Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کی جیوپولیٹکل سچویشن خطرے میں ہے. ملک میں موجود سیاسی بے چینی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر، کورکمانڈرزاورآپریشنل کمانڈرسے دردمندانہ اپیل


 Posted on: 5/31/2026

طالبان کی افغان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیاہے، خطے میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، پاکستان کی جیوپولیٹکل سچویشن خطرے میں ہے.
ملک میں موجود سیاسی بے چینی کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ فیلڈمارشل عاصم منیر، کورکمانڈرزاورآپریشنل کمانڈرسے دردمندانہ اپیل۔فکری نشست سے خطاب

پاکستان اگرچہ ایک آزاد ملک ہے لیکن پاکستان کوماضی میں بھی بیرونی طاقتوں کے مفادات کی جنگ کا اڈہ بنایا گیا اورپرائی جنگ میں پاکستان کوجھونکا گیا اورآج بھی اسی پالیسی پرعمل کیا جارہا ہے۔اگرآج پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے توہمیں اس کے اسباب پرغورکرنا ہوگا۔ ماضی میں امریکہ اورروس کی سرد جنگ کے دوران جب روس نے افغانستان پرکنٹرول کرلیا توامریکہ اورمغربی طاقتو ں نے روس کو افغانستان سے نکالنے کے لئے پاکستان کواستعمال کیا۔ اس وقت پاکستان کواس جنگ کاحصہ نہیں بننا چاہیے تھا لیکن اس وقت کے جرنیلوں نے امریکہ کے مفادات کے لئے پاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنایا، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افغان مجاہدین تیارکئے گئے، افغانیوں کوتربیت دیکرانہیں روس سے لڑنے کے لئے افغانستان بھیجا جاتارہا، انہیں اسلام کا مجاہد قراردیا گیا، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان بھرمیں جہادی مدرسے قائم کئے گئے، پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے ذریعے نوجوانوں کی بھرتی کی گئی اورانہیں عسکری تربیت دی گئی، افغان مجاہدین اورطالبان بنائے گئے اورپاکستان کوامریکہ کے مفادات کی جنگ کامرکز بنادیا گیا۔میں اس وقت بھی مسلسل کہتا رہا کہ دوسروں کی جنگ میں پاکستان کو نہ جھونکا جائے، یہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے، جنہیں آپ دوسروں کے لئے جہادی بنارہے ہیں یہ کل آپ کے خلاف ہی استعمال کئے جائیں گے لیکن میری باتوں پرتوجہ نہیں دی گئی بلکہ مجھے غدار، ملک دشمن اورنجانے کیا کچھ کہا گیا، آج حالات بدل گئے ہیں تووہ طالبان جنہیں کل تک مجاہدین اسلام کہا جاتا تھا اب انہیں فتنہ الخوارج کہہ کران کے خلاف طرح طرح کے ناموں سے مسلسل فوجی آپریشن کئے جارہے ہیں، قبائلی علاقوں میں بمباری اورڈرون سے حملے کئے جارہے ہیں جن میں معصوم پشتون نوجوان، بزرگ ہی نہیں بلکہ پشتون مائیں، بہنیں، بیٹیاں اورمعصوم بچے بھی مارے جارہے ہیں۔ 
 70ء کی دہائی میں افغان جنگ کے دوران لاکھوں افغانی باشندوں کوپاکستان میں پناہ دی گئی، وہ 40، 50 سال سے پاکستان میں رہ رہے ہیں، ان کی تیسری چوتھی نسل یہاں پیدا ہوچکی ہے، اب وہ پاکستان کے شہری بن چکے ہیں،ان کے پاس پاکستانی  پاسپورٹ اورشناختی کارڈ ہیں لیکن اب انہیں بھی پاکستان سے جبری نکالا جارہا ہے۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے لہٰذا میری پاکستان کے مسلح افواج کے جرنیلوں سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں سنجیدگی اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پرغورکریں اوراس سلسلے میں کوئی فارمولا بنائیں کیونکہ ان افغان باشند وں کے افغانستان میں بھی روٹس ہیں۔ 
میں اپنے خطابات، بیانات، وڈیولاگزاورٹوئٹس میں مسلسل کہتا رہا کہ افغانستان ایک آزاد اورخودمختار ملک ہے، افغانستان ہماراپڑوسی ملک ہے،آپ کو تمام پڑوسی ممالک خصوصاً افغانستان سے برادرانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں لیکن کل تک جس افغانستان کوہم اپناحصہ اوراپنابھائی کہتے تھے، وہاں پاکستان کے سویلین حکمراں اور فوجی جرنیل آزادی سے آتے جاتے تھے،اسی افغانستان سے تعلقات خراب کرلئے گئے ہیں اوربیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اب اسی افغانستان پر پاکستان کی جانب سے جنگی طیاروں سے بمباری کی جارہی ہے،ڈرون حملے کئے جارہے ہیں۔ وہ طالبان جنہیں پاکستان کے فوجی جرنیل اپنااثاثہ قراردیتے تھے انہی طالبان کی حکومت کودشمن قرار دیا جارہا ہے، ان سے جنگ کی جارہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کی افغان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے جس کے تحت روس افغان حکومت کوجنگی طیارے، میزائل، ایئر ڈیفنس سسٹم، ڈرون، ٹینکس اوردیگرجنگی سازوسامان فراہم کرے گا۔ اب پاکستان کے ارباب اختیار کیا کریں گے؟ 
میں فوج کے جرنیلوں سے کہتاہوں کہ خطے میں بہت تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، پاکستان ایک انتہائی نازک صورتحال سے دوچار ہے، اس کی جیوپولیٹکل سچویشن خطرے میں ہے۔اگر ہم نے فوری طورپر حقیقت پسندانہ اقدامات نہیں کئے تو پاکستان کی سلامتی کوبھی نقصان پہنچ سکتاہے۔میں یہ باتیں ملکی مفاد میں کررہا ہوں، خدارامیری ان باتوں پر سنجیدگی سے غورکریں، پاکستان کومزید جنگ وجدل اورآگ اور خون سے بچائیے، اس خطے میں مزید بے گناہ انسانوں کا خون بہنے سے بچایئے، امن قائم کیجئے، مذاکرات کیجئے، بات چیت کیجئے، بیرونی طاقتوں پر بھروسہ نہ کیجئے بلکہ اپنے عوام پر بھروسہ کیجئے۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب، تمام کورکمانڈرزاورآپریشنل کمانڈرصاحبان سے اب بھی کہتا ہوں کہ میرے دل میں کسی کے لئے کوئی نفرت یا بغض نہیں، ملک کے لئے ہمدردی ہے، میرے پاس پاکستان کوبچانے کے فارمولے ہیں، میں سمجھتاہوں کہ اب بھی پاکستان کوان خطرات سے نکالا جاسکتا ہے، ملک کوبچایا جاسکتا ہے، آپ نے مجھے ملک کادشمن سمجھ کرمیرے خلاف اقدامات کرنے، میرے لوگوں کو مارنے، گرفتاراورلاپتہ کرنے کے علاوہ اورکیا کیا ہے، آپ مجھ پر چاہے مجھ پرپابندی نہ ہٹائیں لیکن مجھ سے بات کریں، کہ ہم پاکستان کوبچانے کے لئے کیا کرسکتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کوبیرونی خطرات سے بچانے کے لئے داخلی طورپرمستحکم کرنے اورملک میں موجود سیاسی بے چینی کو دور کرنے کی ضرورت ہے، سیاسی قیادت کے خلاء کوپُر کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ عمران خان، ان کے دیگر رہنماؤں جنہیں سیاسی بنیادوں پر مختلف مقدمات میں قید کیا گیا ہے، انہیں رہاکیا جائے،ایم کیوایم کے اسیررہنماؤں اورکارکنوں کورہاکیا جائے،الطاف حسین پر پابندی ختم کی جائے اورعوامی مینڈیٹ رکھنے والے سیاسی قائدین کی گول میز کانفرنس کی جائے تاکہ ہم سب ملکر بیٹھیں اورپاکستان کی بقاء وسلامتی کیلئے سوچیں۔

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 410  ویں فکری نشست سے خطاب
30مئی 2026ء



6/2/2026 7:45:50 AM