Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تحریک کیاہوتی ہے……تحریک کیوں اورکیسے جنم لیتی ہے


 تحریک کیاہوتی ہے……تحریک کیوں اورکیسے جنم لیتی ہے
 Posted on: 10/31/2026

تحریک کیاہوتی ہے……تحریک کیوں اورکیسے جنم لیتی ہے 
دنیا بھر کی انقلابی تحریکیں اوران کاسبق
نظریاتی کارکنوں کے لئے خصوصی فکری نشست……(1) 

تحریک کیاہوتی ہے؟
 ”تحریک“  کالفظ ”حرکت“  سے نکلا ہے، جسے انگریزی میں Movement  کہتے ہیں۔ انسان کاسانس لینا، اس کے پھیپھڑوں کاحرکت کرنا، انسان کاایک جگہ سے دوسری جگہ قدم بڑھانا، کسی چیزکو چھونے، پکڑنے یااٹھانے کے لئے ہاتھ کوحرکت دینا، جسم کی حرکت ہے۔ حرکت زندگی کی علامت ہوتی ہے، جوزندہ چیزہوتی ہیں وہ حرکت کرتی ہیں، وہ متحرک ہوتی ہیں، جبکہ مردہ جسم خواہ وہ انسان ہو یاجانور، وہ حرکت نہیں کرسکتا۔ گویاجہاں زندگی ہوگی وہیں حرکت ہوگی،جہاں زندگی نہیں ہوگی بلکہ مردگی ہوگی وہاں حرکت نہیں ہوگی۔ 
اللہ تعالیٰ نے انسان کوپیدا کیا، اسے جسم میں ہاتھ،پیر، ناک، کان، آنکھ،دماغ دیا، کس لئے؟ انسان کو ہاتھ دیے ہیں کہ وہ اچھے کاموں کے لئے استعمال کرے، ایک اچھے مقصد کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے پیروں کااستعمال کرے، اگرعملی کام نہیں کرسکتا، توتحریک کومتحرک رکھنے کے لئے ہاتھوں سے قلم کااستعمال کرے، تحریروں کے ذریعے دوسروں کودعوت دے۔

تحریک کہاں جنم لیتی ہے
کوئی بھی تحریک ہمیشہ وہیں جنم لیتی ہے جہاں مسائل ہوتے ہیں، کسی ایسے معاشرے یاسول لائزیشن میں جہاں رہنے والوں کوانصاف فراہم کیاجاتا ہو،جہاں لوگوں کوان کے حقوق دیے جاتے ہوں وہاں حقوق اورانصاف کے حصول کے لئے کوئی تحریک جنم نہیں لیتی،آزادی اورحقوق وانصاف کے لئے کوئی تحریک ہمیشہ وہیں جنم لیتی ہے جہاں لوگوں کوان کے بنیادی حقوق اورانصاف نہیں ملتااوراگرلوگ انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کے پاس جاتے ہوں ا ورانہیں وہاں سے بھی انصاف نہیں مل رہاہوتو وہاں انصاف کے حصول کے لئے تحریکیں جنم لیتی ہیں۔
پوری دنیا کی تاریخ میں جہاں ظالمانہ، سفاکانہ، آمرانہ یا ڈکٹیٹرشپ کانظام ہو، یا کسی بیرونی ملک کی فوج نے کسی ملک پر حملہ کرکے قبضہ کرلیاہو، یاوہاں کے عوام کوغلام بنالیا ہوتو وہاں کے عوام اس وقت تک غلام رہتے ہیں جب تک وہ اس قابض قوت سے آزادی کے لئے کوئی تحریک نہ چلائیں۔ 
اسی طرح اگرکسی ملک میں آمرانہ طرزحکومت ہو، ڈکٹیٹرشپ ہو وہاں اس آمرانہ حکومت کے خلاف تحریک جنم لیتی ہے اورآمرانہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام پر ظلم کر ے، جولوگ اس کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوں انہیں ماردے، گرفتارکرکے قید کردے، جوانصاف اور حقوق کے لئے آواز اٹھائے، آزادی مانگے ان پر اتناظلم ڈھا ئے کہ لوگ اس کے ظلم سے تنگ آکر اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبورہوجائیں۔

تحریک کیوں جنم لیتی ہے
تحریک ہمیشہ جاری نظام کی تبدیلی کے لئے جنم لیتی ہے،تبدیلی کیاہے کہ اگر غلامی ہوتواس سے نجات حاصل کرنا،غیرمنصفانہ نظام ہوتو اس نظام کوتبدیل کرنااورشہریوں کوانصاف دلانا، حقوق سے محرومی ہو تو لوگوں کوان کے جائزحقوق دلانا۔ 
کوئی بھی تحریک کسی فردواحد پرمشتمل نہیں ہوتی بلکہ انسانو ں پرمشتمل ہوتی ہے، جواجتماعی طورپر کسی غلامی، کسی ظلم یاانصافی اورحقوق سے محرومی کا شکارہوتے ہیں۔جواس غلامی، یاظلم یاانصافی سے نجات چاہتے ہیں،یعنی کوئی بھی تحریک ذاتی مفاد کے لئے نہیں بلکہ انسانوں کے اجتماعی مفاد کے حصول کے لئے ہوتی ہے۔دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ غلامی، ظلم، ناانصافی اور محرومی کاشکار لوگ اپنی آزادی،اپنے حقوق اورانصاف کے حصول کے لئے اجتماعی طورپر جدوجہد کررہے ہیں یا نہیں۔ دنیامیں لوگ اسی وقت تک غلام یامحروم رہتے ہیں جب تک وہ غلامی یامحر ومی سے نجات کے لئے جدوجہد نہیں کرتے اوراس مقصدکے لئے قربانیاں نہیں دیتے۔جن کا مقصدیہ ہوکہ ا ن کے ملک میں ایسا نظام قائم کیا جائے کہ جہاں شہریوں کوغلام یا دوسرے تیسرے درجے کا شہری نہ سمجھاجا ئے بلکہ تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے،جہاں تمام شہریوں کوان کے بنیادی حقوق حاصل ہوں، جہاں کسی بھی شہری کواس کے رتبے اوردولت کے بل پر حقوق اورانصاف فراہم نہ کیا جاتا ہوبلکہ امیراورغریب سب کویکساں حقوق اورانصاف میسر ہو، جہاں امیرغریب اورتمام زبان بولنے والے چین وسکون کے ساتھ زندگی گزاررہے ہوں۔

ریاست ماں ہوتی ہے 
عموماًریاست کے لئے ”ماں“ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے کیونکہ ماں فطرتاًاپنے تمام بچوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے، وہ اپنے بچوں میں امتیازنہیں کرتی، وہ ایسا نہیں کرتی کہ جوبڑا بیٹا ہواس کوزیادہ کھانا دے اورچھوٹے بیٹے کوکم کھانا دے، بڑ ے بیٹے کواچھے کپڑے فراہم کرے اور چھوٹے بیٹے کومعمولی کپڑے فراہم کرے، ماں کی نظرمیں سب بیٹے برابرہوتے ہیں۔ لہٰذا ریاست کوجب ماں کہا جاتا ہے توریاست کافرض ہے کہ وہ اپنے تمام بیٹوں کے ساتھ برابر سلوک کرے، اپنے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کرے، کسی امتیاز کے بغیرانہیں ان کے تمام حقوق فراہم کرے۔ اسی طرح ریاست کے حکمرانوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے بجائے اپنے ملک کے عوام کے مفاد کوترجیح دیں، ان کی بھلائی کے لئے کام کریں۔ 

دنیامیں چلنے والی انقلابی تحریکیں:
دنیا جب سے وجود میں آئی ہے تب سے ظالم ومظلوم، حاکم ومحکوم اور آقاوغلام کی تفریق رہی ہے۔ ظلم کی چکی میں پسے ہوئے مظلوم عوام نے جب جب ظلم کرنے وا لوں کے خلاف آوازاٹھائی، انہیں ان کی جدوجہد کی پاداش میں مزید مظالم کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، اس دوران جدوجہد کرنے والے بعض لوگ مصلحت پسندی کا شکار ہوتے رہے اورڈیل کرکے ظالموں کے ساتھ مل گئے لیکن حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کی اکثریت تمام ترمظالم کے باوجود جانی ومالی قربانیاں دیتی رہی اورحالات کے جبر سے مایوس ہوئے بغیر جدوجہد کرتی رہی اوربالآخرکامیابی حاصل کرتی رہی۔ دنیا بھر میں چلائی جانے والی انقلابی تحریکوں کی یہ داستانیں غلامی، آمرانہ نظام اورظلم سے نجات اور حقوق کے حصول کی جدوجہد کرنے والے تمام لوگوں کیلئے مشعل راہ ہیں، انہیں انقلابی تحریکوں کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا ہوگا اور تحریک کوسمجھنے کیلئے قوت برداشت پیدا کرنی ہوگی اوریہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کی کوئی بھی تحریک ایسی نہیں ہے کہ جو آج شروع کی جائے اور وہ ایک دوسال میں کامیابی حاصل کرلے،غلامی سے آزادی، آمرانہ نظام سے نجات اورحقوق کے حصول کیلئے طویل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ 

نسلی امتیاز کے خلاف نیلسن مینڈیلا کی تحریک:
ایک زمانے میں ساؤتھ افریقہ پرقابض سفید فام اقلیت نے یا گورے حکمرانوں نے سیاہ فام اکثریت کے حقوق سلب کررکھے تھے، نسلی امتیازکا ظالمانہ نظام رائج تھا۔ جسے Apartheid کہا جاتا تھا۔ جس کے تحت سیاہ فام باشندوں کو ان کے رنگت کی بنیاد پر ان کے تمام بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا تھا، انہیں گوروں کے ساتھ اسکولوں میں داخلے، بسوں یا ٹرینوں میں سفرکرنے حتیٰ کہ ووٹ تک دینے کاحق نہیں تھا جبکہ سفید فام یا گوروں کوہرطرح کے حقوق حاصل تھے۔ اس نسلی امتیازکے خلاف ساؤتھ افریقہ کے سیاہ فام لوگوں نے غلامی سے نجات اوراپنے بنیادی حقوق کیلئے تحریک کاآغاز کیا جس کاایک ہی مقصد تھا کہ اس نسلی امتیاز کا خاتمہ کیا جائے سیاہ فام لوگوں کو بھی مساوی حقوق دیئے جائیں۔ 
افریقن نیشنل کانگریس (ANC) کی یہ تحریک نیلسن مینڈیلا کی سربراہی میں چلائی گئی، تحریک کے دوران جلسے جلوس اوراحتجاجی مظاہرے بھی ہوتے رہے، ان مظاہروں پرسفید فام نسل پرست حکومت کی انگریز پولیس کی فائرنگ سے 10 ہزار کارکنان بشمول اسکول کے بچے شہید کردیئے گئے جبکہ 20 ہزارسے زائد کارکنان کو گرفتارکرکے جیلوں میں قید کردیا گیا اوراسیری کے دوران گرفتارشدگان کو انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انقلابیوں کے لیڈر نیلسن مینڈیلا کو گرفتارکرکے روبن آئی لینڈ میں قیدخانہ بنا کرقید کردیا گیا جہاں وہ 27 سال قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے، اس دوران تحریک کے دیگر رہنما بھی جانی ومالی قربانیاں دیتے رہے، برسوں تک جلاوطن بھی ہوئے اور پچاس سالہ جدوجہد اوربیش بہاجانی قربانیوں کے بعد 1994ء میں انہیں نسل پرستانہ نظام سے آزادی ملی، نیلسن مینڈیلا رہا ہوئے اور وہ ساؤتھ افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔ 

کیوبا میں انقلاب اور فیڈل کاسترو کی تحریک:
 خلیج میکسیکواورکیربین گلف کے سنگم پر واقع ملک کیوبا امریکیوں کے ایجنٹ بادشاہ Batista کی آمریت قائم تھی اورلوگوں کوانکے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا، ایسے میں عظیم کمیونسٹ رہنما فیڈل کاسترواورچے گویرا نے ملک سے اس ظالمانہ بادشاہت کے آمرانہ نظام اورآمریت کے خلاف تحریک چلائی، ان لوگوں کی قربانیوں کی بھی طویل داستان ہے، فیڈل کاسترو نے جدوجہد شروع کی تو ان کااوران کے ساتھیوں کے لئے اپنے علاقے میں رہنا مشکل ہوگیا۔ انہوں نے ایک کشتی خریدی جس کا نام Granma تھا اس کشتی میں فیڈل کاسترواورچے گویرا سمیت 82 افراد سوارہوگئے تاکہ جنگلوں میں روپوش ہوسکیں اوراپنی تحریک جاری رکھ سکیں۔ آمر بادشاہ  Batista کی حکومت کے پاس وسائل تھے، حکومت کی فوجیں انقلابیوں کا پیچھا کرتی رہی اوربلاآخرظالم فوج نے ان 82 افراد کو گھیرکر12 افراد کے سوا سب کو قتل کرڈالا لیکن بچ جانے والے انقلابیوں نے سالہاسال پہاڑوں میں رہتے ہوئے گوریلا جنگ کاآغاز کیا، اس جدوجہد میں آہستہ آہستہ دیگر لوگ بھی ان کے ساتھ شامل ہونے لگے، بھوک پیاس اورموسم کی شدت کی پرواہ کیے بغیراپنی جدوجہد کرتے رہے،اس جدوجہد کے دوران 30 ہزار کارکنان کو یا تو قتل کردیا گیا یا انہیں گرفتارکرکے لاپتہ کردیا گیا، بالآخر 1959ء میں ان کی کئی سالہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی، آمریت کے خلاف انقلاب آیا اور پھر کیوبا میں عوامی حکومت قائم ہوئی۔ 

ویتنام میں ہوچی مِن (Ho Chi Minh) کی تحریک:
ویتنام کئی دہائیوں تک جاپان، فرانس کی کالونی بنارہا۔ غیرملکی قوتوں کے اس قبضے کے خلاف وہاں انقلابی لیڈر ہوچی مِن (Ho Chi Minh) کی قیادت میں کئی سال تک تحریک چلی، اس تحریک میں شامل لوگ آزادی کا نعرہ لگاتے تھے، ظلم وجبرکے نظام خلاف اوراپنے حقوق کی جدوجہد کرتے رہے۔ ویتنام میں پہلے جاپان اورپھر فرانس نے قبضہ کیا تھا اوربعد میں امریکہ نے قبضہ کرلیا تھا، اس قبضے کے خلاف کئی سال تک جدوجہد کی جاتی رہی، اس تحریک کوکچلنے کیلئے امریکہ نے پوری طاقت استعمال کی،اس دوران انقلابیوں نے جانی ومالی قربانیاں دیں، اسیری کی زندگی گزاری، تحریک کے سربراہ ہوچی مِن کوکئی برسوں تک جلاوطن رہنا پڑا، تحریک کے رہنما جلاوطن تھے لیکن کارکنان نے جدوجہد جاری رکھی، اس جدوجہد کے دوران امریکی بمباری میں ویتنام کے 11 لاکھ انقلابی کارکنان اور 9 لاکھ عام شہری شہید ہوئے، لاکھوں کارکنان کو خوفناک جیلوں میں قید رکھا گیا جہاں ان پر انسانیت سوز تشدد کیا جاتا رہا۔ اس دوران تحریک میں غداری کا عمل بھی ہوتا رہا لیکن ہوچی مِن کی قیادت میں آزادی کی تحریک چلتی رہی۔جاپان اورفرانس کی کالونی سے نجات حاصل کرنے والے ویت نامی انقلابیوں نے لاکھوں جانوں کی قربانیوں اورطرح طرح کی اذیتوں کے بعد 1975ء میں امریکیوں کوبھی ویتنام سے بھگا دیا اور ویتنام آزاد ہوگیا۔ 

روس میں بالشویک کی انقلابی تحریک:
روس میں تسلسل کے ساتھ نسل درنسل زار روس کی بادشاہت کا سلسلہ تھا، اس بادشاہت کے خاتمے اورغلامی سے آزادی کیلئے کمیونسٹ انقلابیوں نے بالشویک پارٹی بنائی اورایک ایک علاقے میں ظلم اورغیرانسانی سلوک کانشانہ بننے والے غریب مزدورں اورکسانوں میں انقلاب کا پیغام پھیلاتے رہے، اس جدوجہد کی پاداش میں بادشاہت کے مظالم سے بچنے کیلئے انقلابی کارکنان اردگرد کے علاقوں میں روپوشی اورجلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اورجانی ومالی قربانیاں دیتے رہے، بالشویک کی تحریک کے دوران ہزاروں لوگ شہید ہوئے تب جاکر1917ء میں بالشویک انقلاب آیا۔
تمام تحریکوں میں قدرمشترک بات یہ ہے کہ ان کے رہنماؤں نے اجتماعی مفادات کیلئے اپنی ذاتی زندگی،شخصی، مالی مفاد ات کوقربان کردیا، جوانی سے بڑھاپے تک اپنی انقلابی جدوجہد جاری رکھی جس طرح پاکستان میں الطاف حسین نے پاکستان کے مظلوم عوام کے حقوق اورفرسودہ نظام کے خاتمے کیلئے اپنی ذاتی خواہشات، امنگوں، جوانی اورخاندان کی قربانی دی، اس جدوجہد کے دوران تحریک کے بہت سے رہنماؤں نے اپنے ظرف وضمیرکا سودا کرلیا، بہت سے لوگ ظالموں کے آگے جھک گئے لیکن تحریکی جدوجہد کے دوران گمنام کارکنان نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں، دربدر ہوئے، روپوش ہوئے، جلاوطن ہوئے، ہرکڑے اورمشکل وقت میں تحریکی جدوجہد میں ساتھ دیتے رہے حتیٰ کہ کارکناں نے اپنی جانوں کی قربانیاں بھی دیں۔ اس جدوجہد کے دوران بالشویک پارٹی کے ہزاروں کارکنان، محنت کش قیدخانوں میں قید کردیئے گئے اورایک ہزارسے زائد کارکنان کو گولیوں کا نشانہ بنا کرقتل کردیا گیا تھا لیکن جلاوطن رہنماء اورکارکنان نے اپنے اپنے ذرائع سے تحریک کو زندہ رکھا اور 1917ء میں انہوں نے ظالم حکمرانوں کے خلاف کامیابی حاصل ہوئی۔ 

قربانی کے بغیرکامیابی نہیں ملتی:
اپنے مقصد کے حصول کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ تحریک کے گمنام کارکنان کسی بھی تحریک کی ریڑھ کی ہڈی اور اصل طاقت ہوتے ہیں، کسی بھی تحریک کاہراول دستہ اس کے لیڈران نہیں بلکہ گراس روٹ سطح کے کارکنان ہی ہوا کرتے ہیں، لیڈران تو حالات کے جبرکے آگے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں، ظالم قوتوں سے سمجھوتہ  کرلیتے ہیں لیکن تحریک کے کارکنان ڈٹے رہتے ہیں۔ اگرکسی بھی تحریک کے کارکنان مصلحت پسند لیڈروں کی طرف دیکھیں گے تو وہ تحریک کاہراول دستہ نہیں بن سکیں گے۔کارکنوں کو یہ بات بھی ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ تحریک میں صرف نظریہ دینے والا ہی وہ فردہوتاہے جوکبھی نہیں بدلتا، کبھی ظالم قوتوں سے اپنے نظریہ پر سودانہیں کرتا، نظریہ دینے والا اور اس کے سچے فالوورز طاقتور ظالم قوتوں کے آلہ کار نہیں بنتے اور حالات کے جبرکاثابت قدمی سے سامنا کرتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہیں۔
کسی بھی تحریک میں شامل Gen Z کویادرکھنا چاہیے کہ دنیا کی کوئی بھی تحریک قربانی کے بغیرکامیاب نہیں ہوتی۔ تحریک کی اصل طاقت گمنام کارکنان ہوتے ہیں، وہی تحریک کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں جونہ صرف مشکلات وپریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں، تحریکی جدوجہد میں اپنا پسینہ ہی نہیں بہاتے بلکہ بلکہ تحریک کے مقصد کیلئے اپنا خون تک بہاتے ہیں، اپنی خواہشات کی قربانی دیتے ہیں، انہی لازوال قربانیوں کی بدولت ان کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے اوروہ اپنے منزل حاصل کرلیتے ہیں۔یعنی قربانی اورکامیابی لازم وملزوم ہے۔

الطاف حسین
ٹک ٹک پر 491 ویں فکری نشست سے خطاب
30، اکتوبر2026ء



10/31/2026 7:29:03 PM