Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مہاجرہماری شناخت ہے اور سندھ دھرتی ہمارا وطن ہے، قائد تحریک الطاف حسین


مہاجرہماری شناخت ہے اور سندھ دھرتی ہمارا وطن ہے، قائد تحریک الطاف حسین
 Posted on: 11/22/2021
 مہاجرہماری شناخت ہے اور سندھ دھرتی ہمارا وطن ہے، قائد تحریک الطاف حسین
 ہم غلامی کی ذلت آمیز زندگی کسی بھی قیمت پرقبول نہیں کریں گے
پاکستان معاشی طورپر دیوالیہ ہورہا ہے اور جب تک ملک سے فرسودہ جاگیر دارانہ نظام کاخاتمہ نہیں ہوگا ملک کومعاشی طورپرمستحکم نہیں بنایاجاسکتا
 جس ملک میں انصاف ناپید ہوجائے ایسے ملک کو مردہ باد نہ کہاجائے تو پھرکیاکہاجائے
 ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئےISI نے برطانیہ میں بھی میرے خلاف مقدمات قائم کرائے
 کراچی کو علیحدہ کرکے پنجاب کی سیٹلائٹ کالونی بناناگریٹرپنجاب کی سازش ہے
مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے،میں سندھ کے مظلوموں کیلئے حقوق چاہتا ہوں
میں کسی کو قیام پاکستان جیسا ڈرامہ مہاجرعوام کے ساتھ دہرانے کی اجازت نہیں دوں گا
 سندھ کے غریب ہاری ،محنت کش اور روشن خیال دانشور طبقہ بھی فرسودہ وڈیرانہ
 نظام کے خلاف ایم کیوایم کے ساتھ ہے
 ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کے باوجود کارکنان وعوام کے
 دلوں سے الطاف حسین کی محبت ختم نہیں کی جاسکی
نیویارک میں ایم کیوایم کے سینئر کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب

لندن۔۔۔22، نومبر2021ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ مہاجرہماری شناخت ہے اور سندھ دھرتی ہمارا وطن ہے اور وفاپرست کارکنان وعوام نے تہیہ کرلیا ہے کہ ہم غلامی کی ذلت آمیز زندگی کسی بھی قیمت پرقبول نہیں کریں گے ، میراآج بھی دوٹوک مؤقف ہے کہ پاکستان معاشی طورپر دیوالیہ ہورہا ہے اور جب تک ملک سے فرسودہ جاگیر دارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ نہیں ہوگا ملک کومعاشی طورپرمستحکم نہیں بنایاجاسکتا۔ 
 ان خیالات کااظہار جناب الطاف حسین نے اتوار کی شب امریکہ کے شہرنیویارک میں ایم کیوایم کے سینئرترین کارکنان کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی اور ایم کیوایم امریکہ کی سینٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے ۔ بعدازاں جناب الطاف حسین نے سینئرکارکنان کے سوالات کے جوابات بھی دیئے۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ 11، جون1978ء کو جامعہ کراچی میں آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا قیام عمل میں لایا گیا ، 43 سالہ جدوجہد کے دوران تحریکی ساتھیوںنے انگنت نشیب وفراز دیکھے اورتحریک کو اندازہ ہوگیا کہ کون کتنے مضبوط اعصاب کامالک تھا، کون نظریاتی طوپر تحریک میں شامل ہوا اور کون محض جذباتی طوپرتحریک میں شامل ہوا تھا۔کسی کی آزمائش کا پیمانہ وقت ہی ہوتا ہے اور وقت ثابت کرتا ہے کہ کون اپنے دعوے ، وعدے اور قرآن مجید پر لیے گئے عہدوفاکے حلف پر قائم رہا ، کون کون اپنے عہدسے منکر ہوگیا اور کون کسی بھی وجہ سے خاموش ہوکر اپنے گھر بیٹھ گیا۔
 انہوں نے کہاکہ جب 1987ء میں ، میں نیویارک آیا تھا توٹریبورو برج کے قریب کئی گاڑیوں میں سوار مسلح افراد نے مجھ پرقاتلانہ حملے کی غرض سے ہمارا پیچھا کیا، اس وقت ہم نے جو حفاظتی گارڈز رکھے ہوئے تھے وہ مسلح افراد کو دیکھ کر بھاگ گئے لیکن میں ساتھیوں کو گائیڈ کرتا رہا کہ کس طرح گاڑی چلائی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ موت برحق ہے ، موت کا ایک دن معین ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مظلوموں کی قیادت کیلئے مجھے محفوظ رکھا۔اس دوران مہاجراتحاد کوتقسیم کرنے کیلئے سلیم حیدرگروپ، شمعون ابرار گروپ، سٹیزن کمیٹی ، شہری محاذ اوردیگرگروپ تشکیل دیے گئے لیکن کسی کو مہاجرعوام کی پذیرائی نہیں مل سکی، میں نے تمام تر مشکل حالات کے باوجود تحریکی جدوجہد جاری رکھی اور دن رات محنت کرکے جمہوری طریقے سے ایم کیوایم کو پاکستان کی تیسری سب سے بڑی اور صوبہ سندھ کی دوسری سب سے بڑی جماعت بنایااور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت متعارف کرائی۔1992ء کے فوجی آپریشن کے بعدفوج نے حقیقی گروپ تشکیل دیاگیا پھر عظیم طارق گروپ بنایا لیکن ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کے باوجود کارکنان وعوام کے دلوں سے الطاف حسین کی محبت ختم نہیں کی جاسکی۔ 
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ2015ء میں میری تحریر، تقریر، تصویر حتیٰ کے میڈیاپر میرا نام تک لینے پر پابندی عائد کردی گئی جبکہ اس وقت میں نے پاکستان مردہ باد بھی نہیں کہاتھا، 2015ء سے 2016ء تک ذمہ داروں نے اس پابندی کو ختم کرانے کیلئے نہ تو کوئی کردار اد کیااورنہ ہی کارکنان کی طرح قربانیاں دینے کیلئے سامنے آئے۔اس وقت کی رابطہ کمیٹی ،فوج کے ہاتھوں بک گئی ، شہیدوں کے لہو کا سودا کرنے اور لاپتہ ساتھیوں اوران کے اہل خانہ کوبھول جانے والے آج پی ایس پی، پی آئی بی اور بہادرآباد ٹولے کی شکل میں موجود ہیں ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریکی جدوجہد کے دوران میں خود تین مرتبہ جیل جاچکاہوں، 1992ء سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اور ہزاروں تحریکی ساتھیوں کی طرح میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کو گرفتار کر ے انسانیت سوز تشدد کانشانہ بناکر شہید کردیاگیاجن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھاجبکہ میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کو گرفتارکرکے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں تشدد کابنایاگیا اوروہ رہائی کے بعدبہیمانہ تشدد کے باعث شدیدبیماررہنے لگے اور شہید ہوگئے،جب میرے رشتہ داروں کو گرفتارکیاگیاتو میں نے ان کی رہائی کیلئے کسی سے بھیک نہیں مانگی کہ میں فوج کی تمام شرائط ماننے کیلئے تیار ہوں لہٰذا میرے بھائی ، بھتیجے اوربہنوئی کورہاکردو، میں نے اپنے نظریے پراپنے خون کو ترجیح نہیں دی ، کسی بھی ظلم کے سامنے اپنا سرنہیں جھکایا اور تحریکی جدوجہد جاری رکھی ۔ انہوںنے کہاکہ اس دوران ایم کیوایم کو ختم کرنے کیلئے آئی ایس آئی نے برطانیہ میں بھی میرے خلاف مقدمات قائم کرائے اور میری گرفتاریوں کاسلسلہ شروع ہوگیا ،2016ء میں جب کارکنان کے ماورائے عدالت قتل ، جبری گمشدگیوں اور انہیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلیں بھرنے کاعمل جاری رہا تو طے پایا کہ ان ریاستی مظالم کے خلاف رابطہ کمیٹی میدان عمل میں آئے اوربھوک ہڑتال کرے۔ میں ایک ہفتہ تک بھوک ہڑتال کرنے والے ساتھیوں کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھتا رہا اور کسی حکومتی فرد نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں آکر ہم سے یکجہتی کااظہارنہیں کیا۔22، اگست2016ء کو میں نے تمام ساتھیوں سے کہاکہ وہ بھوک ہڑتال ختم کرکے اپنے اپنے گھروں کوواپس جائیں اور رابطہ کمیٹی کے ارکان اورمنتخب عوامی نمائندے رینجرز کے ہیڈکوارٹرکے سامنے پرامن مظاہرہ کریں اورکارکنان کی طرح قربانیاں دیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ1994ء میں ہم نے بیرسٹر فاروق حسن کے ذریعے 12 جلدوں پر مشتمل پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کرائی لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،2016ء میں بھی ہم نے مہاجرکارکنان وعوام پربدترین مسلسل ریاستی مظالم کے خلاف عدالتوں سے انصاف کی اپیلیں کیںلیکن ہمیں انصاف نہیں ملا۔ ریاست کی بے حسی ،میڈیاٹرائل ،عدالتوں سے مایوسی ، مہاجردشمنی کا مسلسل عمل اورپرامن احتجاج کرنے والے ساتھیوں کا کرب مجھے اس نہج پر لے آیا کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا کہ جس ملک میں انصاف ناپید ہوجائے ایسے ملک کو مردہ باد نہ کہاجائے تو پھرکیاکہاجائے۔22،اگست 2016ء کومیں نے ساتھیوں سے کہاکہ ہمارے خلا ف یک طرفہ پروپیگنڈہ کیاجارہا ہے اور ہمارا مؤقف تک شائع یا نشر نہیں کیاجارہا لہٰذا وہ وفد 
کی شکل میں میڈیاہاؤسز کے مالکان سے ملاقات کریں اور ان سے بات کریں۔ اس دوران چند ساتھی بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود بعض صحافیوں اورکیمرا مین کی جانب بڑھے تو میںنے انہیں ڈانٹا کہ یہ رپورٹر اورکیمرا مین ہماری طرح غریب ہیں ان سے ہمیں کوئی شکایت نہیں ، ہمیں ان میڈیامالکان سے شکایت ہے جو پالیسی بناتے ہیں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حکمراں طبقہ ہمیشہ سے ہمارا استحصال کرتا آیا ہے،آج صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ فلم انڈسٹری، ریڈیوپاکستان، پی آئی اے اوربنکوں کے مرکزی دفاتر کراچی سے اسلام آباد منتقل کیے جاچکے ہیں ، کراچی میں ریڈیوپاکستان کی عمارت پر رینجرز کا قبضہ ہے ، اگر پنجاب کے بس میں ہوتا تو وہ کراچی سے سمندربھی اٹھاکر لے جاتا ، پنجاب کی نظریں کراچی پر لگی ہوئی ہیں کہ کسی طرح کراچی کوسندھ سے علیحدہ کرکے پنجاب کی سیٹلائٹ کالونی بنادیاجائے ، گریٹرپنجاب کی یہ سازش میں 1995 ء میں بے نقاب کرچکا ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ مہاجرقوم کے غدار اپنے ظرف وضمیرکاسودا کرچکے ہیں اور ان کی مفاد پرستی کاخمیازہ مہاجرعوام کو بھگتناپڑرہا ہے ، مہاجروں کی جائز بستیاں مسمار کی جارہی ہیں، انکی مارکیٹوں کو آگ لگائی جارہی ہے ،انہیں ملازمتوں سے برطرف کیاجارہا ہے ، ان کے بنیادی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، مہاجروں خصوصاً مہاجرخواتین کے ساتھ غیرمقامی افراد کی جانب سے توہین آمیز سلوک کیاجاتا ہے اور یہ غدارٹولے خاموش تماشائی بن کرسب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ جب 
تحریک میں شامل ہوئے تو کرائے کے گھروں میں رہتے تھے لیکن آج ڈیفنس اور کلفٹن کے بنگلوں میں رہ رہے ہیں۔ مائنس الطاف حسین فارمولے کے تحت فوج نے ان غداروں کو ہرقسم کی سہولت اورسپورٹ دی لیکن کراچی ، حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر، نواب شاہ ، سانگھڑ اور سندھ کے دیگر شہروں میں رہنے والے مہاجروںنے بارباران غداروں کو یکسر مسترد کردیا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں اب 68 سال کی عمر کوپہنچ گیاہوں، مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے،میں سندھ کے مظلوموںکیلئے حقوق چاہتا ہوں ، میںکسی کو قیام پاکستان جیسا ڈرامہ مہاجرعوام کے ساتھ دہرانے کی ہرگزاجازت نہیں دوں گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میراآج بھی دوٹوک مؤقف ہے کہ پاکستان معاشی طورپر دیوالیہ ہونے والا ہے اور جب تک ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ ، سردارانہ اوربے لگام سرمایہ دارانہ نظام کاخاتمہ نہیں ہوگا ملک کومعاشی طورپرمستحکم نہیں بنایاجاسکتا۔ انہوںنے کہاکہ افغانستان سے رشیا کو نکالنے کیلئے عالمی طاقتوں نے آنکھ بند کرکے پاکستانی فوج کو القاعدہ اور طالبان بنانے کے اختیارات دیے جوایسے مونسٹر بن گئے کہ 40 سال بعد امریکہ کو افغانستان سے نکلنا پڑا ۔ اب پاکستان دوسرا افغانستان بننے جارہا ہے اورچائنا مکمل طورپر پاکستان پرقابض ہوچکا ہے ۔عالمی قوتیں کسی بھی قیمت پر پاکستان کو افغانستان بننے نہیں دیں گی اورمذہبی انتہاء پسندی کے فروغ کوروکنے کیلئے کسی بھی اقدام سے گریز نہیں کریں گی ۔ عالمی قوتیں اس بات کا بخوبی ادراک رکھتی ہیں کہ 
ملک میں ایم کیوایم واحد لبرل اورسیکولر جماعت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے غریب ہاری ،کسان ، محنت کش اور روشن خیال دانشور طبقہ بھی فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف ایم کیوایم کے ساتھ ہے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرا عزم وحوصلہ آج بھی جواں ہے اور الطاف حسین کا یہ اپنے آپ سے کمٹمنٹ ہے کہ وہ نہ تو مظلوموںکے حقوق کی جدوجہد سے دستبردار ہوگا اورنہ ہی ریاستی ظلم وجبرکے آگے سرینڈرکرے گا۔ جناب الطاف حسین نے سینئر تحریکی ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آج طویل عرصے کے بعد آپ سے بات کرکے مجھے بے حد خوشی محسوس ہورہی ہے ، آپ نے گھربیٹھنا گوارہ کرلیا لیکن کسی غدارٹولے کا حصہ نہیں بنے جس پر میں آپ سب کو دل کی گہرائیوں سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس موقع پر تحریک کے سینئرترین ساتھیوں نے جناب الطاف حسین سے کہاکہ ہمیں کل بھی آپ کی قیادت پر مکمل اعتماد تھا اورہم آج بھی آپ ہی کو اپنا قائد مانتے ہیں اور مظلوم عوام کے حقوق کی جدوجہدمیں آپ کے ساتھ ہیں۔
٭٭٭٭٭



12/9/2021 1:03:55 AM