Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جس ملک میں عدالتی نظام طویل عرصے تک مفلوج رہے تو اس ملک کا نظام ہی مفلوج ہوجاتا ہے


جس ملک میں عدالتی نظام طویل عرصے تک مفلوج رہے تو اس ملک کا نظام ہی مفلوج ہوجاتا ہے
 Posted on: 11/29/2025


جس ملک میں عدالتی نظام طویل عرصے تک مفلوج رہے تو اس ملک کا نظام ہی مفلوج ہوجاتا ہے ………………………………… ہرگزرتے دن کےساتھ جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہےاور جبری گمشدگیوں کے معاملےپر عدالتوں کا رویہ قابل افسوس ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کی شرح سب سے زیادہ ہےاور حکومت پاکستان بلوچ عوام کےساتھ جوظالمانہ سلوک کررہی ہے وہ کسی بھی طرح اسے زیب نہیں دیتا۔  پانچ ماہ قبل نامعلوم افراد نے اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی کے ایک طالبعلم سعید بلوچ کو اسلام آباد ٹول پلازہ سےنامعلوم افرادنے اغوا کرلیاتھا۔ قائداعظم یونیورسٹی میں جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ لگاہوا ہےمگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہےکہ پنجاب کےطلباو طالبات نے متاثرہ خاندانوں سےاظہاریکجہتی نہیں کیا، اگر لاپتہ افراد کےاہل خانہ سے یکجہتی کا اظہارکیاجاتا تومظلوم بلوچوں کو خوشی ہوتی کہ غیربلوچوں کوبھی ان کے دکھ درد کااحساس ہے۔ اس سے قبل بلوچ خواتین نے بھی اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا اور وہ شدید بارش اورموسم کی شدت میں بھی کھلےآسمان تلے سڑکوں پر بیٹھی رہیں لیکن پنجاب کے عوام اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس احتجاجی دھرنےکا کوئی نوٹس نہیں لیا۔  کم از کم HRCP کو ان ایشوز پر آواز اٹھانی چاہیےمگر وہ صرف اورصرف اس کیلئے آوازاٹھاتے ہیں جس انہیں اشارہ کیا جاتا ہے۔افسوس کہ ان کا عمل وکردار تعصب سے بھرا پڑا ہے ۔   کسی کو اغواء کرکے جبری طور پر لاپتہ کردیاجائے تو اس کے والدین ، بہن بھائی اور بیوی بچوں کا دکھ اورکرب ناقابل بیان ہوتا ہے۔یہی حال سعید بلوچ کے اہل خانہ کا ہے اوریہی حال ایم کیوایم کی کوآرڈینیشن کمیٹی کے سینئر اراکین نثار احمد پنہور اور انورخان ترین کے اہل خانہ کا بھی ہے۔ انہیں 16،ستمبر2025ء کو نامعلوم افراد نے اس وقت راستے سے اٹھاکرلاپتہ کردیا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے جارہے تھے،آج کے دن تک ان دونوں کے بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہیں۔ نثارپنہور اورانورترین کے گھروالوں نے انکی بازیابی کیلئے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی، مگر عدالت نے ایک ماہ بعد کی تاریخ دیدی، جب ایک ماہ بعد وکلاء عدالت پہنچے تو مزیدایک ماہ کی تاریخ دیدی گئی اور اسی طرح تاریخ پرتاریخ دی جارہی ہے۔ عدالتوں کا نظام ایسا ہوگیا ہے کہ اب ملک اورانصاف کے لئے صرف دعا ہی کی جاسکتی ہے ۔  کسی بھی ملک کی سلامتی وبقاء کی سب سے بڑی طاقت عدلیہ ہوتی ہے اور اگر عدالتی نظام سے لوگوں کو انصاف نہ ملےاورعدالتیں لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی داد فریاد بھی نہ سنیں تو ملک کا عدالتی نظام مفلوج ہوجاتا ہے اورجس ملک کاعدالتی نظام طویل عرصے تک مفلوج رہےتو اس ملک کا نظام ہی مفلوج ہوجاتا ہے۔یہ ایک کلیہ ہےکہ جہاں انصاف نہیں ہوتا وہاں تباہی اوربربادی ہوتی ہے اور جس ملک سےانصاف ناپید کردیاجائے تو اس ملک کے پرخچے اڑجایا کرتے ہیں۔  تازہ ترین مثال ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکم دیا جاچکا ہے کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات کرائی جائےلیکن عدالت کے حکم کے باوجودان کی ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے۔ 26، نومبر2025ء کی صبح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، عمران خان کی بہنیں اور دیگر رہنماء عمران خان سےملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچے، لیکن انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس پر سہیل آفریدی اورعمران خان کی بہنیں شدید سردی کے باوجود رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھی رہیں، جب صبح ہوئی تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کیلئے ہائیکورٹ پہنچے اوران کے چیمبر کے باہر انتظارکرتے رہے لیکن کئی گھنٹوں بعد رجسٹرار نے آکر انہیں بتایا کہ چیف جسٹس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ ملاقات نہیں کرسکتے۔ آخراس حکومت کوکیا ہوگیا ہے؟ کیاایسی حکومت کو حکومت کہا جاسکتا ہے یا اسےجابرانہ ، ظالمانہ ، نفرت، تعصب اور عصبیت پر مبنی مفلوج حکومت کہاجائے جس کاکوئی اختیار نہیں ؟ جیل مینوئل کے مطابق قید انڈرٹرائل ہویا سزایافتہ ہو، اس کی ملاقات کرائی جاتی ہے لیکن حکومت چوری اورسینہ زوری کے مصداق جیل مینوئل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات کرنے نہیں دے رہی ہے۔ ایک وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑبے شرمی سے فرماتے ہیں کہ عمران خان ایک سزا یافتہ ہیں، انہیں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کے کیس میں سزا ہوئی ہے تو ان سے ملاقات کیسے کرائی جائے ؟ وزیرموصوف کو کیا علم نہیں کہ کوئی سزایافتہ ہوا یا پھانسی کی سزا پانے والا مجرم ہی کیوں نہ ہو اسکی اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرائی جاتی ہے ۔کیا وزیراعظم شہباز شریف کو وہ دن یاد نہیں جب ان کے بڑے بھائی سزایافتہ تھے اور جیل میں قید تھے تو کس طرح انہوں نے تحریری معافی نامہ لکھ کر پورے خاندان سمیت سعودی عرب جاکر پناہ لی تھی ؟ سوال یہ ہے کہ کیاعمران خان پاکستان کے شہری نہیں ہیں، وہ ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں ، سونے پہ سہاگہ انہیں اقتدارمیں لانے والے اسٹیبشلمنٹ کے ہی لوگ تھے جوکل تک انہیں سیلوٹ کیا کرتے تھے لیکن آج ان کیلئے سارے راستے بند کردیئے گئے ہیں ۔ یہ کیسا نظام ہے؟ دوسری طرف ایک صوبے کامنتخب وزیراعلیٰ رات بھراڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیتا ہے، اپنی فریاد لیکرچیف جسٹس سے ملاقات کی درخواست کرتا ہے مگر چیف جسٹس صاحب ان سے ملاقات کرنے سے صاف انکارکردیتے ہیں ، عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کایہ رویہ بھی افسوسناک ہے ۔  سینیٹ میں علامہ ناصرعباس اور قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈرنامزد کرنے کی درخواست کی گئی لیکن ابھی تک دونوں ایوانوں میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کانوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا ہے یہ ظلم اور جبرنہیں تو پھر کیاہے؟ آخر ملک کو کہاں لیکر جایاجارہاہے ؟جہاں آئین، قانون اور انسانی حقوق کی سرے سے عملداری نہ ہو ، عدلیہ آزاد نہ ہو، پارلیمنٹ کٹھ پتلی بن جائے اور پارلیمنٹ کے رولز آف بزنس پر عمل درآمد نہ کریں کیا اُسے ملک کہا جاسکتا ہے؟ کیا پاکستان کے وزیراعظم کوذرہ برابربھی شرم وحیا نہیں کہ ان کی حکومت کیا کررہی ہے اور کس طرح مخالفین پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑرہی ہے؟ کیا1971ء میں ظلم وجبر اور ناانصافیوں کے اسی عمل کی وجہ سے پاکستان دولخت نہیں ہوا تھا؟ میں باربار حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول دہراتا رہاہوں کہ کفر سے حکومتیں چل سکتی ہیں مگر ظلم وناانصافی سے حکومتیں نہیں چل سکتیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ ساری رات عام شہری کی طرح سڑک پر بیٹھا رہے اور اس کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو، یہ ملک کو کدھر لیکر جایا جارہاہے؟ حکمرانوں کوقدرت کا مکافات عمل یادرکھنا چاہیے، انشاء اللہ بہت جلد ن لیگ اور پیپلزپارٹی والے قدرت کے مکافات عمل کا شکار بن کرعبرت کا نشان بن جائیں گے ۔ میں تحریک انصاف کی لیڈرشپ سے کہتا ہوں کہ آپ نے لوگوں کو بے وقوف بناکر بہت وقت ضائع کردیا ہے ، آپ کہتے رہے کہ عدالت سے عمران خان کی ضمانت ہوجائے گی اورعمران خان رہا ہوجائیں گے، آپ عدالت عدالت کھیلتے رہے اور عوام کو بے وقوف بناتے رہے۔ سوشل میڈیا پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے بعض افراد خود کو عمران خان کا ہمدرد ظاہرکرتے ہیں ، عمران خان کی رہائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کے تعصب اور عصبیت کا یہ عالم ہے کہ وہ تحریک انصاف کے مخلص کارکنان کومیرے خلاف بہکاتے ہیں، جبکہ جو جھوٹے الزامات مجھ پر لگائے گئے وہی الزامات عمران خان پر بھی لگائے جارہے ہیں تو پھر آپ الطاف حسین سے عصبیت اور تعصب کا مظاہرہ کیوں کررہے ہو؟ میں تحریک انصاف کے سچے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ اگروہ عمران خان کی رہائی چاہتے ہیں تو انہیں پارٹی کے آزمائے ہوئے لوگوں سے نجات حاصل کرکے خود میدان عمل میں آنا ہوگا ۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 353ویں فکری نشست سے خطاب 28، نومبر2025ئ

11/30/2025 2:56:45 PM