Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پرحملہ افسوسناک ہے


پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پرحملہ افسوسناک ہے
 Posted on: 11/25/2025

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پرحملہ افسوسناک ہے  کاش طالبانائزیشن کے حوالے سے ماضی میں میری بات سن لی جاتی توآج پاکستان میں مسلح افواج کے ہیڈکوارٹرزپر حملے نہ ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پرحملے کے افسوسناک واقعہ کے بعد ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم جوبوئیں گے وہی کاٹیں گے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم گلاب کے بیج بوئیں اور آم یاکسی اورپھل کاپودااُگائیں۔ میں گزشتہ 30برسوں سے جن خدشات کااظہار کرتارہا وہ سچ ثابت ہوتے رہے۔ میری واحدآواز تھی کہ ملک میں طالبانائزیشن نہ کی جائے۔اس وقت امریکہ اورروس کی سردجنگ میں پاکستان کی فوج اورزمین استعمال کی گئی جس کے عوض بوریاں بھربھرکے بے حساب ڈالرز مل رہے تھے، اگریہ ڈالرز ملک کی تعمیروترقی، خوشحالی اورعوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کیے جاتے تو بات سمجھ میں آتی کہ امریکہ کیلئے آپ کی خدمات سے پاکستان اور اس کے عوام کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ میں نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ دوبڑی سپرطاقتوں کے درمیان جنگ ہے، امریکہ اور روس دونوں ساؤتھ ایشیا ریجن کے گرم پانی تک رسائی کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں۔ اس دوران روس سینٹرل ایشیا کی ریاستوں پرقبضہ کرتے کرتے افغانستان پہنچ گیا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم عوام کو شعوری طورپربیدار کرتے تاکہ اگر روس پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرتا تو ملک کابچہ بچہ ذہنی وجسمانی طورپر تیار ہوتا اور کسی بھی قیمت پر روس کو پاکستان میں داخل نہ ہونے دیتے لیکن ہم نے روس اورامریکہ کی جنگ میں نہ صرف اپنا ملک دیدیا بلکہ اپنی فوج بھی دیدی اس کے بدلے بوریاں بھربھر کے ڈالرز پاکستان پہنچ رہے تھے تاکہ ہم پاکستان میں جہادی لشکرتیار کریں، طالبان بنائیں، ان کے رہنے سہنے اور کھانے پینے کیلئے جہادی مدرسے قائم کریں۔ لوگوں کی ذہن سازی کیلئے جہادی لٹریچر چھوٹے بڑے کتابچوں کی شکل میں امریکہ میں تیار کیاجاتا اور بحری جہازوں میں پاکستان پہنچایاجاتارہا۔ ان لٹریچرز میں قرآن مجیدکی ایسی آیات اوراحادیث کے حوالے دیئے گئے جودشمن سے لڑنے سے متعلق تھیں، جبکہ مولوی حضرات عوام سے سچ نہیں بولتے کہ بہت سی آیات مخصوص اوقات،مخصوص مواقع اور مخصوص چیزوں کیلئے نازل ہوئی تھیں اوران کے سیاق وسباق کاحوالہ دیئے بغیراگر بات کی جائے گی تو قرآنی آیات کا غلط استعمال ہوگا۔ دین اسلام کے پانچ ارکان ہیں اورجہاد کو چھٹا رکن کہا جاتا ہے، امریکہ میں شائع ہونے والے لٹریچرمیں جہاد سے متعلق آیات اوراحادیث کو شامل کیاگیا۔ اس کے بعد پاکستان میں بہت تیزی سے جہادی مدارس قائم کیے جانے لگے اوران مدارس میں بھرتی ہونے لگی جہاں جہادی لٹریچر پڑھایاجانے لگااور نوجوانوں کو مذہب کے نام پر عسکری تربیت دی جانے لگی کہ جو لوگ جہاد افغانستان میں جام شہادت نوش کرنے اوردشمنوں کو واصل جہنم کرناچاہتے ہیں وہ جہاد میں شامل ہوجائیں اس طرح انہیں کھاناپینا، رہائش اور تنخواہ بھی دی جانے لگی۔ جن نوجوانوں کو غربت اوربے روزگاری کاسامنا ہو اور ساتھ یہ پروپیگنڈہ بھی کیاجانے لگے کہ روسی کمیونسٹ ہیں،وہ اللہ اور کسی بھی مذہب کو نہیں مانتے جبکہ امریکی اگرمسلمان نہیں ہیں تو کیاہوا وہ اہل کتاب تو ہیں۔  آپ تاریخ اٹھاکردیکھ لیں کہ پاکستان میں سے پہلے طالبانائزیشن اورنام نہاد جہادیت کے خلاف ایک ہی مضبوط اورتوانا آواز الطاف حسین کی تھی لیکن پاکستان کے عوام الطاف حسین کی آواز پرکان کیوں دھرتے کیونکہ   اسٹیبلشمنٹ نے شروع دن سے ہی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سمیت ہرقسم کے ذرائع ابلاغ میں میرے خلاف جھوٹا، منفی اوربے بنیاد پروپیگنڈہ کرکے میری امیج خراب کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن اوراخبارات الطاف حسین کو دہشت گرد، ملک دشمن اور غدارقراردے رہے تھے تاکہ عوام کو مجھ سے دورکیاجاسکے۔ میں نے طالبان اور جہادی تنظیموں کے خلاف آواز اٹھائی تو کہاگیا کہ الطاف حسین جہاد کے خلاف بات کررہاہے، اس بات پر مجھے دائرہ اسلام سے خارج تک قراردے دیاگیا۔  میں نے40 سال قبل سندھ کے شہری علاقوں میں گلی گلی جاکرعوام کوسمجھایاکہ یہ جہاد نہیں،یہ امریکہ اورروس کی لڑائی ہے۔ یہ کفرواسلام اورحق وباطل کی جنگ نہیں ہے دوسپرطاقتوں کی سردجنگ ہے لہٰذا خدا اوررسول ؐ کے واسطے اس لڑائی کوجہادسمجھ کراس کے چکرمیں نہ پڑیں۔افسوس کہ اس وقت کے ارباب اختیارنے پاکستان کودوسپر طاقتوں کی اس لڑائی کاحصہ بنالیا۔


11/30/2025 2:56:48 PM