Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کشمیرمیں فوج کشی فی الفوربند کی جائے، یہ کشمیر کے لئے بہترہے اور پاکستان کے لئے بھی بہتر ہے۔


 کشمیرمیں فوج کشی فی الفوربند کی جائے، یہ کشمیر کے لئے بہترہے اور پاکستان کے لئے بھی بہتر ہے۔
 Posted on: 6/13/2026

کشمیرمیں فوج کشی فی الفوربند کی جائے، یہ کشمیر کے لئے بہترہے اور پاکستان کے لئے بھی بہتر ہے۔

پاکستان اورانڈیا گزشتہ 80 برسوں سے کشمیرکے ساتھ فٹبال کی طرح کھیلتے رہے ہیں، دونوں ممالک کشمیرکو فٹبال کی طرح لات مار کرایک دوسرے کی طرف پھینکتے رہے ہیں اور80 برسوں سے کشمیری عوام کے ساتھ مذاق ہوتا رہا ہے۔ اصولی طورپرکشمیر، کشمیریوں کا ہے اور اب کشمیریوں کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ کشمیرانہی کا رہے گا۔ یہ بات ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آئینی وقانونی طورپر آزادکشمیرپاکستان کا حصہ نہیں ہے، جولوگ یہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا پاکستان سے الحاق ہوچکاہے، وہ غلط کہتے ہیں، حکومت پاکستان خو د بھی سپریم کورٹ میں بھی باقاعدہ یہ بات کہہ چکی ہے کہ آزاد کشمیر پاکستان کاحصہ نہیں ہے۔اگرآزاد کشمیرآئینی طورپر پاکستان کا حصہ ہوتا توآج پاکستان کے چارنہیں پانچ صوبے ہوتے۔
آزادکشمیرکہنے کوآزاد ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آزادکشمیر کواسلام آباد سے چلایا جارہا ہے اورآزاد کشمیر اپنے فیصلے کرنے میں آزاد نہیں ہے۔ آئینی طورپروفاق پاکستان کوآزادکشمیر کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔آزادکشمیر کے عوام اپنے حقوق سے محروم ہیں اور اپنے بنیادی حقوق کے لئے پرامن احتجاج کررہے ہیں تووہاں رینجرز، فرنٹیئر کانسٹبلری اورسیکوریٹی فورسزبھیج کرطاقت کے ذریعے کشمیری عوام کو دبایا جارہا ہے۔جبکہ وفاق پاکستان کے پاس آئینی طورپرایساکوئی اختیارنہیں ہے کہ وہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے پولیس، رینجرز، ایف سی اوردیگر سیکوریٹی فورسز کوآزادکشمیر میں بھیجیں۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تویہ اقدام آزادکشمیر کے 1974کے ایکٹ کی روح کے سراسرخلاف ہے۔ اگر وفاق پاکستان یہ کہتا ہے کہ ہم یہ اقدام آزادکشمیر کی حکومت کی درخواست پر کرتے ہیں تو دراصل یہ بات آزاد کشمیر میں مداخلت کرنے کے جوازاورآزاد کشمیرمیں مداخلت کرنے کے بہانے کے طورپر بیان کی جاتی ہے۔
اس وقت آزادکشمیر کے علاقوں خصوصاً راولاکوٹ سے جواطلاعات سامنے آرہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ آزادکشمیر کے لوگ بتارہے ہیں کہ سیکوریٹی فورسز وہاں پرامن مظاہرین کوگولیاں مار ری ہیں، وہاں بے شمار ہلاکتیں ہوئی ہیں، لاشوں کوبھی غائب کردیاگیا ہے،انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی ہے، پولیس اورسیکوریٹی فورسزوہاں گھروں میں گھس رہی ہیں، دکانوں میں لوٹ مارکررہی ہیں، علاقے میں کرفیولگا دیا گیا ہے اورلوگوں کوگھروں سے نکلنے نہیں دیاگیا، حتیٰ کہ انہیں جمعے کی نماز بھی اداکرنے نہیں دی گئی۔ میں آزادکشمیر میں ہونے والے ان یزیدی مظالم کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اورحکومت پاکستان سے کہتا ہوں کہ کشمیرمیں فوج کشی اورمظالم کایہ سلسلہ فی الفوربند کردیاجائے، یہ کشمیر کے لئے بھی بہترہے اور پاکستان کے لئے بھی بہتر ہے۔ میں اورمیری ایم کیوایم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتی ہے اورہم کشمیریوں کے تمام جائزمطالبات کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور ارباب اختیارسے کہتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کے تمام حقوق دیئے جائیں اوران کی محرومی دور کی جائے۔
میں پوچھتا ہوں کہ اپناحق مانگنے پر قوموں پر مظالم ڈھانے اورطاقت سے کچلنے کی پالیسی سے ہم ملک کو کہاں لیکر جارہے ہیں؟ایسے ہی مظالم کے نتیجے میں آج بلوچستان کے بہت سے علاقوں میں پاکستان کی عملداری ختم ہوچکی ہے۔ قبائلی علاقوں میں آپریشن کے نام پر آبادیوں کوخالی کرکے لوگوں کوآئی ڈی پیز بنایا جارہا ہے، مسلسل فوجی آپریشن،ڈرون حملوں اوربمباری کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں نفرت کی آگ کے شعلے آسمانوں کوچھورہے ہیں، اندرون سندھ میں پہلے سندھیوں کے خلاف آپریشن کیا گیا اورپھرمہاجروں کے خلاف فوج کشی کی گئی، پنجاب میں بھی جوکریک ڈاؤن کیا گیا اس کی وجہ سے پنجاب کے نوجوانوں میں بھی اس ظلم کے خلاف نفرت پیدا ہورہی ہے،تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کوان کی بہنوں اوروکلاء تک سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اوراب کشمیر میں بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ میں ارباب اختیار سے کہتا ہوں کہ خداکے لئے اپنے ملک کے عوام پریہ ظلم بند کردواورپاکستان پر رحم کرو،ظلم وستم کے باعث پاکستان پہلے ہی ٹوٹ چکاہے، خدارا باقی ماندہ پاکستان کے ساتھ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 414 ویں فکری نشست سے خطاب
12جون 2026ء



6/13/2026 10:21:44 AM