تیسری دنیا کی عدالتیں اورنظام انصاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری دنیا کے عوام اپنے اپنے ممالک میں انصا ف کے حصول کے لئے انہی مشکلات سے گزرتے ہیں جن کا سامنا پاکستان کے 98فیصد عوام گزشتہ 75سال سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ ان مشکلات کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی و جہ یہ ہے کہ ان ممالک میں حقیقی جمہوریت یاتوسرے سے موجود نہیں ہے اوراگرہوبھی تووہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مکمل طورپرزیراثرہوتی ہے ۔ دوسری بڑی وجہ ان ممالک میں بدترین کرپشن کا ہونا ہے ۔ ان ممالک میں شائد ہی حکومت کا کوئی ادارہ ایسا ہو جہاں کرپشن نہ ہو۔چھوٹی عدالتوں میں تورشوت کھلی اورعام ہوتی ہے جبکہ بڑی عدالتیں چونکہ فوج یا اشرافیہ کے زیراثرہوتی ہیں لہٰذا عموماً ان میں رشوت کی لین دین کے طریقہ کار اورانداز زرامختلف ہوتے ہیں اوراسی لحاظ سے مقدمات کے فیصلے بھی کئے جاتے ہیں۔
ان ممالک کی سب سے بڑی عدالتیں یعنی سپریم کورٹس عموماً فوجی یا سول اسٹیبلشمنٹ یا پھر وہاں موجود ارب پتی،کھرب پتی اوربااثرسیاستدانوں کے زیراثر ہوتی ہیں۔ ان ممالک کے آئین میں موجود لکھے گئے قوانین کی خلاف ورزیوں کے عمل کوسپریم کورٹ ہی جائز قرار دے کرسیاہ کوسفید اورجھوٹ کوسچ میں تبدیل کردیتی ہیں ۔
ان دوبڑی اوردیگروجوہات کی بنیاد پر ان ممالک کے 98 فیصد غریب اور متوسط طبقہ کےلوگوں کا انصاف کے حصول کےلئے سپریم کورٹس تک پہنچنا اول توبہت مشکل اورتکلیف دہ عمل ہوتاہے اوردوسرے یہ کہ اگروہ اپنے اپنے گھر کی تمام اشیاء بیچ کربڑے سے بڑے وکیل کی فیس اداکربھی دیں پھر بھی عموماً انہیں انصاف نہیں ملتا۔
پاکستان کی مثال لے لیجئے کہ ملک کوقائم ہوئے 75سال ہوچکے ہیں مگر ان 75سالوں میں بھی آدھی سے زیادہ مدت تک فوجی ڈکٹیٹرشپ بالواسطہ یا بلاواسطہ مسلط رہی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ ملک میں آئین توڑنے اور مارشل لاء نافذ کرنےکے اس غیرآئینی اقدام کوبالائے طاق رکھ کر اس مارشل لائی عمل کوجائز بھی قرار دیتی رہی ہے ۔باقی عرصہ میں جونام نہاد جمہوری حکومتیں برسراقتدارآئیں وہ بھی فوج کے زیراثر رہ کرہی ملک کی معاشی واقتصادی اورخارجہ پالیسیاں بناتی رہیں۔حتیٰ کہ ملک کاسالانہ بجٹ بھی فوج کی کلیئرنس کے بعدہی پیش کیا جاتا ہے۔ان نام نہاد جمہوری حکومتوں کے دور میں دو فیصد فوجی اشرافیہ،حکمرانوں کو نہ صر ف کرپشن کرنےکی کھلی اجازت دے دیتی ہے بلکہ وہ خود حکمرانوں کے کرپشن کے عمل میں شریک کار بھی بن جاتی ہے ۔
پاکستان کے عوام ایمانداری سے زراغورکریں کہ انہوں نے ملک کی سپریم کورٹ میں دوفیصد اشرافیہ اور حکمرانوں کےمفاد کے مقدمات تو چلتےدیکھے ہوں گے، یا آئینی یا غیرآئینی بحث ومباحثہ کے معاملات پر سپریم کورٹ کوصبح شام حتیٰ کہ رات گئے تک کھلتے اورچلتے دیکھا ہوگا مگر کیاعوام نے کبھی 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے مقدمات ودیگر عوامی مسائل کے لئے سپریم کورٹ کوکبھی صبح و شام یا رات گئے تک کام کرتے دیکھا یاسنا؟ اگرکبھی دیکھا یا سنا بھی ہوگا توشاذونادرہی دیکھا یا سنا ہوگا۔
لہٰذا تیسری دنیا سمیت غریب ممالک کے عوام کو سوچنا ہوگا اور انہیں اپنے اپنے ممالک میں کرپشن فری جمہوریت لانے کےلئے میری دی گئی فلاسفی حقیقت پسندی اورعملیت پسندی (Realism and Practicalism) پر توجہ دینی ہوگی۔
بہت سے لوگ میری یہ بات پڑھ کرشائدسوچ رہے ہوں گے کہ الطاف حسین اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے ہیں تو اس کے جوا ب میں ، میں صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں ہونے والے تمام عام انتخابات میں ایم کیوایم کے علاوہ کس جماعت نے غریب ومتوسط طبقےاورمڈل کلاس سے پڑھے لکھے نوجوانوں کوصوبائی اسمبلی ، قومی اسمبلی یاسینیٹ کے ایوانوں میں بھیجا؟؟؟
کاش کوئی ایک دانشور، قلم کار، صحافی، تجزیہ نگاریا سیاستداں اپنے سیاسی ونظریاتی اختلافات اورتعصبات کوبالائے طاق رکھ کرمیرے اس سوال کاہی جواب دیدے۔
( جاری ہے)
الطاف حسین
31مئی 2023
Translate Tweet