اگر الطاف حسین کی عوامی مقبولیت پر کسی کو شک ہے تو کراچی اورحیدرآباد میں غیرجانبدارانہ ریفرنڈم کراکردیکھ لیں کہ سندھ کے شہری عوام کسے چاہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تحریکی ساتھیوں کوہمیشہ یہ ہدایت دی ہے کہ آپ کو کوئی بڑا عہدہ یا پوزیشن ملے تو اس طاقت کو خدا کاعطیہ سمجھو اور طاقت ملنے کے بعد خود کو زمین پرخدا نہ سمجھنے لگو۔
ایم کیوایم غریب اورمتوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے،جب لوگ ایم کیوایم میں شامل ہوئے تھے اس وقت ان کے گھروں کی حالت اور انکی ذاتی اورمالی حیثیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی؟ میں نے میرٹ کی بنیاد پر تعلیم یافتہ اور باصلاحیت کارکنوں کو ایم این اے، ایم پی اے بنایا،انہیں عہدوں کے ساتھ طاقت اوراختیارملا تو ان میں سے بعض افرادخودکو زمینی خدا بن بیٹھے، حتیٰ کہ ایم کیوایم، لفظ مہاجر، انتخابی نشان پتنگ کو دفن کرنے اورشہداء قبرستان پر تالے ڈالنے کے دعوے کرنے لگے کہ لیکن قدرت کا مکافات عمل دیکھئے کہ خود کوزمینی خدا سمجھنے والے جس ایم کیو ایم کے نام کودفن کرنے کا دعویٰ کیاکرتے تھے وہ آج ایم کیوایم میں دفن ہوگئے۔
ان لوگوں نے احسان فراموشی کامظاہرہ کرتے ہوئے مجھ پر طرح طرح کی بہتان تراشیاں کیں تاکہ کارکنان وعوام کو مجھ سے بدظن کیاجاسکے، اگر مجھ پرلگائے جانے والے بیہودہ الزامات اور بہتان سچے ہوتے تو جسمانی طورپرمیری 33 سال ملک سے دوری کے باوجود کیا عوام آج بھی میرے ساتھ ہوتے؟نئی نسل Gen Z جس نے نہ مجھے دیکھا، نہ میری تقاریر سنی ہیں اور نہ ہی میری فکری نشستیں اٹینڈ کی ہیں وہ بھی تمام ترمشکل دور کے باوجود میری تصاویر اٹھاتے ہیں اورمجھ سے عقیدت ومحبت کااظہار کرتے ہیں۔ اگر کسی کوشک ہے تو وہ غیرجانبدارانہ ریفرنڈم کراکر دیکھ لے کہ کراچی اورحیدرآباد سمیت سندھ کے شہروں کے عوام کسے چاہتے ہیں؟
جن لوگوں کو نام اور مقام مل گیا وہ بے غیرت اپنے ظرف وضمیرکاسودا کربیٹھے جبکہ سینئرکارکنان بوڑھے ہونے کے باوجود آج بھی میرے ساتھ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ Gen Z بھی میرے ساتھ ہے۔ عزت اورذلت دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس نے ظلم کیاہے اور کس نے ظلم سہا ہے۔بعض وی لاگرز یہ پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں کہ الطاف حسین کے خلاف بات کرنے والا غائب کردیاجاتا ہے، ایسے جھوٹے الزام لگانے والوں سے پوچھا جائے کہ اگر الطاف حسین اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کرتا تھا تو آفاق احمد اور عامرخان جیسے مخالفین آج تک کیسے زندہ ہیں؟
22، اگست2016ء کو جن لوگوں نے غداری کی اور شہیدوں کے لہو کاسودا کیا اورکھلے عام مجھے مغلظات بکیں، کیا وہ محفوظ رہ سکتے تھے؟ لیکن کیا کسی ایک بھی آدمی کو نقصان پہنچا؟ اگرمجھ پر الزامات جھوٹے نہ ہوتے تو الزام لگانے والوں کو عوام کی ہمدردیاں حاصل ہوتیں لیکن اللہ تعالیٰ نے خود فیصلہ کردیا اورآج اپنے آپ کو زمینی خدا سمجھنے والوں کی اوقات واضح ہوچکی ہے اورتمام تر سرپرستی کے باوجود وہ عوام کی حمایت سے محروم ہیں، ایم این ایز اور ایم پی ایز بننے کے باوجود وہ بغیربلٹ پروف گاڑیوں کے اپنے علاقوں میں عوام میں نہیں جاسکتے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 385 ویں فکری نشست سے خطاب
30، جنوری2026ء