Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حکومت پاکستان کو ایران پربلاجواز بمباری کے عمل میں کسی بھی طرح امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دینا چاہیے


 حکومت پاکستان کو ایران پربلاجواز بمباری کے عمل میں کسی بھی طرح امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دینا چاہیے
 Posted on: 3/8/2026 1

حکومت پاکستان کو ایران پربلاجواز بمباری کے عمل میں کسی بھی طرح امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ نہیں دینا چاہیے
 امریکہ اوراسرائیل نے ایران کی 168 معصوم بچیوں کو قتل کیا ہے

7، اکتوبر2023ء کوامریکہ اور اسرائیل نے حملے کرکے پورے فلسطین کو راکھ کا ڈھیر بنادیا،حتیٰ کہ اسرائیل نے پناہ گزینوں کے کیمپوں اوراسپتالوں کو بھی نشانہ بنایااور فلسطینی بچوں اورخواتین تک کوشہید کردیا مگر اقوام متحدہ اوردنیا کے تمام انسانی حقوق کے ادارے اسرائیل کی اس جارحیت کو نہ روک سکے۔ 
امریکہ میں صدارتی انتخاب کے موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدے کیے کہ وہ یوکرین اور روس کے مابین جنگ بند کرائیں گے اور مڈل ایسٹ میں اسرائیل اور فلسطین کے مابین تنازع بھی حل کرائیں گے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے آج کے دن تک اپنے یہ وعدے پورے نہیں کیے۔ 

فلسطین پر اسرائیلی جارحیت:
غزہ کی مکمل تباہی کے بعد غزہ میں قیام امن کے نام پر امریکہ نے بورڈ آف پیس بنایا اس بورڈ میں اسرائیل کے سوا پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک شامل ہیں،پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھنگڑے ڈال کر خود کو امریکہ کا تابعدار اور وفادار ثابت کرتے رہے حتیٰ کہ انہوں نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا نام امن کے نوبل انعام کیلئے تجویز کردیا۔ میراسوال ہے کہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے لئے ایسا کونساکام کیا تھا؟ کیا ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی عوام کا قتل عام بند کرایا تھا؟ کیا انہوں نے غزہ سمیت فلسطین کے اسپتالوں، امدادی اورپناہ گزین کیمپوں پر بمباری رکوائی تھی؟ کیا انہوں نے یوکرین اور روس کی جنگ بند کرائی تھی؟ شہباز شریف نے ڈونلڈٹرمپ کا نام امن کے نوبل انعام کیلئے تجویز کرنے کا غیرشرعی کام کیوں کیا؟ بورڈ آف پیس تشکیل دیا گیا تو اس میں دونوں فریق اسرائیل اور فلسطین کو لازمی شامل کیاجانا چاہیے تھا لیکن بورڈ آف پیس میں اسرائیل کوتو شامل کیاگیا لیکن اس بورڈ میں فلسطین کا کوئی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ کیاپاکستان کے وزیراعظم نے اس لئے بھنگڑے ڈالے کہ بورڈ آف پیس میں فلسطین کے نمائندے کو شامل نہیں کیاگیا؟ اگر بورڈ آف پیس میں اہم فریق فلسطین کو شامل نہیں کیاگیا تھا تو ایسے بورڈ میں پاکستان کو شامل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 
امریکہ، برطانیہ، چائنا، روس، فرانس، انڈیا اورپاکستان ایٹمی طاقتیں ہیں جبکہ امریکہ، روس، چائنا، فرانس اور برطانیہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک ہیں جنہیں ویٹو کا حق بھی حاصل ہے جبکہ ایٹمی طاقت انڈیا اور پاکستان سیکوریٹی کونسل کے مستقل رکن نہیں ہیں اس کامطلب یہ ہے کہ موجودہ سیکوریٹی کونسل کی تشکیل متعصبانہ ہے۔  پاکستان پہلے برطانیہ اوربعدمیں امریکہ کی غلامی میں چلاگیا، اگرپاکستان آزادوخودمختار ملک ہوتا اور اپنی مرضی سے فیصلے کرتا تو ایک ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کا وزیراعظم بورڈآف پیس میں اہم فریق فلسطین کی شمولیت پر زور دیتالیکن ایسا نہ کرکے وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے ماتھے پر بے شرمی اوربے حیائی کاٹھپہ لگادیا۔

ایران اور اسرائیل وامریکہ جنگ:
ایران اور اسرائیل وامریکہ جنگ سے پہلے 6، فروری سے 27، فروری2026ء یعنی 21 دن تک ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات ہوتے رہے، ان مذاکرات میں ثالثی کاکام ایک آزادوخودمختارملک اومان نے کیا، مذاکرات میں ایران نے خطے میں امن کی خاطر امریکہ کا ایک ایک مطالبہ مان لیا کہ ہم ایٹمی بم نہیں بنائیں گے، کسی ملک پر حملہ نہیں کریں گے اور توانائی کے حصول کیلئے صرف 3 فیصد یورینیم افزودہ کریں گے،اس طرح  ایران نے اس غیرمنصفانہ معاہدے کوتسلیم کرلیا۔
امریکہ اور اسرائیل نے 27 فروری 2026ء تک ایران کو مذاکرات میں الجھائے رکھااوردوسری جانب ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کرتارہا، امریکہ کی اس سازش کو کوئی نہیں سمجھا، امریکہ سے طے پانے والے معاہدے پرایرانی قیادت کو اعتماد میں لینے کیلئے 28فروری کی صبح ساڑھے دس بجے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں اجلاس ہورہاتھاجس میں ایران کی حکومت،پاسداران انقلاب اورفوج کی40 سے زائد اعلیٰ شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کرکے آیت اللہ خامنہ ای سمیت 40 سے زائداعلیٰ شخصیات کو شہید کردیا۔ انسانی تاریخ میں بدعہدی کااس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ملتا۔ 
امریکہ اور اسرائیل سمجھ رہے تھے کہ آیت اللہ خامنہ ای اورایران کی اعلیٰ شخصیات کے قتل کے بعد ایران سرینڈر کردے گا لیکن اتنے بڑے سانحے کے باوجود ایرانی قوم نے متحد ہوکرہمت وبہادر ی کامظاہرہ کیا اورآج جنگ کا نواں دن ہے لیکن پابندیوں کا شکارایران کی نئی قیادت مؤثرحکمت عملی کے ساتھ انتظام حکومت چلارہی ہے جس پر انہیں سلام تحسین پیش کرتا ہوں۔ سوگ اور صدمے کی کیفیت سے باہر نکلنے کے بعداگلے ہی روز ایران نے جوابی حملے شروع کردیئے۔ امریکہ اوراسرائیل نے پہلے روز جارحیت کرتے ہوئے جہاں ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای اوران کی 40سے زائد اہم شخصیات کوشہید کیاوہیں ایرانی عوام کے اعصاب توڑنے کیلئے طالبات کے اسکول پربھی وحشیانہ بمباری کی جس کے نتیجے میں 168 سے زائد معصوم طالبات شہید ہوگئیں، ان معصوم بچیوں کی لاشوں کو ان کے بستوں اورکتابوں سے شناخت کیاگیا یہ المناک اور رقت انگیز مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ معصوم ایرانی بچیوں کو قتل کرنے والا امریکہ اوراسرائیل ہے جبکہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کانام نوبل انعام کیلئے تجویز کرنے کیلئے تڑپ رہے ہیں۔ 
میں سمجھتاہوں کہ اس وقت پوری ملت اسلامیہ میں اگرکوئی غیرتمنداورجرات وبہادری کے ساتھ ظلم اور جارحیت کے خلاف کھڑاہونے والاکوئی واحدملک ہے تووہ صرف ایران ہے۔ میں ایران اوراس کے عوام کی جرات، بہادری اورصبرواستقامت کوسلام پیش کرتاہوں۔ میں انڈونیشیا کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف احتجاجا ً بورڈ آف پیس سے علیحدگی کااعلان کردیا جبکہ پاکستان ان حملوں کی مذمت کرنے سے بھی گریز کررہاہے اورپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بے چین ہیں کہ امریکہ کا حکم ملے تو وہ ایران پر حملہ کردیں۔ اس وقت اسرائیل اورامریکہ کی مسلسل بمباری کے نتیجے میں ایران کے ہزاروں افرادشہید کئے جاچکے ہیں،اسرائیل اورامریکہ نے بمباری کرکے ایران کے پانی کے ذخائر کوزہرآلود کردیا ہے،آئل فیلڈپر بمباری کرکے پورے تہران کوآگ لگادی ہے،شہری آبادیوں کوتباہ کیاجارہاہے،شہروں پر آگ برسائی جارہی ہے، ایسی صورتحال میں حکومت پاکستان کو ایران پربلاجواز بمباری اورآگ برسانے کے عمل میں کسی بھی طرح امریکہ اور اسرائیل کاساتھ نہیں دینا چاہیے اور اگر حکومت پاکستان امریکہ اوراسرائیل کاساتھ دیتے ہوئے ایران پر حملہ کرنے کاتصوربھی کرے تو پاکستانی عوام کوچاہیے کہ وہ حکومت کوہرگز ایسانہ کرنے دیں۔
ایران نے امریکہ اوراسرائیل کے حملوں کے خلاف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پرجوجوابی حملے کئے ہیں اس پران خلیجی ممالک کی جانب سے یہ کہاجارہاہے کہ یہ حملے ان ممالک پرکئے گئے ہیں، ان خلیجی ممالک کوایران کے جوابی حملوں کی مذمت کرنے کے بجائے یہ سوچناچاہیے کہ انہوں نے اپنے ممالک میں امریکہ کوفوجی اڈے قائم کرنے دیے ہیں، ایران کی حملے انہی اڈوں پر کئے گئے ہیں،لہٰذا اس پر ایران کی مذمت کرنے کے بجائے اس بات کوضرور پیش نظررکھناچاہیے۔ 
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایران کے سپریم لیڈر اور علم کامنبع آیت اللہ خامنہ ای شہید سمیت تمام شہیدوں کے درجات بلند فرمائے، شہداء کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے اور مظلوم ایرانیوں کی غیب سے مدد فرمائے۔ آمین ثمہ
 آمین
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 386 ویں فکری نشست سے خطاب 
8، مارچ2026ء



3/9/2026 6:45:58 PM