Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگر سندھ تقسیم ہواتوسندھ میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ میں دھمکیاں دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس کوماریں گے؟ کس کے خون کی ندیاں بہائیں گے؟ آخرانہوں نے مہاجروں کوکیا سمجھ لیا ہے؟


اگر سندھ تقسیم ہواتوسندھ میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ میں دھمکیاں دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس کوماریں گے؟ کس کے خون کی ندیاں بہائیں گے؟ آخرانہوں نے مہاجروں کوکیا سمجھ لیا ہے؟
 Posted on: 8/8/2026 1

چندروزقبل وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک خطاب میں پاکستان کے سسٹم کوتباہ قراردیتے ہوئے ملک میں نئے صوبے اورانتظامی یونٹس بنانے کی تجویزپیش کی تھی جس پر پورے ملک میں بحث ہورہی ہے،کوئی کہتا ہے کہ پاکستان میں 20 صوبے بنائے جائیں، کوئی کہتا ہے کہ 33 صوبے بنائے جائیں۔ اس معاملے پر صدرآصف زرداری توخاموش ہیں لیکن پیپلزپارٹی کے نچلی سطح کے لوگوں اور سندھ کے بعض قوم پرستوں نے مہاجروں کوبلواسطہ یابلاواسطہ دھمکیاں دیناشروع کردی ہیں کہ اگر سندھ تقسیم ہواتوسندھ میں خون کی ندیاں بہیں گی۔ میں دھمکیاں دینے والوں سے پوچھتا ہوں کہ وہ کس کوماریں گے؟ کس کے خون کی ندیاں بہائیں گے؟ آخرانہوں نے مہاجروں کوکیا سمجھ لیا ہے؟ صوبوں کی بات نہ ایم کیوایم نے کی، نہ ہی الطاف حسین نے کی، یہ تووفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کی ہے اورآج بلاول زرداری نے کشمیرمیں اپنے خطاب میں صوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرعوام کی اکثریت نئے صوبے چاہتی ہے توہم بھی حمایت کریں گے۔ بلاول صوبوں کے قیام کی حمایت کرے توجائز لیکن اگرالطاف حسین حمایت کرے تو سندھ دشمن قراردیا جائے، یہ کیادوعملی ہے؟ مہاجروں کو دھمکیاں دینے والے قوم پرستوں نے صوبوں کی حمایت کرنے پربلاول کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ یہ آصف زرداری کے خلاف کیوں نہیں بولے جواس معاملے پرخاموش ہیں؟ یہ بلاول سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ اسلام آباد میں جا کرصوبوں کے قیام کے خلاف جلوس نکالیں؟ مہاجروں کے خلاف بلاوجہ نفرت کیوں پھیلائی جارہی ہے؟ انہیں دھمکیاں کیوں دی جارہی ہیں؟ 
میں ایم کیوایم اورمہاجروں کے خلاف یہ نفرت گزشتہ کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں، کچھ متعصب پوسٹ کاسٹراپنے پروگراموں میں مہاجروں کے خلا ف بلاجوازنفرت پھیلارہے ہیں،شاید انہیں زداری صاحب کی جانب سے اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ شروع ہوجائیں کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے۔ اب صوبوں کے قیام کا بہانہ بنا کر بعض قوم پرست مہاجروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔  
میں متنبہ کرتا ہوں کہ اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ مہاجروں کوکاٹ کردریائے سندھ میں پانی کی جگہ ان کاخون بہائے گاتو وہ یادرکھے کہ جن کاخون بہایاجائے گا، ان کے بھی دوہاتھ ہیں، ان کی بھی آنکھیں ہیں، لہٰذا کیوں خون خرابے کی باتیں کررہے ہو؟ مہاجروں کوبلاوجہ برابھلا کہنا اورانہیں دھمکیاں دینا بند کرو، مہاجر مار کھا کھا کراتنے مضبوط ہوگئے ہیں کہ وہ مارنے والوں کے ہاتھ روک سکتے ہیں، لہٰذامرنے مارنے اورخون خرابے کی باتیں نہیں کرو، جوبات کرنی ہے حکومت سے کرو، جو نیا سسٹم لارہے ہیں ان سے کرو۔ فیلڈ مارشل عاصم منیراوروزیرداخلہ محسن نقوی کومہاجروں کوبلواسطہ یابلاواسطہ دی جانے والی دھمکیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔
جولوگ کہتے ہیں کہ لسانی بنیاد پر کوئی صوبہ نہیں ہونا چاہیے، میں ان سے سوال کرتاہوں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں سے کس صوبے کا نام لسانی بنیاد پر نہیں ہے؟ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا کیا ہے؟ کیا سندھیوں کا  سندھ، پنجابیوں کا پنجاب، بلوچوں کا بلوچستان، پشتونوں کاخیبرپختونخوا نہیں ہے؟ پختونخواہ صوبے کا نام پہلے صوبہ سرحد NWFP  یعنی نارتھ ویسٹ فرنٹیئر پروونس تھا، پشتونوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اس کانام پشتونستان رکھاجائے،ان کا مطالبہ درست تھا لہٰذا آج صوبہ سرحد خیبر پختونخوا ہے۔ نفرت اورتعصب کی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مہاجرکوئی قوم نہیں ہے۔ میں سوال کرتاہوں کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت جومہاجریوپی، سی پی، بہار، علی گڑھ، حیدرآباد دکن، راجھستان،گجرات یا ہندوستان کے دیگرعلاقوں سے پاکستان آئے، کیاان کی مادری زبان سندھی، پنجابی، بلوچی یا پشتو تھی؟ کیا ان کی مادری زبان اردو نہیں ہے؟ اگرکوئی کہتا ہے کہ اردوتوقومی زبان ہے، تواردوکوقومی زبان الطاف حسین یاایم کیوایم نے نہیں بنائی تھی، آپ اردوکوقومی زبان سے ہٹادیجئے لیکن آپ ہم سے ہماری زبان، ہماری پہچان نہیں چھین سکتے، آپ یہ نہ بھولیں کہ یوپی، سی پی، بہار، علی گڑھ، حیدرآباد دکن، راجھستان،گجرات جہاں تحریک پاکستان چلی مگر پاکستان ان علاقوں میں نہیں بنا، انہوں نے قیام پاکستان کے لئے 20لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جب وہ پاکستان کی خاطراپناسب کچھ لٹا کر یہاں آئے تووہ کوئی روبوٹ نہیں بلکہ جیتے جاگتے انسان تھے، وہ اپنے ساتھ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے، جب انہوں نے ہجرت کی تووہ خالی جسموں کی ہجرت نہیں تھی، بلکہ وہ لباس کی بھی ہجرت تھی، وہ زبان کی بھی ہجرت تھی، تہذیب وثقافت کی بھی ہجرت تھی۔اگرموجودہ پاکستان میں رہنے والے لوگوں کی پانچ ہزار سالہ تہذیب ہے تو ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کی بھی تہذیب پانچ ہزارسال سے زیادہ پرانی ہے۔ وہ آج سندھ میں بس رہے ہیں توانہیں ان کی زبان، ان کی تہذیب اورثقافت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ ہم سب کااحترام کرتے ہیں،ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے۔ ہماری ایم کیوایم میں تمام قوموں اورتمام زبانیں بولنے والے شامل ہیں، جوملک میں منصفانہ نظام کے قیام کے لئے خود بھی قربانیاں دے رہے ہیں، ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سابق رکن اورسابق رکن پارلیمنٹ نثارپہنوراوران کے صاحبزادے محسن پہنورآج بھی لاپتہ ہیں۔ لہٰذا سندھ میں سندھی مہاجر کی تفریق پیدانہ کریں اورنفرتیں نہ پھیلائیں۔
میں باشعور اورپڑھے لکھے سندھی عوام خصوصاًنوجوانوں سے کہتاہوں کہ وہ یہ سوال اٹھائیں کہ سندھ کے چند قوم پرست نفرت، تعصب اورقوم پرستی کی باتیں کیوں کررہے ہیں؟
 پیپلزپارٹی والے ایم کیوایم اورمہاجروں پر سندھ کی تقسیم کا بہتان کیوں لگارہے ہیں، سندھ میں لسانیت اور دیہی اورشہری تقسیم کی الطاف حسین نے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے دیہی شہری تقسیم سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کرکے کردی تھی۔ 
میں عوام سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے اتحاد کا مظاہرہ کریں اورنفرتیں پیدا کرنے والوں کی کوششیں ناکام بنادیں۔

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 443  ویں فکری نشست سے خطاب
7  اگست 2026ء 


8/10/2026 1:53:20 PM