ نظام کے باغی ہیں، ہم اپنے حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، ہم نہ بھی رہے تو ہماری نسلیں یہ جدوجہد جاری رکھیں گی جب تک وہ اپنے حقوق اورحقیقی آزادی حاصل نہیں کرلیتیں۔  الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 448  ویں فکری نشست سے خطاب 14  اگست 2026ء (مکمل فکری نشست سنئیے 👇)


8/16/2026 3:49:27 PM