بنگلہ دیش میں محصور پاکستانی اوراقوام متحدہ کاکردار:::
جب مشرقی پاکستان میں فوج حقوق کامطالبہ کرنے والی بنگالی قوم کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہی تھی جس کے جواب میں بنگالیوں نے بھی اپنی بقاء کے لئے ہتھیار اٹھالیے تھے۔ایسے میں سابقہ مشرقی پاکستان میں اردواسپیکنگ مہاجروں نے پاکستان کوبچانے کے لئے پاکستانی فوج کا بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔انہوں نے پاکستان کے دفاع کیلئے سات لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ خانہ جنگی کے بعد پاکستانی فوج نے انڈین فوج کے آگے ہتھیارڈال دیئے اوریوں 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا۔پاکستان کی 90ہزار پاکستانی فوجی جنگی قیدی بنکرانڈیابھیج دیے گئے۔ اس صورتحال میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والے اردواسپیکنگ یک و تنہا رہ گئے اوربنگالیوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام کیاجانے لگا۔اس موقع پر اقوام متحدہ نے زمین خرید کر 66 کیمپ بنائے جہاں اردو اسپیکنگ کو پناہ دلوائی گئی۔ہتھیار ڈالنے والی 93 ہزار سے زائد پاکستانی فوج انڈین فوج کی قیدمیں رہنے کے بعد وطن واپس آگئی لیکن ریڈکراس کے کیمپوں میں پناہ لینے والے مہاجر آج 55 سال گزر جانے کے باوجود وطن واپس نہ لائے جاسکے۔ان مہاجرین مشرقی پاکستان کی تین نسلیں ختم ہوچکیں، چوتھی نسل جوان ہورہی ہے اورپانچویں نسل پروان چڑھ رہی ہے لیکن وہ 55سال گزرجانے کے باوجود آج بھی ریڈ کراس کے 66 کیمپوں میں محصور ہیں۔وہ آج تک پاکستان سے وابستگی اورمحبت کا مظاہرہ کررہے ہیں، اپنے کیمپوں میں پاکستان کے پرچم لہراتے ہیں، اقوام متحدہ نے ان محصورین بنگلہ دیش کو کیمپ توفراہم کردیئے لیکن کیا اس نے کبھی پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ محصورین بنگلہ دیش نے پاکستانی فوج کاساتھ دیا تھا یہ تمہارے اپنے لوگ ہیں لہٰذا ان محصورین کو پاکستان واپس لے جایا جائے؟ یہ پاکستانی آج تک ریڈکراس کے کیمپوں میں کیوں محصور ہیں؟
سیکوریٹی کونسل کے 5 رکن ممالک کی اجارہ داری:::
اقوام متحدہ کاڈھانچہ انصاف اور یکسانیت کی بنیاد پر نہیں رکھا گیا بلکہ اس کی بنیاد دہرے معیار پر رکھی ہے۔ اب اس طرز عمل کو کیانام دیا جائے کہ اقوام متحدہ کے 190سے زائد ممبران ہیں، اگران میں سے کسی بھی رکن ملک پر امریکہ یا برطانیہ حملہ آور ہوں، اقوام متحدہ کا سیکریٹری جنرل فلسطینی عوام پر جارحیت اوربمباری میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرکے رونے لگے اور اقوام متحدہ کے ممبر ممالک مطالبہ کریں کہ اسرائیل کی جارحیت بند کرائی جائے، اسرائیل پر پابندیاں عائد کی جائیں اورمقبوضہ علاقوں کو اسرائیلی فوج سے خالی کرایا جائے۔ اقوام متحدہ کے 90 فیصدرکن ممالک نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کئی بار ووٹ دیا لیکن جب یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل میں گیا تو وہاں ویٹوپاور رکھنے والے ممالک نے اکثریت کی رائے کو ملیا میٹ کردیا، اس دہرے معیار اور ویٹو پاور کے نقائص نے اقوام متحدہ کے نظام انصاف کو تہہ وبالا کرڈالاہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ویٹو پاور کے اختیار کو ختم ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کے نظام کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ اقوام متحدہ کا موجودہ نظام Might is right یعنی ”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“ کے اصول پر چل رہا ہے، اقوام متحدہ پراس کی سیکوریٹی کونسل کے چند اراکین کی اجارہ داری ہے جبکہ اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ دنیاکے تمام ممالک کے ساتھ برابری کا سلوک کیاجائےگا لیکن سیکوریٹی کونسل میں ویٹو پاورکااختیاررکھنےوالے 5 اراکین جن میں امریکہ، برطانیہ، چائنا، فرانس اورروس شامل ہیں،ان پانچ ممالک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگراقوام متحدہ کے تمام 190رکن ممالک مل کر کوئی متفقہ فیصلہ کرلیں تواقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کے ان پانچ اراکین میں سے کوئی بھی ایک رکن ویٹو پاور استعمال کرکے اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے اکثریتی فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک سکتا ہے، کیونکہ یہ ممالک اپنے اتحادی جارح ملک کے ظلم وستم کو درست سمجھتے ہیں۔اس طرح اقوام متحدہ کے 190رکن ممالک سیکوریٹی کونسل کے پانچ ارکان کے سامنے بے بس ہیں، ان کے محتاج ہیں، انصاف کے طالب ہیں اورویٹو پاور رکھنے والے سیکوریٹی کونسل کے پانچ ارکان اقوام متحدہ کے 190رکن ممالک کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔آج وقت کاتقاضا ہے کہ عالمی امن کے قیام اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے کوانصاف کے اصولوں پر نئے سرے سے تشکیل دیا جائے اورسیکوریٹی کونسل کے پانچ ممالک کو حاصل ویٹو پاورکااختیار سرے سے ختم کردیاجائے۔
امریکہ ایران مذاکرات:
امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات کو ایک مہینہ ہوگیا، امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم کوختم کردے کیونکہ خدشہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنالے گا، اقوام متحدہ یہ مطالبہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اورچائنا سے کیوں نہیں کرتا کہ تم قدرت کی کوئی خاص مخلوق نہیں ہوکہ تم ایٹمی ہتھیار رکھ سکتے ہو لیکن ایران ایٹمی ہتھیارنہیں رکھ سکتا۔امریکہ نے بیشتر ممالک پر ایٹمی ہتھیار کے الزامات لگاکر نہ صرف وہاں بمباری کی بلکہ ان ممالک پر پابندیاں بھی عائد کردیں۔ اب یہاں اقوام متحدہ کا دہرامعیار دیکھئے کہ روس اورامریکہ کی سرد جنگ بڑھتے بڑھتے افغانستان تک پہنچ گئی تو امریکہ نے افغانستان سے روس کونکالنے کیلئے پاکستان کواستعمال کیا،اس مقصد کے لئے امریکہ نے پاکستان کی فوج کو کھلا لائسنس دیا، بوریوں میں بھربھرکر ڈالرز فراہم کرکے جگہ جگہ مدارس قائم کرائے جہاں روس کے خلاف لڑنے والے لوگوں کو جنگی تربیت دی گئی، روس سے لڑنے کیلئے افغان مجاہدین اور طالبان بنائے گئے، ان مجاہدین کو ٹریننگ دے دیکر افغانستان بھیجاگیا،بارڈرپر امریکی سی آئی اے، برطانیہ کی ایم آئی فائیو، ایم آئی سکس اورپاکستان کی آئی ایس آئی کے لوگ موجود ہوتے تھے۔اس وقت امریکہ کی جانب سے ان مجاہدین کوفریڈم فائٹرز قراردیاگیااورانہیں وہائٹ ہاؤس میں بھی بلایاگیا۔آج امریکہ کے لئے کل کے مجاہدین دہشت گرد ہوگئے ہیں۔
امریکہ اورایران کے مابین پاکستان کی ثالثی کے نتائج آہستہ آہستہ سامنے آئیں گے اوردیکھتے جائیے کہ آگے آگے کیاہوتا ہے اورپاکستانی قوم کواس ثالثی کے کیا نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ پاکستان سمیت دیگراسلامی ممالک لازمی ابراہم معاہدے کاحصہ بنیں اورانہیں اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تازہ خبرہے کہ پاکستان، ترکی اورسعودی عرب نے کہہ دیا ہے کہ ہم اس معاملے میں امریکہ کاساتھ نہیں دیں گے اگر پاکستان اپنے اس مؤقف پرڈٹ جاتا ہے تو الطاف حسین اس مؤقف کاکھل کرساتھ دے گا۔
بلوچوں کی مزاحمتی تحریک:
بلوچ عوام اپنی ماں، بہن، بیٹی کی حرمت کے تقدس کی حفاظت کیلئے ہتھیار اٹھائیں یا مزاحمتی جدوجہد کریں تو انہیں فتنہ الہندوستان، دہشت گرد اور غدار کہاجاتا ہے اورپورا پاکستان ہم نوا بنکر فوج کی حمایت میں بلوچوں کو دہشت گرد اورغدار کہنے لگتا ہے۔کیاپاکستان کے عوام بالخصوص صوبہ پنجاب کے عوام نے کبھی غورکیا ہے کہ دہشت گرد اوررفریڈم فائٹر میں کیافرق ہے؟ صرف زاویہ نگاہ میں فرق ہوتا ہے اوراپنی زمین کی حفاظت اورآزادی کیلئے لڑنے والے کسی کیلئے فریڈم فائٹر ہوتے ہیں اور کسی کیلئے دہشت گرد ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ کو اچھی طرح علم ہے کہ بلوچستان میں کیاہورہا ہے، کس طرح بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، کس طرح تحریک انصاف کوالیکشن میں ہرایاگیا ہے، مہاجروں کے ساتھ کیا ہورہاہے، ایم کیوایم اوراس کے بانی وقائد الطاف حسین پر غیرآئینی، غیرقانونی اور غیرانسانی پابندیاں عائد ہیں، کس طرح وفاپرست کارکنوں کو گرفتارکرکے مہینوں تک جبری گمشدہ رکھاجارہا ہے لیکن تحریک انصاف اورایم کیوایم کے مظلوم کارکنوں کی رہائی کیلئے اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی اقدام نہیں کیاجاتا۔
میری دردمندانہ اپیل ہے کہ بلوچوں کو دہشت گرد کہنا بند کیاجائے، بلوچوں سے مذاکرات کیے جائیں، ان سے بات چیت کی جائے، ان کے زخموں پر مرہم رکھا جائے اور 81 سالہ مسئلہ کے حل کیلئے افہام وتفہیم اورمذاکرات کاراستہ اختیار کیاجائے۔میں مطالبہ کرتا ہوں کہ عید الاضحی کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنما عمران خان صاحب سمیت پی ٹی آئی کے رہنماؤں اورکارکنوں اورایم کیوایم کے تمام لاپتہ کارکنوں کو بازیاب اوراسیر کارکنوں کو جیلوں کی قید سے رہا کیا جائے تاکہ وہ بھی اپنے پیاروں کے ہمراہ عیدالاضحی کی خوشیاں مناسکیں، سب کے ساتھ انصاف سے کام لیاجائے اسی میں پاکستان کی بقاء وسلامتی ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 408ویں فکری نشست سے خطاب
26، مئی 2026