جنرل راحیل شریف براہ مہربانی 15 منٹ نکال کر مجھ سے بات کرلیں ،الطاف حسین
میں آپ کوپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کوبچانے کا فارمولا دوں گا ، الطاف حسین
تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کی بڑی بڑی ہستیوں کے نام تاریخ کے اوراق سے غائب کردیئے گئے، الطاف حسین
ایم کیوایم کے دفاتراور کارکنوں کے گھروں پر ہزاروں چھاپے مارے گئے لیکن پولیس یارینجرزسےہمارے کارکنوں کاکوئی مقابلہ نہیں ہوا ، الطاف حسین
جبکہ پولیس یارینجرز لیاری ، اتحاد ٹاؤن، منگھوپیر اور سہراب گوٹھ کے علاقوں میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کیلئے گئے توان کاکالعدم تنظیموں سے مقابلہ ہوا، الطاف حسین
میں نے نہ تو ملک کی سلامتی کے خلاف کوئی بات کی اورنہ ہی فوج کودھمکیاں دیں لیکنمجھ پر غلط الزامات لگاکرپابندیاں لگائی گئی ہیں، الطاف حسین
ہم پرچاہے کیسی ہی پابندیاں کیوں نہ عائدکردی جائیں لیکن ہم سر نہیں جھکائیں گے، الطاف حسین
لال قلعہ گراؤنڈ کراچی اور حیدرآباد میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس سے وڈیولنک کے ذریعہ خطاب
لندن۔۔۔12، ستمبر2015ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف سے درخواست کی ہے کہ براہ مہربانی 15 منٹ نکال کر مجھ سے بات کرلیں ، میں آپ کوپاکستان کوغیرمستحکم کرنے کا نہیں بلکہ پاکستان کوبچانے کا فارمولا دوں گا ۔یہ بات انہوں نے لال قلعہ گراؤنڈ کراچی اور حیدرآباد میں منعقدہ کارکنان کے اجلاس سے وڈیولنک کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وڈیو لنک کے ذریعہ جناب الطاف حسین کو دیکھتے ہی اجلاس کے شرکاء نے جناب الطاف حسین کا پرجوش استقبال کیااور کافی دیرتک فلک شگاف نعرے لگاکر ان سے والہانہ عقیدت ومحبت کا اظہارکیا۔
اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے تحریک پاکستان کے جید اکابرین اور زعماء کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ تحریک پاکستان ، برصغیر کے مسلم اقلیتی صوبوں کے زعماء نے چلائی اورپاکستان انہی جیداکابرین کی دن رات کی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا لیکن تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کی بڑی بڑی ہستیوں کے نام تاریخ کے اوراق سے غائب کردیئے گئے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ قوم کو تاریخی حقائق سے آگاہ کیاجاناچاہیے اور تاریخی حقائق کو مسخ نہیں کرناچاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کو اصل تاریخ سے آگاہی ہوسکے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی ٹاک شوز میں کہاجاتا ہے کہ الطاف حسین نے ایسے جملے کہے جنہیں دہرایا بھی نہیں جاسکتا اور اگرمیں کوئی بات نصیحت یا خوف خدا دلانے کی غرض سے کرتا ہوں تواسے دھمکی تصورکرلیاجاتا ہے جوکہ صریحاً غلط ہے ، اگر کسی کے سننے میں فرق آجائے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ جناب الطاف حسین نے گزشتہ دوروز کے دوران ایم کیوایم کے پانچ کارکنوں کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ 10 ستمبر کی شام کو مسلح دہشت گردوں نے گھر میں گھس کر ایم کیوایم کے کارکن آفتاب حسین کو شہید کردیا اور پھر جعلی مقابلے میں ایم کیوایم کے چارکارکنان محمد عدیل، زوہیب اللہ ، کاشف خلیل اور محمد شاہد کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا جنہیں اپریل اور مئی 2015ء میں گرفتارکیاگیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ ماورائے عدالت قتل پر ایم کیوایم کے بیان پر رینجرز کی جانب سے کہاگیا کہ متحدہ کا بیان جھوٹا ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ رینجرز والے جھوٹ بول رہے ہیں اور نہ یہ کہہ رہاہوں کہ میں صدفی صد سچ بول رہا ہوں ، اس حوالہ سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ عدالت میں ثابت ہوجائے گا لہٰذا اس پر میں کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں 25 برسوں سے لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں ، 19، جون1992ء کو جب ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کیاگیا تو کہاگیا کہ ایم کیوایم والوں کے پاس ایک لاکھ کلاشنکوفیں ہیں اور کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے آپریشن کیاجارہا ہے۔ اس آپریشن کے آغاز سے قبل یہ جھوٹ بول کر بہکایا گیا کہ یہ آپریشن 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف کیاجائے گا ، ایم کیوایم کی مرکزی کمیٹی کے رہنما اس بہکاوے میں آگئے لیکن واحد الطاف حسین تھا جو اس بہکاوے میں نہیں آیااورمیں نے واضح کردیا تھا کہ 72 بڑی مچھلیوں کے خلاف آپریشن کی بات محض ڈرامہ ہے ، ان بااثر مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کی کوئی جرات بھی نہیں کرے گا اور یہ آپریشن صرف اور صرف ایم کیوایم کے خلاف ہی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ میں نے گزشتہ دنوں اپنے خطاب میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار سے کہاتھا کہ اگر ان میں ہمت ہے تو وہ قومی اسمبلی میں ان 72 بڑی مچھلیوں کی فہرست دوبارہ پیش کریں ۔ انہوں نے شرکاء سے دریافت کیا کہ کیا چوہدری نثارعلی نے وہ فہرست قومی اسمبلی میں پیش کی؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر جواب دیا ’’ جی نہیں‘ ‘انہوں نے کہا کہ کیا 19، جون1992ء کے آپریشن میں حقیقی دہشت گردوں کو فوجی ٹرکوں پر بٹھاکرلایا گیااور ایم کیوایم کے تمام دفاترپر حقیقی دہشت گردوں کا قبضہ کرادیا گیاتھا جس پر میں نے تمام ساتھیوں کو ہدایت دی تھی کہ کوئی حقیقی دہشت گردوں کا سامنا نہ کرے اور جسے جہاں جگہ ملے وہ روپوشی میں چلے جائے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایم کیوایم پر ایک لاکھ کلاشنکوفوں کا الزام لگایاگیاتھا لیکن جس کے پاس ایک لاکھ کلاشنکوف ہوتیں کیا وہ روپوشی کا درس دیتا؟ انہوں نے سینئر کارکنان سے کہاکہ آپ قسمیہ بتائیں کہ 92 ء کے آپریشن سے 99ء میں نوازشریف کی دوسری حکومت کے خاتمہ تک ایم کیوایم کے کارکنان نے کسی ایک جگہ بھی فوج سے مزاحمت کی ؟جس پر سینئر کارکنان نے جواب دیا ’’بالکل نہیں‘‘