میں پاکستان کے تمام بااختیارحکمرانوں خصوصی طورپرچیف آف آرمی اسٹاف جنرل حافظ عاصم منیر صاحب، تمام مسلح افواج کے سربراہان، آئی ایس ا ئی اورایم آئی کے چیفس، تمام کورکمانڈرز اور آپریشنل کمانڈرزصاحبان سے کہتاہوں کہ جس طرح ربڑ کوایک حد تک کھینچا جاسکتا ہے یعنی جس حد تک elasticity ہوتی ہے ، اس کے بعد وہ ٹوٹ جاتی ہے اسی طرح ہرچیز کی ایک حد ہوتی ہے، بلوچستان کی صورتحال بھی اس ربڑکی طرح ہوچکی ہے جسے اب مزید کھینچا نہیں جاسکتا،اب چاہے جتنی ہی سختیاں کرلی جائیں، صورتحال کوقابونہیں کیاجاسکتا۔ میں تمام ترجنگوں کا گہرائی سے جائزہ لینے کے بعد اپنے 46 سالہ تجربہ کی روشنی میں کہہ رہاہوں کہ اگر آج صحیح اور مثبت فیصلے نہیں کئے گئے تومجھے مستقبل میں بھیانک منظرنظرآرہا ہے، لہٰذا میں آپ تمام طاقتور اور بااختیار صاحبان سے دل کی گہرائیوں سے اپیل کرتاہوں کہ خدارااپنی اناؤں کی قربانی دیدیجئے ، طاقت کا استعمال بند کرکے مذاکرات کا آغاز کیجئے اورملک کوبچالیجئے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترمینگل کی جانب سے اپنے مطالبات کے لئے دودن کا الٹی میٹم دیاگیاجس کے بعد انہوں نے لکپاس سے کوئٹہ کی جانب لانگ مارچ کرنے کااعلان کیاہے،اگرچہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے چندلوگ سرداراخترمینگل سے بات چیت کے لئے گئے لیکن وہ بھی مطالبات کی منظوری کے لئے بے اختیارہیں۔سرداراخترمینگل سے بات چیت کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے، ان کے جائز مطالبات پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے، انہیں تسلیم کرتے ہوئے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تمام گرفتار خواتین ، بلوچ نوجوانوں اوربزرگوں کوفی الفوررہا کیا جائے، لاپتہ افرادکوبازیاب کیا جائے ۔ بلوچستان میں آپریشن فی الفور بند کردیاجائے، جینوئن لوگوں سے بات چیت کی جائے، خیبرپختونخوا میں ڈرون حملے بند کئے جائیں۔ خیبرپختونخواکی حکومت اور لوگوںکوحق دیاجائے تاکہ وہ اپنی حفاظت خود کرسکیں۔ میں یقین دلاتاہوں کہ اس سے فوج اورعوام میں پیداہونے والی دوریاں کم ہوںگی۔
میں بلوچ، پختون، دیگرعسکریت پسندوں یاجولوگ بھی غصے اور اشتعال میں ہیں ان سے بھی اپیل کرتاہوں کہ وہ بھی فائربندی کریں اوربات چیت کاآغازکریں۔
میں تمام بااختیارلوگوں سے کہتاہوں کہ یہ زخموں پر مرہم رکھنے کاوقت ہے، لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھیں، ملک کوبچانے کے لئے بات چیت کاراستہ اختیارکریں۔
الطاف حسین
فکری نشست 233 سے خطاب
یکم اپریل 2025ئ