Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پی ٹی آئی کوضمنی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا


پی ٹی آئی کوضمنی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا
 Posted on: 11/25/2025

پی ٹی آئی کوضمنی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضمنی انتخابات اورتحریک انصاف: گزشتہ دنوں ملک میں قومی اورصوبائی اسمبلی کی نشستوں کیلئے ضمنی انتخابات ہوئے اور تحریک انصاف نے ان انتخابات کا ادھورا بائیکاٹ کیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے لاہور اورہری پور میں قومی اسمبلی کی دونشستوں جن پر لاہورکے سابق مئیرمیاں اظہرمرحوم کے صاحبزادے اور عمرایوب کی زوجہ نے حصہ لیا لیکن دونوں جگہوں پر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو بری طرح شکست کاسامناکرنا پڑا۔  میرے نکتہ نظر، سیاسی سوچ وفکر اورسیاسی فلسفے سے ہرکسی کو صد فیصد اختلاف کا حق ہے لیکن کم ازکم مجھے میری رائے کے اظہارسے نہ روکاجائے کہ جب تحریک انصاف نے ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان کیاتھا تو پھراسے لاہور اور ہری پور کی دونوں نشستوں پر بھی بائیکاٹ کرناچاہیے تھا، اگرضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان اس لئے کیاتھا کہ پی ٹی آئی والوں کو 8، فروری2024ء کے انتخابات کا تجربہ ہوگیا تھا کہ کس طرح ان کی 180 کے قریب سیٹوں پر کامیابی کو فارم 47 کے تحت نتائج بدل کرشکست میں بدل دی گئی تھی۔ اس مرتبہ نہ عدلیہ آزاد ہے، نہ جلسے جلوس کرنے کی آزادی ہے اور امیدواروں کے چیف پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں میں جانے کی بھی اجازت نہیں تھی ان حالات میں ضمنی الیکشن کے بائیکاٹ کافیصلہ اچھا تھا مگر دونشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کی غلطی مجھے ہضم نہیں ہورہی ہے۔ اگر ضمنی الیکشن میں دھاندلی کاخدشہ تھا تو ان دونشستوں پر دھاندلی کا خدشہ کیوں نہیں تھا؟ تحریک انصاف کاکوئی رہنما یا کارکن میری بات عمران خان تک پہنچادے کہ اگرپی ٹی آئی کوضمنی الیکشن میں بائیکاٹ کافیصلہ کرنا تھا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا۔ ماضی میں اس قسم کی صورتحال کاایم کیوایم نے بھی سامنا کیاتھا،ایم کیوایم کے خلاف آپریشن جاری تھااسی دوران 1993ء میں عام انتخابات کامرحلہ آیاتواس وقت کے کورکمانڈرکراچی جنرل نصیراختر نے ایم کیوایم کے نمائندوں کو بلاکر کہاکہ آپ صرف چارحلقوں کے انتخابات میں حصہ لیں اور باقی تمام نشستوں پر ہم اپنے نمائندوں کو الیکشن لڑائیں گے، جب میرے پاس یہ اطلاع پہنچی تو میں نے رابطہ کمیٹی کااجلاس بلایا اور سب سے رائے مانگی، اُس وقت بعض افراد کا خیال تھا کہ ہمیں چارنشستوں پر ہی الیکشن لڑنے کی بات مان لینی چاہیے، کم ازکم قومی اسمبلی میں ہمارے چارارکان تو ہوں گے اورہمیں الیکشن کے بائیکاٹ کااعلان نہیں کرناچاہیے، میں نے ساتھیوں کو کہاکہ پہلے ہماری 17 نشستیں تھیں اور اس مرتبہ یہ نشستیں ڈبل ہوسکتی ہیں اگرہم نے محض چارنشستوں پر الیکشن لڑنے کی بات مان لی تو ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کیاجائے گا کہ ایم کیوایم کی عوامی حمایت اور مقبولیت میں کمی واقع ہوگئی ہے،اوراگرایم کیوایم کے چارارکان ایوان میں پہنچ بھی جائیں گے توانہیں بھی ایوان میں آوازاٹھانے کی اجازت نہیں ملے گی۔تفصیلی بحث ومباحثہ میں اکثریت کی رائے تھی کہ چارنشستوں پرالیکشن لڑنے کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا لہٰذا انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کیاجائے۔ میں نے ساتھیوں کی رائے کی توثیق کرکے کہاکہ جنرل نصیراختر کو بتادیجئے کہ اگرایم کیوایم انتخابات میں حصہ لے گی تو تمام نشستوں سے الیکشن لڑے گی اور کسی ایک بھی امیدوارکے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لیے جائیں گے ورنہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ ہوگا۔ ہم نے 1993ء میں قومی اسمبلی کے الیکشن کامکمل بائیکاٹ کیاتوہمارے بائیکاٹ کے نتیجے میں پولنگ اسٹیشنوں پر ویرانی چھائی رہی اورالیکشن میں حصہ لینے والی جماعتوں کے پولنگ کیمپوں پر کتے لوٹ رہے تھے اس طرح ہم نے انتخابات کا بائیکاٹ کرکے اپنی عوامی مقبولیت ثابت کردی تھی۔  میں PTI والوں کو دوسال سے کہہ رہاہوں کہ دانشمندانہ فیصلے کریں، دوبرسوں کے دوران پی ٹی آئی والوں نے کتنے مواقع ضائع کردیئے، سب سے پہلا موقع 8، فروری 2024ء کے الیکشن کے دوران آیاجب پی ٹی آئی کاانتخابی نشان چھین لیاگیااور فارم 47 کے تحت تحریک انصاف کے امیدواروں کو ہرایاگیاتو اس وقت لوہاگرم تھا، پی ٹی آئی والوں کو اسی وقت احتجاجی تحریک چلانی چاہیے تھی کیونکہ جب لوہاگرم ہوتا ہے تبھی چوٹ مارنے کافائدہ ہوتاہے۔ جب گرم لوہے پر چوٹ لگانے کا وقت تھا تو وہ اہم موقع ضائع کردیا گیا، آج بھی پی ٹی آئی والے غلطی پر غلطی کیے جارہے ہیں۔میری اس رائے سے تحریک انصاف والوں کو اختلاف کا پورا حق حاصل ہے۔
میں شروع دن سے ہی فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کی جدوجہد کررہاہوں،حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی یہ بات دیکھنے میں آئی کہ ن لیگ کی جانب سے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کسی نہ کسی کے رشتے دار ہیں اور ن لیگ کی قیادت کی جانب سے اپنی جماعت کے کسی پڑھے لکھے غریب ومتوسط طبقے کے کارکن کو انتخابی ٹکٹ نہیں دیاگیا۔ فرسودہ جاگیردارانہ نظام کی یہی خرابیاں ہیں کہ ملک میں موروثی سیاست کی جارہی ہے جبکہ الطاف حسین اورایم کیوایم جاگیردارانہ، وڈیرانہ اورسرمایہ دارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خلاف ہے۔ ضمنی الیکشن میں چار سے پانچ فیصد ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا، میرا سوال ہے کہ اتنی تعدادمیں بھی عوام کیوں نکلے؟ عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ن لیگ وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی جماعت ہے اورعوام کوچاہیے کہ وہ ن لیگ کی خاندانی سیاست کے جال سے نکلیں اوراس قسم کی سیاست کے خلاف عملی جدوجہد کریں۔ جہاں تک ہندوستان کے وزیردفاع کے بیان کاتعلق ہے تو یہ بیان اسی طرح ہے جس طرح پاکستان کے بعض لوگوں کی جانب سے کہاجاتا ہے کہ ہم کشمیر اور دہلی کے لال قلعے پر جھنڈا لہرادیں گے، اس وقت بھارت میں الیکشن کاماحول ہے اوریہ ریت رہی ہے کہ الیکشن کے مواقع پر پاکستان کے حوالے سے ایسی بات کی جائے جوانکے لوگوں کو پسند آئے کیونکہ جو فتح کرنے والے ہوتے ہیں وہ عملی قدم اٹھاکرفتح کرلیتے ہیں باتیں نہیں کرتے
۔  
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 352ویں فکری نشست سے خطاب
 24، نومبر2025ء



11/30/2025 11:55:24 AM