Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام،کرپشن اور سیاست میں فوج کی مداخلت قطعی طورپرختم نہیں ہوگی ملک کو بچایا نہیں جاسکتا۔الطاف حسین


جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام،کرپشن اور سیاست میں فوج کی مداخلت قطعی طورپرختم نہیں ہوگی ملک کو بچایا نہیں جاسکتا۔الطاف حسین
 Posted on: 11/15/2021
 جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام،کرپشن اور سیاست میں فوج کی مداخلت قطعی طورپرختم نہیں ہوگی ملک کو بچایا نہیں جاسکتا۔الطاف حسین
سیاست میں فوج کی مداخلت ، اعلیٰ عدالتوں کا مکمل طورپرآزاداورباکردار نہ ہونا اور بدترین کرپشن کاجاری رہناملک کے معاشی طورپردیوالیہ ہونے کاسبب بنتاہے 
 فوج اگرآئین میں متعین کردہ اپنے دائرے میں رہے تووہ سرآنکھوں پر ہے 
جوجرنیل غیرآئینی اقدامات اور کرپشن میں ملوث کرپٹ جرنیلوں کا ہاتھ نہیں
 روک رہے ہیں تووہ بھی ان کے گناہ میں برابرکے شریک ہیں
آج ہرٹی وی چینل پر عمران خان کو مغلظات بکی جارہی ہیں ،فیصلہ کرنے والی قوتوں نے عمران خان کے حوالے سے فیصلہ کرلیا ہے
 پاکستان کی معاشی حالت مکمل تباہ ہوچکی ہے، ملک قرضوں اوربھیک پر چل رہاہے
 اگرعمران خان کی حکومت ہٹابھی دی گئی توجو نئی حکومت آئے گی وہ بھی ملک کی موجودہ صورتحال کونہیں سنبھال سکتی
 پاکستان کی عدلیہ میں ججوں کی تقرریاں کردار کے بجائے پسندناپسندکی بنیادپر کی جاتی ہیں اسی لئے عدالتیں بھی فوج کے زیراثرہوکرفیصلے کرتی ہیں
 پاکستان کی معاشی وانتظامی تباہی کاسبب ملک کا فرسودہ نظام ہے۔جب تک نظام تبدیل نہیں ہوتا ملک کی قسمت نہیں بدلاکرتی 
 الطاف حسین نے فرسودہ نظام کوتبدیل کرنے کی جدوجہد کی اسی لئے فوج نے الطاف حسین پر قاتلانہ حملے کئے اورمجھے ملک سے باہر جانے پر مجبور کردیا 
 مسلسل غوروفکر کاعمل ذہن یا دماغ کے بند دروازوں کو کھول دیتا ہے
 عمران خان کی حکومت رہے یاجائے، کوئی دوسری حکومت آئے ،یااسٹیبلشمنٹ
 کسی اورگروپ کو سامنے لے آئے ،آپ کسی قسم کی افواہوں کاشکار نہ ہوں،
انہوں نے پہلے بھی منہ کی کھائی تھی اوراب بھی وہ منہ کی کھائیںگے
کارکنان کسی بھی قیمت پر مایوس نہ ہوں، مثبت سوچیں اورمثبت اندازمیں کام کرتے رہیں۔قائدتحریک الطاف حسین کارکنوں کے اجلاس سے خطاب

لندن …15  نومبر 2021ئ
ایم کیوایم کے بانی و قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ سردارانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام ختم نہیں ہوگا، سیاست میں فوج کی مداخلت قطعی طورپرختم نہیں ہوگی اورکرپشن کاخاتمہ نہیں ہوگا ملک کوٹوٹنے سے بچایا نہیں جاسکتا۔ سیاست میں فوج کی مداخلت کا جاری رہنا، اعلیٰ عدالتوں کا مکمل طورپرآزاد نہ ہونا، عدلیہ میں باکردار ججوں کا تقررنہ ہونا اور بدترین کرپشن کاجاری رہناملک کے سیاسی، انتظامی اورمعاشی طورپردیوالیہ ہونے کا سبب بنتاہے جو ملک ٹوٹنے پر منتج ہوتاہے۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کا اظہار اتوارکی شب ایم کیوایم کے کارکنوں کے ایک اجلاس سے اپنے فکرانگیز خطاب میں کیا۔ اپنے جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں کل بھی فوج کے خلاف نہیں تھا، میں فوج کی سیاست میں مداخلت اور مارشل لاء لگانے کا مخالف تھا اور رہوںگا۔ فوج اگرآئین میں متعین کردہ اپنے دائرے میں رہے تووہ سرآنکھوں پر ہے لیکن اگروہ اس دائرے کو کراس کرے تو اس کایہ عمل میرے پیروں کی جوتی کے برابرہے۔ جوجرنیل ذاتی طور پر کرپٹ نہیں ہیں لیکن وہ غیرآئینی اقدامات اور کرپشن میں ملوث کرپٹ جرنیلوں کا ہاتھ نہیں روک رہے ہیں تووہ بھی ان کے گناہ میں برابرکے شریک ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ دنیابھرسے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم ہوچکاہے لیکن پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ ،سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام آج بھی رائج ہے۔ اس جاگیردارانہ نظام کی نہ اسلام میں گنجائش ہے اورنہ مہذب دنیا میں اس کی کوئی گنجائش ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان کے جرنیلوں کاان جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں سے گٹھ جوڑ ہے ، یہ سب ایک دوسرے کے مفادات کاتحفظ کرتے ہیں، فوج کے جرنیلوں کے ساتھ ملکر ہی یہ جاگیردار، وڈیرے ، سرداراوربڑے بڑے سرمایہ دار چوری چکاری کرکے مزیدامیر بنتے ہیں، عوام کولوٹتے ہیں اورملک کونقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی طرح فوج کے جرنیل بھی نہ صرف انکی اس کرپشن میں ساتھ دیتے ہیں بلکہ خود بھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ آج ملک میں کوئی پوچھنے والانہیں ہے کہ فوج کے کئی جرنیل ارب پتی کیسے بن گئے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کے اس گٹھ جوڑ اوربدترین کرپشن کے نتیجے میں پاکستان کی معاشی حالت مکمل طورپر تباہ ہوچکی ہے، ملک قرضوںاوربھیک پر چل رہاہے،روپے کی قدر دن بدن تیزی سے گر رہی ہے، مہنگائی آسمان پرپہنچ چکی ہے، آٹا، چینی،دالیں ،سبزی اوردیگراشیائے خوردونوش غریب عوام کی پہنچ سے دورہوچکی ہیں۔ ایسی حالت میں اگرعمران خان کی حکومت ہٹابھی دی گئی توجو نئی حکومت آئے گی وہ بھی ملک کی موجودہ صورتحال کونہیں سنبھال سکتی ۔اب ایک عمران خان کیا100 عمران خان بھی بدل دیے جائیں، خواہ جنت سے فرشتے ہی کیوں نہ اتارلئے جائیں، پاکستان کی تباہی وبربادی کوروکا نہیں جاسکے گاکیونکہ جس ملک کانظام معیشت مکمل طورپرتباہ ہوجائے، جہاں کرپشن عروج پرہواورریاست کے ادارے اس کرپشن اور کرپٹ عناصر کے حصہ دار ہوں اورعوام غلاموں کی طرح سسک سسک کر زندگی گزاررہے ہوں اس غلامانہ طرز حکومت میں کوئی حکومت صحیح کام نہیں کرسکتی اورایسے ملک کا ٹوٹنا مقدر بن جاتاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے عوام کان کھول کرسن لیں، جب تک ملک میں فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام قائم ہے ، جب تک فوج کے جرنیلوںاورکرپٹ ترین جاگیرداروں، وڈیروں، سرداروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروںکاگٹھ جوڑ موجود ہے، پاکستان میں نہ مہنگائی ختم ہوگی ، نہ پیٹرول، گیس، آٹا، چینی کے بحرانوںسے نجات ملے گی، نہ ملک کی معیشت ٹھیک ہوگی، روپے کی قدریونہی گرتی جائے گی، ملک معاشی طورپردیوالیہ ہوجائے گا اور اس معاشی تباہی اوردیوالیہ پن کے نتیجے میں ملک قائم نہیں رہ سکے گااورٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔ سوویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے جوسپرپاوراورایٹمی طاقت تھالیکن معاشی طورپردیوالیہ ہونے کے باعث سوویت یونین جیساطاقتور ملک بھی اپناوجودبرقرارنہ رکھ سکااوراس سپرپاور کا شیرازہ بکھرگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ،سردارانہ اور بے لگام سرمایہ دارانہ نظام ختم نہیں ہوگا، سیاست میں فوج کی مداخلت قطعی طور پر ختم نہیں ہوگی اورکرپشن کاخاتمہ نہیںہوگاملک کوٹوٹنے سے بچایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ سیاست میں فوج کی مداخلت کا جاری رہنا، اعلیٰ عدالتوںکا مکمل طور پر آزاد نہ ہونا، عدلیہ میں باکردارججوںکاتقررنہ ہونااوربدترین کرپشن کا جاری رہنا ملک کے سیاسی، انتظامی اورمعاشی طورپردیوالیہ ہونے کاسبب بنتاہے جو ملک ٹوٹنے پر منتج ہوتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں امیروں کے لئے الگ قانون ہے جبکہ غریبوں کے لئے الگ قانون ہے ، چھوٹے چھوٹے مقدمات میں غریبوں کوتو سزا دیدی جاتی ہے لیکن قومی خزانہ لوٹنے والے بڑے بڑے ڈاکوؤںکو کبھی سزانہیں دی جاتی۔ انہوں نے سوال کیاکہ آصف زرداری اور نوازشریف پر کرپشن کے متعدد مقدمات قائم کئے گئے لیکن کیاان میں سے کسی کوکوئی سزاد ی گئی؟انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کی عدلیہ میں ججوں کی تقرریاں کردار کے بجائے پسندناپسندکی بنیادپر کی جاتی ہیںاسی لئے عدالتیں بھی فوج کے زیراثرہوکرفیصلے کرتی ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر فوج پاکستان کے مسائل حل کرسکتی تو ملک کی جتنی عمر ہے اس کاآدھاعرصہ فوج نے براہ راست ملک پر حکومت کی ہے لیکن ملک کی حالت نہ بدل سکی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں برطانیہ کی مثالیں توبہت دی جاتی ہیں لیکن برطانیہ کی جمہوری تاریخ کی مثالوںکونہیںاپنایاجاتا۔ برطانیہ میں 16ویں صدی کے اوائل میں پارلیمنٹ کا تختہ الٹنے والے جنرل کرامویل کواس کی موت کے بعد سزادی گئی۔ اس کی لاش کے ڈھانچے کوقبرسے نکال کرویسٹ منسٹرہال کے سامنے کئی ماہ تک لٹکائے رکھاگیاتاکہ دوسروںکے لئے عبرت ہو۔ اس سزا کااثریہ ہواکہ اس کے بعد برطانیہ میں کبھی مارشل لاء نہیں لگ سکالیکن پاکستان میں فوج نے کئی بار مارشل لاء لگایاگیالیکن مارشل لاء لگانے والے کسی جنرل کو سزا نہیں ہوئی ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کی معاشی وانتظامی تباہی کاسبب ملک کا فرسودہ نظام ہے۔جب تک نظام تبدیل نہیںہوتا ملک کی قسمت نہیں بدلاکرتی لیکن جب ملک میں یہ نظام ہوکہ وڈیروں، جاگیرداروں، سرداروںاورسرمایہ داروںکا فوج کے جرنیلوںسے گٹھ جوڑ ہواورعدلیہ فوج کی ایجنٹ ہو ، بڑے بڑے ڈاکوؤں کو رہا کردیاجائے اورغریبوں کوپھانسی دیدی جائے ایسے نظام پر ہزاربار لعنت ہواور ہم اسی نظام کے خلاف ہیں۔ الطاف حسین کے علاوہ ملک میں کوئی نہیں ہے جواس نظام کوتبدیل کرسکے۔ الطاف حسین نے اس نظام کوتبدیل کرنے کی جدوجہد کی اسی لئے فوج نے پاکستان میں الطاف حسین پر قاتلانہ حملے کئے اورمجھے ملک سے باہر جانے پر مجبور کردیا کیونکہ الطاف حسین نے فوج کاایجنٹ بننے سے انکارکردیاتھا۔
انہوں نے کہاکہ جس طرح الطاف حسین نے جلاوطنی میں رہتے ہوئے تمام ترپابندیوں اورمشکلات کے باوجود تحریک کوجاری رکھااس طرح پاکستان کے کسی ایک لیڈرکانام بتائیں جس نے اس طرح جدوجہد جاری رکھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین نے نہ ملک توڑااورنہ ہی وہ ملک توڑنے کی تحریک چلائی ہے، اس ملک کویہ لوگ اپنے ہاتھوں سے توڑیںگے، اس نے ملک میں رائج فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورفوج کے گٹھ جوڑکے نظام کونہ کل ماناتھا، نہ آج مانے گا،خواہ اسٹیبلشمنٹ کتنے ہی گروپ بناکرسامنے لے آئے۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ میں نہ کل فوج کے ہاتھوں بکنے کے لئے تیارتھااور نہ آج تیار ہوں، میرا منشورسرکار دوعالم ۖ کا آخری خطبہ حجتہ الوداع ہے،جس میں سب برابر ہیں کاسبق دیا گیاہے۔ میں حسینی ہوں، میں کسی بھی یزید کے سامنے سرنہیں جھکاؤںگا۔ 


فوج کا کردار:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے ملک میں جمہوریت کے استحکام ، سویلین بالادستی اورعوام کی فلاح وبہبود کیلئے مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ق) سے معاہدے کیے اور مخلوط حکومتوں کا حصہ بنے لیکن ان تمام سیاسی جماعتوںنے ایم کیوایم کے ساتھ دھوکہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ملک کی سیاسی جماعتوںمیں بڑے بڑے جاگیردار، وڈیرے ، سرمایہ داراور سردار طاقت کامنبع تصور کیے جاتے ہیں اور ان طاقتوں کاسردارپاکستان کی فوج ہے،یہ جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار، سردار اورنام نہاد مذہبی رہنما دراصل فوج کے ایجنٹ ہیں اور ان کے ڈانڈے جی ایچ کیو سے ملتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم غریب ومتوسط طبقہ کی نمائندہ جماعت ہے اورالطاف حسین ملک کاواحد سیاسی رہنما ہے جس نے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، بے لگام سرمایہ دارانہ نظام اورسیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کے
 خلاف نہ صرف آواز اٹھائی بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج کرملک میں غریب ومتوسط طبقہ کاانقلاب برپاکیا۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سلامتی وبقاء کیلئے ہرملک کو فوج کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا فوج کے وجود سے انکارکرنا صریحاً حماقت ہوگی ، فوج کا کام صرف سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اورملک کاانتظام چلانا منتخب اداروں کا کام ہے ،ملک کوداخلی انتشار سے بچانے کیلئے اگر فوج کو لانا ضروری ہوتو بھی منتخب حکومت ہی فوج کو بلاسکتی ہے لیکن فوج نہ تو اپنی مرضی سے اقتدار میں آسکتی ہے نہ ہی حکومت پر قبضہ کرسکتی ہے ۔ آج کی مہذب دنیا کے قوانین کے تحت فوج اقتدار اور سیاست میں عمل دخل نہیں کرسکتی۔

فرسودہ نظام کی تبدیلی:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میری پوری زندگی کی جدوجہد صرف مہاجروں کے حقوق کیلئے نہیں بلکہ فرسودہ نظام کی تبدیلی سے عبارت ہے ، فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے ہی میںنے غریب ومتوسط طبقہ کے پڑھے لکھے افراد کو قومی وصوبائی اسمبلی اور
 سینیٹ کے ایوان میں بھیج کر ثابت کیاکہ اگر انسان صدق دل سے محنت کرے تو وہ فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے بغیر بھی ایوانوں کی رکنیت حاصل کرسکتا ہے لیکن میں نے کرائے کے گھروں میں رہنے والے جس غریب کو منتخب ایوانوںمیں بھیجا وہ مفاد پرستی میں مبتلا ہوکراورکرپشن کاشکار ہوکر فوج کے ایجنٹ بن گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور کرپشن کے جراثیم سے آلودہ ہوکرملک کے منتخب ایوان اس بدبودار تالاب کی شکل اختیارکرچکے ہیں کہ جوبھی ان گندے ایوانوں میں جائے گا اس کادامن صاف نہیں رہ پائے گااور اس ایوان میں جانے والا فرد بھی فرسودہ جاگیردارانہ اورکرپشن کے ماحول کا حصہ بن جائے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو لوگ گندے تالاب میں رہنے کے عادی ہوچکے ہیں ، گندی نالی کے کیڑے بن چکے ہیں اور بدبودار ماحول کاحصہ بن چکے ہیں اگر انہیں اس گندے تالاب سے باہر نکال کر صاف پانی میں رکھاجائے تو وہ صاف پانی کوبھی گندہ کردے گا،یہی وجہ ہے کہ جاگیردارانہ ماحول اور کرپشن کے جراثیم سے آلودہ تالاب میں رہنے والے غداروںنے ایک ایک کونسلر تک کو رشوت خور اور حرام خور بنادیا ہے ۔ 

عمران خان کااقتدار:
جناب الطاف حسین نے میڈیاکی جانب سے تحریک انصاف اوروزیراعظم عمران خان پرتنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ حالات بتارہے ہیں کہ اب کون ٹارگٹ بناہوا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو کہہ دیا ہے کہ فوجی جرنیلوں کے خلاف کیس کروجبکہ حقیقت یہ ہے کہ سویلین وزیراعظم فوج کے خلاف کیس کرہی نہیں سکتا ۔میرا سوال یہ ہے کہ کیاکوئی سویلین کسی فوجی جرنیل کے خلاف کیس کرنے کی ہمت کرسکتا ہے؟ آج ہرٹی وی چینل پر عمران خان کو مغلظات بکی جارہی ہیں جس کا صاف اورواضح مطلب یہ ہے کہ فیصلہ کرنے والی قوتوںنے عمران خان کے حوالے سے فیصلہ کرلیا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگر عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے ہٹاکر فوج منی مارشل لاء تو لگاسکتی ہے لیکن کوئی بھی آنے والی حکومت ڈوبتے ہوئے معاشی نظام کی دلدل میں دھنسے ہوئے ملک کو نہیں نکال سکتی۔ پاکستان میں کرپشن کا کینسر ملک کی جڑوں تک پھیل چکا ہے اورمسلسل کرپشن کا عمل ملک ٹوٹنے کاسبب بن سکتا ہے لہٰذا جب تک ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کاخاتمہ نہیں ہوگا نہ تو ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی ملک سے کرپشن کاخاتمہ ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ کسی ملک کی عددی اکثریت رکھنے والی قوم نسل پرستی کا شکار ہوکر دیگر قوموں، انکے صوبوں یاریاست میں مداخلت کرتی رہے تو شاؤنزم کا یہ عمل بھی ملک ٹوٹنے کاسبب بن جاتا ہے۔

غوروفکر کامسلسل عمل:
جناب الطاف حسین نے کہاکہ جس طرح انسان اپنے گھرمیں داخل ہونے کیلئے دستک دیتا ہے اور دستک کے نتیجے میں دروازہ کھلنے پر اپنے گھرمیں داخل ہوجاتا ہے اسی طرح غوروفکر کرنے اورسوچنے کے مسلسل عمل کی دماغ اور ذہن پر دستک پڑتی رہے تو مسلسل غوروفکر کاعمل ذہن یا دماغ کے بند دروازوںکو کھول دیتا ہے اور جب دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں توجودماغ کے اندرہوتاہے وہ سامنے نظرآنے لگتاہے اور انسان ، دماغ میں موجود علم کاخزانہ حاصل کرلیتا ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ انسانی دماغ میں دنیا کا ہرعلم موجود ہے ، ہوائی جہاز اوردیوہیکل پانی کے جہازکی تخلیق انسان کے چھوٹے سے دماغ کی وجہ سے ہی ہوئی ہے، اسی طرح بڑے بڑے ٹینک، میزائل اور دیگر سائنسی ایجادات انسانی دماغ ہی سے نکلے ہیں 
۔انہوں نے کہاکہ انسان جس چیز کی بھی جستجوکرتا ہے اور اس کے حصول کیلئے غوروفکر کرتا ہے تو وہ چیز اسے حاصل ہوجاتی ہے، مثال کے طورپر آپ کے ذہن میں کوئی خیال آتا ہے اور آپ کوشش کرتے ہیں کہ اس خیال کو تحریرکرکے محفوظ کرلیں جس کیلئے آپ قلم تلاش کرتے ہیں اور اگر قلم نہیں ملتا تو کوئلہ یاکسی بھی دوسری چیز حاصل کرلیتے ہیں تاکہ جو خیال آپ کے ذہن میں آیا ہے اسے تحریرکی صورت میں محفوظ کرلیںتو سوچ وفکر کا مسلسل عمل ہی آپ کی جستجو اور تلاش کوحاصل کرلیتا ہے اورآپ جان جاتے ہیں کہ کس کس چیز کو کس کس طرح استعمال کیاجاسکتا ہے۔

 افواہوں کا بازار:
جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج کل بعض ضمیرفروشوں کی ملاقاتوں کے حوالے سے افواہوں کا بازار گرم ہے ،آپ کو ملک کے ہر ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر جو باتیں سننے کو مل رہی ہیں ان میں مماثلت نظر آئے گی لیکن یہ باتیں حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین نے ایک نظریہ تخلیق کیااور اس نظریہ کے تحت ایک تحریک بنائی، اس تحریک کی بدولت ہی بہت سے لوگوں کو دنیا بھرمیں پہچان ملی ہے، اگر الطاف حسین اور اس کی تحریک کی بدولت نام ومقام حاصل کرنے والے خود کو لیڈر تصور کرنے لگ جائیں اور کارکنان وعوام کو گمراہ کرنے لگیں کہ وہ الطاف حسین کو واپس لانے کی راہیں ہموار کررہے ہیں تو یہ عمل ایسا ہی ہوگا جیساکہ اولاد ، اپنے باپ کو سکھانے کی کوشش کرے کہ بچہ کیسے پیدا ہوتا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ضمیرفروش عناصرمسلسل افواہیں پھیلاکر مہاجر عوام کو بہکانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ جوکچھ کررہے ہیں ، الطاف بھائی کے کہنے پر کررہے ہیں، انکی فوج سے سیٹنگ ہوگئی ہے اور وہ الطاف بھائی کو لائیں گے ۔ جناب الطاف حسین نے دوٹوک اورواشگاف الفاظ میں کہاکہ مجھے نہ تو کل کسی کے سہارے کی ضرورت تھی نہ آج ہے ،یہ ناقابل تردیدسچائی ہے کہ ایسی باتیں کرنے والے دراصل الطاف حسین کی پیداوار ہیں ، الطاف حسین نہ تو ان کی بدولت ہے اورنہ ہی ان کی پیداوار ہے ۔ الطاف حسین نہ تو کمزور ہے اور نہ ہی ان کے کاندھوں کا محتاج ہے ۔ یہ ضمیرفروش عناصر نائن زیروپر قدم بھی نہیں رکھ سکیںگے اور کارکنان وعوام کو منفی پروپیگنڈوںسے بہکانے کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی ۔ 

کارکنوں کے لئے پیغام:
انہوں نے کہاکہ الطاف حسین ، نظریہ کا خالق ہے ، تحریک کا ہرفرد خواہ وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ فائز ہووہ تحریک اورنظریہ سے غداری کرسکتا ہے لیکن نظریہ دینے والا ، نظریہ کاخالق اپنے نظریہ اورقوم سے کبھی غداری نہیں کرسکتا۔ الطاف حسین اپنی جان تو دے سکتا ہے لیکن اپنے نظریہ اورقوم سے کبھی غداری نہیں کرسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایمان کے تین درجے ہوتے ہیں ، اس کے مطابق اگر آپ کوئی غلط چیز دیکھیں تو اسے ہاتھ سے روکیں، ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو اس چیز کو زبان سے برا کہیں اور اگر زبان سے بھی برا نہیں کہہ سکتے تو اس غلط چیز کو اپنے دل میں برا سمجھیں جوکہ ایمان کا کمزور درجہ ہے ، اگر مہاجرعوام تحریک اورقوم کاسوداکرنے والے ضمیرفروشوں کو دل سے براسمجھیں تو ان کی سازشیں کبھی کامیاب نہیں ہونگی۔
جناب الطاف حسین نے کارکنوں سے کہاکہ عمران خان کی حکومت رہے یاجائے، کوئی دوسری حکومت آئے ،یااسٹیبلشمنٹ پی ایس پی، پی آئی بی، بہادرآباد ٹولے کی طرح کسی اورگروپ کو سامنے لے آئے ،آپ کسی قسم کی افواہوں کاشکار نہ ہوں، انہوںنے پہلے بھی منہ کی کھائی تھی اوراب بھی وہ منہ کی کھائیںگے۔ آپ کسی بھی قیمت پر مایوس نہ ہوں، مثبت سوچیں اورمثبت اندازمیں کام کرتے رہیں، انشاء اللہ فتح و کامرانی حق پرچلنے والوں کوہی مقدرہوگی۔
 
٭٭٭٭٭


12/5/2021 5:17:02 AM