پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کاخاتمہ کرکے جمہوریت سے انتقام لیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ 55 سالوں سے اقتدار کی میوزیکل چیئر کا گیم کھیل رہی ہیں، آپس میں ایک دوسرے کی باری لگارہے ہیں، اور جمہوریت کے نام پروڈیروں اورجاگیرداروں پر مشتمل بھٹواورشریف خاندان ملک پر مسلط ہیں۔آصف زرداری اوربلاول کی پالیسی اورنعرہ یہ ہےکہ ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔جمہوریت کے علمبردارپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے خیبرپختونخوا میں منتخب حکومت کاخاتمہ کرکےگورنرراج کا نفاذ کرکے جمہوریت سے انتقام لیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے بینظیر بھٹوکی شہادت کے بعد قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ کا نعرہ لگایا اور جمہوری جدوجہد کے دعویٰ کیا لیکن بینظیر بھٹوکا نام لیکر اقتدارحاصل کیا اوربینظیر کے خون کوبھول گئے۔جمہوریت بغیر آئین وقانون کے کیسے رائج ہوسکتی ہے؟ ایک صوبے کی منتخب حکومت کی برطرفی، گورنر راج اور ایمرجنسی کےصدارتی فرمان پر دستخط کرتے وقت صدرآصف زرداری کے ہاتھ کیوں نہیں کپکپائے؟ انہوں نے کیوں نہیں سوچا کہ گورنر راج کے نفاذ کے بعدآصف زرداری اورشہاز شریف کس منہ سےجمہوریت کانام لیں گے؟
خیبرپختونخوا میں گورنرراج کے نفاذ کے بعد Conspiracy Theories (سازشی نظریات) جنم لے رہے ہیں، کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ڈیل کی ہے اور اسی ڈیل کے نتیجے میں ان کی حکومت کاخاتمہ کیا گیا اورانہیں گرفتارکیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی پر ڈیل کرنے کا الزام تولگایا جارہا ہے لیکن کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اگرواقعی ایسا ہے توپھررہ کون گیا؟ پھریہ بات سمجھ لی جائے کہ عوام بھی کسی اورفرد کےنام پر نہیں نکلتے تھے، وہ بھی عمران خان کی وجہ سے جلسے جلوسوں اورمارچ میں جاتے تھے۔ لوگ لیڈر کے بجائے کسی اورنام پر نہیں نکلتے، میں 34 سال سے لندن میں ہوں، 11 سال سے میڈیا پر میری تحریر وتقریرحتیٰ کہ نام تک لینے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی صرف سندھ ہی میں نہیں بلکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرمیں بھی الطاف حسین کے چاہنے والے موجود ہیں جوتمام ترمشکلات کے باوجود مجھ سے جڑے ہوئے ہیں اورتحریک کا کام کررہے ہیں۔ یقین نہ ہوتومجھ پر عائد پابندی ہٹاکردیکھ لیں۔
اگریہ مان بھی لیاجائے کہ سہیل آفریدی نے ڈیل کرلی ہے توڈیل تواس سے پہلے والوں نے بھی کی تھی، سیاسی جماعتوں کوتوڑنے اور کمزورکرنے کے لئے ان کے لوگ توڑے جاتے ہیں لیکن جن جماعتوں کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں وہ ختم نہیں کی جاسکتیں۔ ایم کیوایم کو توڑنے کے لئے MQM-H، پھرPSP اور پھر MQMP بنائی گئی، پھربھی کام نہ چلا تو انہیں آپس میں ملادیا گیا لیکن اس کے باوجود آج ان کے جلسوں میں تمام ترکوششوں اور سرکاری سپورٹ کے باوجود عوام کا وہ کراؤڈ نہیں ہوتا، عوام آج بھی الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم کے ساتھ ہیں۔
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کہتا ہوں کہ تحریکوں میں ایسے امتحانات آتے ہیں لہٰذا وہ مایوس نہ ہوں اور ایم کیوایم کی طرح اپنی قیادت پر یقین رکھیں، ثابت قدم رہنے والے سرخروہوتے ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 485 ویں فکری نشست سے خطاب
16 اکتوبر 2026ء