Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کوغلامی کی ذلت آمیززندگی دیکرجاناہے یا آزادی کی باعزت زندگی دے کرجائیں۔الطاف حسین


 قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کوغلامی کی ذلت آمیززندگی دیکرجاناہے یا آزادی کی باعزت زندگی دے کرجائیں۔الطاف حسین
 Posted on: 11/23/2021

قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کوغلامی کی ذلت آمیززندگی دیکرجاناہے یا آزادی کی باعزت زندگی دے کرجائیں۔الطاف حسین
اگر سب ڈرکربیٹھ جائیںگے اورخوف کا شکار ہوجائیں گے توقوم کاکیاہوگا
اگر ہم محنت سے کام کرتے رہے توحالات کارخ تبدیل ہوناشروع ہوجائے گا
 ہمارے بزرگ مذہب کے نام پر دوقومی نظریہ کے نعرے میں آگئے جوایک دھوکہ تھا
ہمارے بزرگوں نے محنت کرکے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کوکھڑاکیا لیکن  انہیں ہرشعبہ سے انہیں دودھ کی مکھی کی طرح نکال کرپھینک دیاگیا
 الطاف حسین نے بکھرے ہوئے مہاجروںکوایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے
 کمزوروں اوربزدل لوگوںکوایک طاقت بنادیا
 الطاف حسین نے غریب ومتوسط طبقہ کے جن افراد کو ایوانوںمیںپہنچایاوہ  جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنے کے بجائے خود اس نظام کاحصہ بن گئے
 اگرارادہ نیک ، سچااورپختہ ہو تو منزل آسان ہوجایاکرتی ہے 
کارکنوںکوثابت قدمی ،وفاداری اورمحنت و لگن پر سلام تحسین پیش کرتاہوں
قائدتحریک الطاف حسین کاکراچی کے تیسرے سیکٹر میں کارکنوںسے خطاب

 
لندن … 23  نومبر 2021ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ وقت آگیاہے کہ قوم کے تمام افرادکو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کوغلامی اور ذلت ورسوائی کی زندگی دیکرجاناہے یاآزادی کی باعزت زندگی دے کرجائیں۔ انہوں نے ان خیالات اظہار کراچی کے ایک علاقے میں کارکنوںسے اپنے تیسرے خطاب میں کیا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ حق اورباطل کامعرکہ ازل سے جاری ہے ، جو حق کی راہ پر چلتے ہیںان کے راستے میں مشکلات آتی ہیں،کسی نے نہیں سوچاہوگاکہ جن علاقوںمیں ہمارے لاکھوںکے اجتماعات ہوتے تھے وہاں سناٹاہوگااورایسی ظلم وبربریت ہوگی کہ ہمارے وفا پرست ساتھیوںکااپنے گھروںپررہناناممکن بنادیا جائے گااوروہ ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنے سے قاصر ہوجائیںگے۔ یہ بھی قدرت کاامتحان ہے کہ جو لوگ تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود صبر کرتے ہیںاوراپنی جدوجہد سے باز نہیں آتے اوراپنی وفاکاپاس رکھتے ہوئے تحریک ، نظریہ اورمشن ومقصد کے وفاداررہتے ہیں ایسے ہی لوگ کامیابی اورفلاح پاتے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے آباؤاجداد ہزاروںسال سے نسل درنسل ہندوستان میں رہتے چلے آئے تھے لیکن ہمارے بزرگوںنے مذہب کے جذباتی نعروں میںآکراپنے اجداد کے وطن ہندوستان کوخیرباد کہہ دیااورپاکستان کی خاطر اپنے بزرگوں کی قبریں، یادگاریں ،جائیدادیں،اپناسب کچھ چھوڑ آئے ۔ ہمارے بزرگوں نے محنت کرکے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کوکھڑاکیا لیکن اس کاصلہ یہ ملاکہ انہیں پاکستان کے ہرشعبہ سے انہیں دودھ کی مکھی کی طرح نکال کرپھینک دیا گیا اور پھرپاکستان بنانے والے مہاجروںکاقتل عام شروع کردیاگیا، جنرل ایوب خان کے دورحکومت میں 1964ء میں کراچی کی مہاجربستیوں پر سرکاری سرپرستی میں حملے کئے گئے ، گھروں کوآگ لگائی گئی ، سول سروسز سے ہزاروں مہاجروں کو بیک جنبش قلم بیدخل کردیاگیا،مہاجروںپر روزگار کے دروازے بند کردیے گئے ، زندگی کے ہرشعبہ میں ان کے ساتھ دوسرے تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جانے لگا، مہاجرقوم اس قدر بزدل ہوچکی تھی کہ ان کے سامنے ان کی بہن بیٹیوںکو بسوں، ویگنوںاورسڑکوںپر توہین آمیز سلوک کانشانہ بنایاجاتا، ان کے بزرگوں کو مارا پیٹاجاتالیکن مہاجراس ظلم وبربریت کایہ مکروہ اورگھناؤناعمل دیکھ کرخاموش رہتے ، کوئی اس ظلم ،ناانصافیوںاورحق تلفیوں کے خلاف بولنے والا نہیں تھا، بالآخر  جبروگھٹن کے اس ماحول میںانہی میں سے اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو پیدا کیاکہ ان محروم ومحکوم مہاجروں کے حقوق کی جدوجہدکروجس کانام الطاف حسین ہے۔ انہوں نے کہاکہ 11جون 1978ء کو مہاجروں کے حقوق کے لئے آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن قائم کی گئی جس نے 18مارچ 1984ء کو ایم کیوایم کو جنم دیا، الطاف حسین نے بکھرے ہوئے مہاجروںکوایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے کمزوروں اوربزدل لوگوںکوایک طاقت بنادیااور ان کی جماعت ایم کیو ایم کوسندھ کی دوسری اورملک کی تیسری بڑی جماعت بنادیا۔ پھر کسی غیر کی مجال نہ ہوئی کہ ہماری ماں بہن بیٹی کوہاتھ لگانا تو کجا ان پر کوئی گندی نظرڈالنے کی جرات بھی کرسکے۔ اسٹیبلشمنٹ کی سازشوںسے تحریک کایہ عروج ختم ہوااسلئے نہیںکہ الطاف حسین نے کوئی گناہ کیاتھابلکہ اسلئے کہ الطاف حسین نے جھونپڑیوں اور کرائے کے چھوٹے مکانات میں رہنے والے غریب ومتوسط طبقہ کے افراد کو اقتدار کے ایوانوںمیںپہنچایاجنہوں نے جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کوختم کرنے کے لئے جدوجہد کرنے کے بجائے خود اس نظام کاحصہ بن گئے، جنہیں نہ اپنے باپ کی پہچان رہی،نہ شہداء کے لہوکاپاس رہا، شہداء کی بیواؤںاور یتیم بچوں کی تڑپ انکے لئے بے معنی ہوگئی اورلاپتہ اوراسیر ساتھیوں کے اہل خانہ سے لاپرواہی ان کی عادت بن گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 2015ء میں الطاف حسین پر پابندی لگادی گئی، ممتاز قانون داں محترمہ عاصمہ جہانگیر نے میرے کیس لڑنے کا فیصلہ کیاتو انہیں ایجنسیوںکی جانب سے دھمکیاںملناشروع ہوگئیں، جب وہ ان دھمکیوں میںنہ آئیںتواسٹیبلشمنٹ نے انہیںایک سازش کے تحت زہردیکرقتل کردیاگیا، ان کی موت طبعی نہیں تھی۔ ایسے لوگ بھی پنجاب کی سرزمین میں پیدا ہوئے جو ظلم وجبر اور اذیت برداشت کرتے رہے،جنہوں نے جان دیدی لیکن سچ کاراستہ نہیں چھوڑا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہمارے بزرگ مذہب کے نام پر دوقومی نظریہ کے نعرے میں آگئے جوکہ غلط اورایک دھوکہ تھاکہ ہندو الگ ہیں اورمسلمان الگ ہیں اورہندوستان کے مسلمانوںکے لئے الگ وطن چاہیے ۔ جب ان کے پاس وطن تھا تو وہ آزادی کامطالبہ کررہے تھے،حالانکہ وہ غلام نہیں تھے۔ انہوں نے 20لاکھ جانوں کی قربانیاں دیکروطن حاصل کرلیاتووہ سمجھے کہ انہیں آزادی مل گئی لیکن حقیقت میں وطن حاصل کرنے کے بعدوہ غلام بن گئے۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ قرآن مجید کی سورہ والعصرمیں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے کہ'' بے شک انسان خسارے میں ہے لیکن وہ لوگ نہیں جوایمان لائے ، جنہوں نے عمل صالح کئے ، جو حق کی تلقین کرتے رہے اورصبرکرتے رہے''۔ جو کسی حق اور سچ کے نظریہ پر ایمان لائے ، اس پر یقین کیااوراسے اپنے ذہن اوردل کی گہرائیو ں اورروح کی شفاف تہوں تک بسالیااوروہ کسی غلط عمل یابرائی میں نہیں پڑے، حق کی تبلیغ کرتے رہے، تمام ترمظالم اورمصائب برداشت کرتے رہے، صبرکرتے رہے ، ثابت قدم رہے اورحق کاراستہ نہ چھوڑا، ان کے لئے اللہ کے ہاں فلاح کاسامان ہے ۔انہوںنے کارکنوںکومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے بھی تمام جبروستم اور سخت حالات کے باوجودصبراورامیدکادامن نہیں چھوڑا، ڈٹے رہے اس کانتیجہ یہ نکلاکہ آج اتنی بڑی تعداد میںپانچ سال بعد ایک بارپھر جمع ہوگئے ہیں۔میں آپ کو اس ثابت قدمی اوروفاداری، لگن پر سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ مجھے امیدہے کہ آپ تحریکی کام کومزید بڑھائیںگے۔
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ قوم کے تمام افرادکو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کوغلامی اور ذلت ورسوائی کی زندگی دیکرجاناہے یاآزادی کی باعزت زندگی دے کرجائیں۔ اگرہم سب ڈرکربیٹھ جائیںگے اورخوف کا شکار ہوجائیں گے توقوم کاکیاہوگا۔ ہمیں اپنے بچوںکامستقبل کیسے بہتربناناہے۔ اگر ہم محنت سے کام کرتے رہے توحالات کارخ تبدیل ہوناشروع ہوجائے گا۔ انہوںنے کارکنوںسے کہاکہ یادرکھئے کہ اگرارادہ نیک ، سچااورپختہ ہو تو منزل آسان ہوجایاکرتی ہے بلکہ مل بھی جایاکرتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے آخر میں
 دعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہیدوںکی قربانیوں کے صدقے میرے ساتھیوں میں اورہمت عطافرما۔ 

٭٭٭٭٭



12/5/2021 4:09:41 AM