بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل اوران کے ساتھیوں نے جس دلیری ،جرات و وہمت ،عز وحوصلے اور واستقلال کامظاہرہ کیاہے اس پر انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ الطاف حسین
……………………………………………
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سرداراخترمینگل اوران کے ساتھیوں نے بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم کے خلاف جس طرح پرامن لانگ مارچ نکالاہے اورتمام تررکاوٹوں، گولیوں،خودکش حملوں اور تمام تر جبروستم کے باوجود جس دلیری اورعزم ، وہمت ،حوصلے اورجس واستقلال کامظاہرہ کیاہے اس نے پاکستان میں جرات وہمت اورعزم واستقلال کی ایک نئی مثال قائم کردی، اس پر میں سرداراخترمینگل اوران کے ساتھیوں کوسلام تحسین پیش کرتاہوں اوران کے مطالبات کی مکمل حمایت کرتاہوں۔
سرداراخترمینگل کے لانگ مارچ کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، انہیں دھمکیاں دی گئیں ، ان کے ساتھیوں کی گرفتاریاں کی گئیں اس کے باوجود بھی انہوں نے لانگ مارچ نکالا، ان کے راستے بند کئے گئے ، انہیں روکنے کے لئے ان کے لانگ مارچ میں خودکش حملہ کیاگیا لیکن وہ نہیں بھاگے بلکہ وہاں موجود رہے، ان کے پرعزم ساتھی موجود رہے، انہوں نے ان تمام تر حالات کاجرات و ہمت سے مقابلہ کیااوراپنے مطالبات کے لئے الٹی میٹم بھی دیااوروہ اب بھی ڈٹے ہوئے ہیں جس پر میں انہیں سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ اخترمینگل نے جس جرات کا مظاہرہ کیااس کانتیجہ یہ نکلا کہ ان کے کارکنان اور بلوچ عوام میں بھی جرات وہمت پیداہوئی اور دوسری پارٹیوں کے لوگ بھی اخترمینگل کی قیادت کوقبول کرچکے ہیں ۔ میں سمجھتاہوں کہ ہرکسی پرلازم ہے کہ وہ سردار اختر مینگل کوان کی جرات وہمت پر خراج تحسین پیش کرے۔
میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے کہتاہوں کہ وہ بھی سردار اخترمینگل کی طرح جرات وہمت کامظاہرہ کریں، پی ٹی آئی کے کارکن تو آج بھی جانیں دینے کے لئے تیارہیں لیکن پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کمپرومائز ہوچکی ہے، انہیں بھی اخترمینگل کی طرح جرات وبہادری کامظاہرہ کرناہوگااورجان ہتھیلی پر
رکھ کرسامنے آناہوگا۔ اگر پی ٹی آئی کے رہنما بھی سرداراخترمینگل کی طرح جرات وہمت کامظاہرہ کرتے اورڈٹ کرفیصلے کرتے توآج صورتحال مختلف ہوتی اورآج عمران خان اب تک جیل سے رہاہوچکے ہوتے ۔
الطاف حسین
فکری نشست 233سے خطاب
یکم اپریل 2025