Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

بلوچستان کی داستانِ غم اورتاریخ (3)


بلوچستان کی داستانِ غم اورتاریخ  (3)
 Posted on: 5/23/2026

بلوچستان کی داستانِ غم اورتاریخ  (3)
ٹک ٹاک پر 406  ویں فکری نشست سے خطاب

گزشتہ فکری نشستوں میں بلوچستان کی تاریخ بیان کی گئی تھی کہ بلوچستان کے چند علاقوں پر مشتمل ایک برٹش بلوچستان تھا جبکہ باقی پورا بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں تھا جسے فوج کشی کرکے زبردستی پاکستان کے جغرافیے میں شامل کیا گیا۔ بلوچستان پر فوج کے قبضے کے خلاف بلوچوں نے مزاحمت کا آغاز کیا،1958ء میں خان آف قلات کی گرفتاری کے خلاف 80 سالہ بزرگ نواب نوروز خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں پر چلے گئے جنہیں پاکستانی فوج کے جرنیلوں نے قرآن مجید پر حلف لیکر مذاکرات کی یقین دہانی کرائی کہ آپ پہاڑوں سے نیچے اترآئیں، آپ کوگرفتارنہیں کیا جائے گا بلکہ بات چیت کی جائے گی۔ جب نواب نوروز خان اوران کے ساتھی قرآن مجید کے واسطے دینے پر پہاڑوں سے اترے توفوج نے ان کے ساتھ بدعہدی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرلیا،ان پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور1960ء میں پھانسی دے دی گئی۔ 
بلوچستان کے عوام پر 80 سال سے ظلم ہورہا ہے، ماضی میں بنگالیوں کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا گیا، شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ انتخابات میں کامیاب ہوگئی تھی مگربنگالیوں کو حق حکمرانی سے محروم رکھا گیا، یہی ظلم مہاجروں کے ساتھ ہورہا ہے اورفوج نے یہی ظلم امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے دوران جہادی گروپس اورطالبان بنا کر پشتون عوام کے ساتھ کیا اور آج طالبان کے خلاف آپریشن کی آڑ میں پشتون بزرگوں، خواتین، نوجوانوں اور معصوم بچوں کو ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ پاکستان ایک آزاد ملک نہیں ہے، پاکستان پہلے برطانیہ کی گیریژن اسٹیٹ بنا ہوا تھا اورآج امریکہ کی چھاؤنی کا کردار ادا کررہا ہے اورپاکستانی فوج امریکہ کے مفادات کیلئے کام کررہی ہے۔ بلوچوں پر ظلم وجبرکے باعث ہی بلوچستان میں آزادی کے نعرے لگ رہے ہیں، بلوچ عوام اپنی آزادی کی تحریک چلارہے ہیں اورمزاحمت کررہے ہیں۔
پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب کے عوام سوچیں کہ آج بلوچ عوام ہتھیاراٹھانے پر کیوں مجبورہوئے؟اقوام متحدہ کا چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے مطابق ہرخطے کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ حکومت کے اقدامات کو ظالمانہ، قاتلانہ، سفاکانہ اورغیرآئینی وغیرانسانی سمجھتے ہیں تو وہ حق خودارادیت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو گیس، سونے اوردیگرقدرتی معدنیات کے ذخائرسے مالامال ہے،بلوچ عوام کا مؤقف ہے کہ 1948ء میں ان کی رائے کو گولہ بارودسے دبایا گیا، ان کی آزادی سلب کی گئی اوربلوچستان کے وسائل پر قبضہ کرلیا گیا۔ سوئی گیس بلوچستان سے نکلتی ہے جوپورے پاکستان کو فراہم کی جارہی ہے لیکن بلوچستان کے عوام سوئی گیس کی سہولت سے محروم ہیں، یہ سراسر ناانصافی نہیں تو پھر کیا ہے؟
کراچی کے بعد سب سے بڑی پورٹ گوادرپورٹ ہے، وفاق بلوچستان کے وسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے لیکن بلوچستان آج بھی ملک کا سب سے پسماندہ صوبہ ہے، بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل اورجبری گمشدگیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں، کیا بلوچوں کی جانب سے اپنے جائز حقوق سے محرومی، معاشی استحصال، جسمانی قتل عام اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھانا اورجدوجہد کرنا غلط قراردیا جاسکتا ہے؟
پاکستان کی حکومت دلیل دیتی ہے کہ بلوچوں کو ہتھیار نہیں اٹھانا چاہیے کیونکہ 1948ء میں خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کرلیا تھا لیکن بندوق کی نوک پر کسی سے الحاق نامے پر دستخط کرانے کے عمل کو کیا دنیا جائز سمجھ سکتی ہے؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کا حق دیا جاتا اوران کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا لیکن فوج کی جانب سے بلوچستان کے سرداروں کو خریدا گیا، بلوچستان کے حقوق کی آواز اٹھانے اور اپنی زمین کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے ہزاروں بلوچوں کوماورائے عدالت قتل یاجبری لاپتہ کرکے انہیں اجتماعی قبروں میں دفن کردیا گیا۔ 
 ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ دیگربلوچ خواتین کے ساتھ بلوچوں پر ظلم وستم کے خلاف پرامن جدوجہد کررہی تھیں، وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے امن مارچ کررہی تھیں لیکن ان پُر امن بلوچ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں پر گولیاں برسائی گئیں، ان کے راستے بند کیے گئے، انہیں تشدد کا نشانہ بناکر گرفتارکرلیا گیا اور جیلوں میں قید کردیا گیا۔ میرا سوال ہے کہ جب کسی قوم کی بہن بیٹیوں پر کوئی ہاتھ ڈالے گا تو اس قو م کے لوگوں کا کیاردعمل ہوگا؟
بڑے بڑے دانشوروں،مفکرین اوراسکالرز کے اقوال زرین تاریخ کاحصہ ہیں۔ آج میرے اس جملے کو بھی لکھ لیں کہ،
 ”جو فوج، جو حکومت، جو ملک یا طاقتورگروہ طاقت کے ناجائز استعمال کے ذریعے حقوق کی آواز یا نعروں کو دباتے ہیں، یا کسی پرامن جدوجہد کو ناکام بنادیتے ہیں تو وہ دراصل پرتشدد انقلاب کو ناگزیربنا دیتے ہیں“
جب پرامن سیاسی کارکنوں کو دیوار سے لگانے،انہیں گرفتار، جبری گمشدہ اور ماورائے عدالت قتل کرنے کے واقعات روزمرہ کامعمول بن جائے تو ہتھیاراٹھانا آخری راستہ بن جاتا ہے اورسیاسی کارکنان مجبوراً مزاحمت کا راستہ اختیارکرلیتے ہیں جسے وہ ”حق دفاع“ یا سیلف ڈیفنس کا نام دیتے ہیں۔
 کہا  جاتا ہے کہ نیلسن مینڈیلا اورمہاتما گاندھی عدم تشدد کے حامی تھے ایسی باتیں تاریخی حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر کہی جاتی ہیں۔ نیلسن مینڈیلا نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ انہوں نے جنوبی افریقہ میں Apartheid یعنی نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی تو سفید فام لوگوں نے سیاہ فام لوگوں پر ظلم کی انتہاء کردی تھی اور 1961ء میں نیلسن مینڈیلا نے پرامن جدوجہد کاراستہ چھوڑ کر مسلح جدوجہد کاراستہ اختیار کیا تھا جسے uMkhonto we Sizwe کہا جاتا ہے۔ اسی طرح برصغیرمیں بھگت سنگھ، چندرشیکھرآزاد اور سبھاش چندربوس نے بھی انگریزوں سے آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کاراستہ اختیارکیا تھا۔ 
امریکہ میں تین گورے پولیس اہلکاروں نے ایک سیاہ فام کوپکڑا اور اس کی گردن دباکر قتل کردیا تو پورے امریکہ میں Black lives matter کے نعرے گونجنے لگے اورایک سیاہ فام کے قتل پر امریکہ میں طوفان بپا کردیا گیا جس کے نتیجے میں بالآخر قاتل پولیس اہلکاروں کو سزائیں دیدی گئیں اورامریکی صدرکومقتول کے بچوں سے گھٹنوں کے بل معافی مانگنی پڑی۔
یہ کلیہ ہے کہ”جس خطے میں ظالم کو اس کے ظلم پر سزادی جائے گی وہاں امن قائم ہوگا اور جہاں ظالم کو ظلم کرنے پر انعامات اورمیڈل دیئے جائیں گے اس خطے میں مسلح جدوجہد ناگزیرہوگی“
جس کسی ملک میں انسانوں کو قتل کردیا جائے، جبری لاپتہ کردیاجائے، اس کے گھروالے عدالتوں میں انصاف کی دہائیاں دیں مگرعدالتیں بے اثرہوجائیں اورانصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوجائیں، ذرائع ابلاغ مظلوموں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی خبر نشر اور شائع نہ کرے اور حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کو گرفتارکرکے جیل میں ٹھونس دیا جائے تو اس خطے کے لوگ مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبورہوجاتے ہیں۔ 
یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں بلوچ خواتین اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لئے بلوچستان سے پیدل چل کر اسلام آباد پہنچیں، پُرامن دھرنا دیا۔ یہ بلوچ مائیں، بہنیں بیٹیاں ایک ماہ تک سرد اورگرم اور بارش کے موسم میں اسلام آبادمیں دھرنا دیے رہیں، انہیں پولیس اہلکاروں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گرفتارکیا گیا مگرپنجاب سے کوئی ان مظلوم بلوچ خواتین کی داد رسی کرنے نہیں پہنچا،اہل پنجاب نے ان بلوچ خواتین سے یکجہتی کا اظہار نہیں کیا۔
یہ طے شدہ بات ہے کہ بلوچ ایک غیرت مند اوربہادر قوم ہے اوراپنے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔آج  بلوچستان میں صورتحال ہے وہ انتہائی دردناک ہے۔ اسی طرح اگر صوبہ خیبرپختونخوا میں فتنہ الہندوستان یا خوارج کے خلاف کارروائی کی آڑ میں ڈرون حملوں یا فوجی آپریشن میں پختون بزرگوں، ماؤں، بہنوں، نوجوانوں، بچوں اوربچیوں کا قتل کیا جاتا رہا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بلوچوں کی طرح پختون عوام بھی آزاد پختونستان کانعرہ لگانے اوراپنی آزادی کیلئے ہتھیاراٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ 
یہ قابل غوربات ہے کہ اگر صوبہ پختونخوا میں لوگ نعرہ لگائیں کہ ”یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے“ تو انہیں گولیاں ماری جاتی ہیں لیکن یہی نعرہ ن لیگ کی مریم نواز لگائیں تو انہیں صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بنادیاجاتا ہے۔ اگراس طرح کی تفریق ہو، ایک کے ساتھ پیار کا سلوک ہواوردوسرے کے ساتھ بندوق، لاشیں اورظلم ہو تو مظلوم قومیں جلد یا بدیر مزاحمت کاراستہ اختیار کرنے پر مجبورہوجاتی  ہیں۔
 فوج کو اپنے اس طرزعمل پر غورکرنا چاہیے کیونکہ اس طرزعمل سے ملک میں پنجابی پختون تفریق بڑھے گی۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 406  ویں فکری نشست سے خطاب
22، مئی 2026ء


5/23/2026 10:16:14 AM