اگرقائدتحریک الطاف حسین کوقومی شناختی کار ڈکے بنیادی حق سے محروم رکھا گیا توان کے چاہنے والے
عوام اس زیادتی پرملک گیر احتجاج کریں گے جسے روکنا حکومت کے بس میں نہیں ہو گا
17 اپریل کودفترخارجہ کی ترجمان محترمہ تسنیم اسلم نے پریس بریفنگ میں بتایاتھاکہ الطاف حسین کی درخواست موصول ہوچکی ہے
آج نادرا اور محکمہ داخلہ کے حکام حیرت انگیزطورپر یہ جواب دے رہے ہیں کہ ان کے پاس قائدتحریک الطاف حسین کی درخواست کاکوئی ریکارڈ نہیں ہے
ہمیں یہ معلوم ہواہے کہ محکمہ داخلہ کے اعلیٰ حکام کو’’ اوپر‘‘ سے یہ ہدایت ہے کہ قائدتحریک الطاف حسین کو
ان کا شناختی کارڈ جاری نہ کیاجائے
قومی شناختی کارڈ سے محروم رکھ کرکوئی بھی قائدتحریک الطاف حسین سے ان کی پاکستانیت نہیں چھین سکتا
اگر قائدتحریک الطاف حسین پاکستانی نہیں توپھرکوئی بھی پاکستانی نہیں ہے۔رابطہ کمیٹی
صدرممنون حسین ، وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس معاملے کا فوری نوٹس لیں
قائدتحریک الطاف حسین کے قومی شناختی کارڈ کے اجراء کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں ،جوعناصربھی اس کےاجراء کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے
کراچی۔12مئی 2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے قائد تحریک جناب الطاف حسین کے اوورسیزپاکستانیوں کیلئے قومی شناختی کارڈ (نیکوپ )کے اجراء میں تاخیری حربے استعمال کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ قائدتحریک الطاف حسین کوان کے قومی شناختی کارڈ کے حق سے محروم رکھنا سراسرزیادتی ہے اوراگرقائدتحریک الطاف حسین کاقومی شناختی کارڈ بناکرنہیں دیاگیااورانہیں انکے اس بنیادی حق سے محروم رکھا گیا توایم کیوایم کے کارکنان اورقائدتحریک الطاف حسین کے چاہنے والے عوام اس زیادتی پرملک گیر احتجاج کریں گے جسے روکنا حکومت کے بس میں نہیں ہوگا۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہا کہ قومی شناختی کارڈ اورپاکستانی پاسپورٹ ہرپاکستانی کا بنیادی حق ہے ، اس کے حصول کیلئے قائد تحریک جناب الطاف حسین نے قومی شناختی کارڈنیکوپ( NICOP)کیلئے 4اپریل 2014ء کو باقاعدہ درخواست دی تھی تاکہ اس کے بعد پاسپورٹ بنایاجائے۔ اس سلسلے میں 4 اپریل2014ء کو برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کی موجودگی میں نادراکے عملے نے قائدتحریک الطاف حسین کی تصویر اور فنگرپرنٹس لئے ،فیس لی،قائدتحریک سے ان کا پرانا پاسپورٹ اورپرانے شناختی کارڈکی کاپیاں اور دیگرمطلوبہ تمام دستاویزات طلب کیں جوانہیں فراہم کی گئیں ۔ قائدتحریک الطاف حسین کے فارم کی تصدیق خودہائی کمشنر واجدشمس الحسن نے کی تھی۔نیکوپ کارڈ کیلئے تمام مطلوبہ قانونی تقاضے پورے کئے گئے تھے ۔ قائدتحریک الطاف حسین کی درخواست کی رسید بھی موجود ہے جس کا ٹوکن نمبر2 اورٹریکنگ آئی ڈی 503601007637 ہے ۔ 17 اپریل 2014ء کودفترخارجہ کی ترجمان محترمہ تسنیم اسلم نے اپنی ہفتہ وارپریس بریفنگ میں میڈیا کو بتایاکہ’’ جناب الطاف حسین کی درخواست موصول ہوچکی ہے اورہم نے وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے اوروزارت داخلہ نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیاہے‘‘ ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ نارمل درخواست پربھی شناختی کارڈ عموماً 2ہفتوں میں درخواست گزارکومل جاتا ہے لیکن قائد تحریک جناب الطاف حسین کوان کا قومی شناختی کارڈ پانچ ہفتے گزر جانے کے باوجود آج کے دن تک جاری نہیں کیا گیا ہے اوراب جبکہ ایم کیوایم کے ذمہ داران نیکوپ کارڈ کا اجراء نہ ہونے کے بارے میں معلوم کررہے ہیں تو نادرا اور محکمہ داخلہ کے حکام حیرت انگیزطورپر یہ جواب دے رہے ہیں کہ ان کے پاس جناب الطاف حسین کی درخواست کاکوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔مزیداستفسارپر ہمیں یہ معلوم ہواہے کہ محکمہ داخلہ کے اعلیٰ حکام کو’’ اوپر‘‘ سے یہ ہدایت ہے کہ قائدتحریک الطاف حسین کوان کا شناختی کارڈ جاری نہ کیاجائے۔ اس صورتحال سے صاف ظاہرہوتاہے کہ حکومت جان بوجھ کر قائد تحریک الطاف حسین کوان کاقومی شناختی کارڈجاری نہیں کرناچاہتی اوراس کیلئے اوچھے ہتھکنڈے اختیارکئے جارہے ہیں ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ قومی شناختی کارڈ ہرپاکستانی کابنیادی حق ہے اورقائدتحریک الطاف حسین کواس سے محروم ر کھنا انتہائی قابل مذمت ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہاکہ اگر قائدتحریک الطاف حسین پاکستانی نہیں توپھرکوئی بھی
پاکستانی نہیں ہے،قومی شناختی کارڈ سے محروم رکھ کرکوئی بھی قائدتحریک الطاف حسین سے ان کی پاکستانیت نہیں چھین سکتا۔ رابطہ کمیٹی نے صدرممنون حسین ، وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیاجائے اور جناب الطاف حسین کے قومی شناختی کارڈ کے اجراء کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں اورجوعناصربھی اس کے اجراء کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔