Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

کوئی بھی قوم خوشی سے ہتھیارنہیں اٹھاتی


  کوئی بھی قوم خوشی سے ہتھیارنہیں اٹھاتی
 Posted on: 5/25/2026

 کوئی بھی قوم خوشی سے ہتھیارنہیں اٹھاتی
بلوچوں کی داستانِ غم اورتاریخ  (4)

دنیاکے کسی بھی ملک، کسی بھی خطے میں کوئی بھی قوم خوشی سے ہتھیارنہیں اٹھاتی۔ کوئی بھی قوم، کوئی بھی قبیلہ، کوئی بھی گروہ یاکوئی بھی انسان خوشی سے بندوق نہیں اٹھاتا، ہرانسان عموماً امن وسکون دیکھنا چاہتاہے، وہ اپنے گھر میں بھی سکون سے رہنا چاہتاہے اوراپنے ملک میں بھی امن وسکون دیکھنا چاہتا ہے،اپنے بال بچوں کا اچھا مستقبل دیکھناچاہتا ہے۔ہرانسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں باعزت اورباوقار زندگی گزارے، کوئی بھی ماں باپ، یا کوئی بھی فرد یہ نہیں چاہتا کہ اس کا گھرمیدان جنگ بنے اور وہ اپنے جوان بیٹوں کی لاشیں اٹھائے۔ہرماں باپ کے لئے اس کی اولادبہت اہم اور قیمتی ہوتی ہے، لیکن جب بات ان کی زندگیوں کے تحفظ پرآجائے، ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کی عزت وآبرو پر آجائے، جب بات کسی قوم کی عزت، معاشرتی تہذیب اوراقدارپر آجائے، ان کے گھراور زمین پر ناجائزقبضے کی آجائے اورانصاف کے حصول کے لئے تمام راستے بند کردیئے جائیں توکسی فرد،کسی گروہ یاکسی قوم کے پاس سوائے اس کے اور کیا چارہ باقی رہ جاتا ہے کہ وہ اس کے تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھالے؟ 
جب کوئی طاقت کسی بھی قوم کاوجود مٹانے یا اس سے اس کی شناخت چھیننے کی کوشش کرتی ہے، اس کی شناخت اورتہذیب وثقافت کومٹانے کی کوشش کرتی ہے، اس کی چادروچاردیواری کے تقدس کوپامال کرتی ہے اوراس کے لئے انصاف کے حصول کے تمام راستے بند کردیتی ہے تویہ سب کچھ دیکھنے کے بعد خاموش رہنا کسی بھی غیرتمند قوم کے لئے ذہنی اوراخلاقی طورپر مرجانے کے برابرہوتاہے۔ایسے میں اسے ایک غیرتمند قوم کے طورپرزندہ رہنے کاثبوت دینے کے لئے اوراپنی آئندہ نسلوں کی بقاء اورانہیں ایک باعزت، باوقار اوربااحترام زندگی دینے کے لئے اس غیرتمند قوم کے افراد کے پاس آخری راستہ یہی بچتاہے کہ وہ اپنے وجود پر ہونے والے انفرادی واجتماعی حملوں سے بچاؤاوراپنی بقاء کے لئے دفاعی مزاحمت کرے۔ 
دنیا میں کوئی بھی خطہ ہو، جب وہاں کسی مظلوم قوم یا گروہ کے ساتھ مسلسل ناانصافیاں اورمظالم کئے جاتے رہیں، اپنے حق کے لئے آوازاٹھانے پر ان پر مزید ظلم کیا جاتا رہے، ان کاماورائے عدالت قتل کیا جاتا رہے، ان کی نسل کشی کی جاتی رہے، ان کی جبری گمشدگیاں کی جاتی رہیں، ان کے لئے انصاف کے حصول کے تمام راستے بند کردیئے جائیں، توان مظالم کا مسلسل نشانہ بننے والے بالآخر ا پنی بقاء اورحق کے لئے بندوق اٹھانے پر مجبور ہوجایا کرتے ہیں، بندوق اٹھانا ان کا شوق نہیں بلکہ مجبوری ہوتی ہے۔ 
 کوئی بھی خوشی سے بندوق نہیں اٹھاتا۔ ہتھیاراٹھانے والے افرادیا قوم کودہشت گرد قراردینے کے بجائے ان عوامل پر غورکرنا چاہیے کہ کسی گروہ یا قوم نے ہتھیارکیوں اٹھائے ہیں؟ جب مسلسل ظلم وستم کانشانہ بننے والی کوئی مظلوم قوم یا گروہ ظلم کے خلاف لڑنے پرمجبورہوتاہے تووہ دہشت گرد نہیں بلکہ”فریڈم فائٹر“ ہوتاہے۔
ہمیں اس مسلمہ حقیقت اور کلیہ کوسامنے رکھتے ہوئے بلوچستان کے مسئلے کاجائزہ لینا چاہیے اوربلوچوں کو ملک دشمن، غداراوردہشت گرد کہنے کے بجائے اس مسئلے کی تاریخ اوراس کے عوامل پرغورکرنا چاہیے۔ بلوچستان کامسئلہ آج کا نہیں بلکہ 80 برس سے چل رہاہے، قیام پاکستان کے وقت بلوچستان، پاکستان کاحصہ نہیں تھا بلکہ ایک آزاداورخودمختارریاست تھی، اس کواپنی قسمت کافیصلہ کرنے کا حق حاصل تھا، بلوچوں نے پاکستان کاح صہ بننے کے بجائے آزادرہنے کافیصلہ کیاتھالیکن طاقت کے ذریعے بلوچستان کو ساتھ ملایاگیا، بلوچوں نے اس جبری الحاق کے خلاف مزاحمت کی توان کے خلاف باربارفوجی آپریشن کئے گئے، ان کے رہنماؤں، سیاسی قائدین، سیاسی کارکنوں اورعوام لوگوں کا قتل کیا گیا،ان پر ریاستی مظالم ڈھائے گئے، ان کے وسائل پر قبضہ کیاگیا، انہوں نے اپنے حق اورانصاف کے لئے آئین، قانون، پارلیمنٹ، عدالت ہرراستہ اختیارکیا لیکن ہم نے بلوچوں کے لئے حق اورانصاف کے حصول کے تمام راستے بند کردیے۔ بالآخر بلوچ ان مظالم کے خلا ف ہتھیاراٹھانے پر مجبورہوگئے اورآج مسلح مزاحمت کررہے ہیں۔
ماہ رنگ بلوچ دیگرخواتین کے ساتھ ملکر انصاف کے لئے پرامن دھرنے، لانگ مارچ اور احتجاج کررہی تھیں، انہیں بھی گرفتارکرکے بند کردیا گیا ہے، اس ظلم کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب بلوچ خواتین بھی ہتھیار اٹھانے پرمجبور ہوگئی ہیں۔بلوچ عوام یہ سب کچھ خوشی سے نہیں کررہے ہیں،یہ ہتھیاراٹھانا ان کاشوق نہیں بلکہ ان کی مجبوری بن گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم بلوچستان کے مسئلے کے اسباب اوراس میں کارفرما عوامل پر غورکرنے کے بجائے انہیں دہشت گرد اورملک دشمن کہہ کر ماررہے ہیں۔
آج بات صر ف بلوچوں کی نہیں ہے بلکہ مسلسل فوجی آپریشن اورڈرون حملوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں کے پشتون عوام بھی ذہنی کرب واذیت کاشکار ہیں،برسوں سے جاری ریاستی آپریشن اورجبروستم کے نتیجے میں مہاجروں میں بھی پہلے سے زیادہ احساس محرومی اوربے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ ایران امریکہ کے مابین ثالثی کے ساتھ ساتھ پاکستان میں داخلی تنازعات کے حل کے لئے بھی مصالحت اور ثالثی کی کوششیں کی جائیں، بلوچوں، پشتونوں، مہاجروں اور دیگر مظلوم قوموں کے مسائل کو حل کرنے، ان کے زخموں پر مرہم رکھنے اورانہیں انصاف فراہم کرنے پرتوجہ دی جائے،اس سے ملک کا بھلا ہوسکتا ہے۔
میں حکومت پاکستان خصوصاً مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب اورتمام جرنیلوں سے کہتا ہوں کہ جس طرح آپ بین الاقوامی سطح پرجنگ کے خاتمے اورامن کے لئے ثالثی کررہے ہیں تواپنے ملک میں بھی ثالثی کریں، بلوچوں سے بات کریں، پختونخوا میں ڈرون حملے بندکریں، مہاجروں کے زخموں پر مرہم رکھیں، انہیں انصاف دیں، ایم کیوایم سے بات چیت کریں، تحریک انصاف سے بات چیت کریں،سب کے دل جیتیں تاکہ ہم سب ملکر پاکستان کی تعمیر وترقی کے لئے کام کریں۔ اسی طرح افغانستان جوپڑوسی ملک ہے اس سے بھی صلح جوئی کی کوشش کی جائے۔ 
میں پاکستان بھرکے عوام سے بھی کہتاہوں کہ وہ ملک کوبچانے کے لئے ان مسائل پرآوازاٹھائیں، ہمارا مذہب اورایمان کاپہلادرجہ یہ کہتاہے کہ ظلم کو ہاتھ سے روکو،ایمان کادوسرادرجہ یہ ہے کہ اگرظلم کوہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں ہے تواس کے خلاف آوازاٹھاؤ اورظلم کوظلم کہو، ایمان کاتیسرااورسب سے نچلادرجہ یہ ہے کہ اگرظلم کوزبان سے بھی ظلم نہیں کہہ سکتے تواسے دل میں ہی براکہو۔
میں نے اپنی پوری زندگی مہاجروں سمیت تمام محروم قوموں کے حقوق اور فرسودہ ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گزار دی ہے، میں اس مقصد کے لئے آج بھی آواز اٹھارہاہوں اور آواز اٹھاتا رہوں گا۔ میں ایسا پاکستان چاہتا ہوں جہاں سب کے ساتھ انصاف ہو،کسی کے ساتھ کوئی حق تلفی یاناانصافی نہ ہو، سب کوجان ومال اورعزت وآبروکا تحفظ حاصل ہواورسب کے ساتھ برابرکا سلوک کیا جائے  اورکسی کومسلسل ظلم ونا انصافیوں کے باعث ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 407  ویں فکری نشست سے خطاب
25  مئی 2026ء 


5/26/2026 5:58:44 PM